مطالعہ قرآن ، ایک فریضہ ایک ضرورت - ابن بشیر

اللہ تعالیٰ کی بے شمار حمدوثنا ہے جس نے ہمیں مسلمان بنایا اور حضرت محمد ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں وقتًاً فوقتاً مختلف قوموں میں انبیاء کرام ؑ مبعوث فرماۓ۔ جن کا مقصد اللہ تعالیٰ کا پیغام اللہ کے بندوں تک پہنچانا تھا۔اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی رہبری کے لیے کتابیں بھی نازل فرمائی اور صحیفے بھی عطا فرماۓ۔جیسے حضرت عیسیٰؑ پر انجیل حضرت داوٗدؑ پر زبور حضرت موسیٰؑ پر تورات حضرت ابراہیمؑ پر صحف ابراہیم اور اپنے آخری پیغمبر سرور کائنات جناب حضرت محمدﷺ پر قرآن نازل فرمایا۔

چونکہ انسان بشر ہے اور اس سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اس سے کسی بھی قسم کی غلطی سرزد ہوسکتی ہے۔ مگر ایک انسان کو ہمیشہ اس کوشش میں لگا رہنا چاہیے کہ اس سے کوئی غلطی سرزد نہ ہو چاہیے وہ ظاہری ہو یا پوشیدہ۔اور غلطی ہونے کے بعد اس کو فوراً اللہ کے حضور میں اپنا سر جکانا چاہیے اور اللہ سے معافی کی دعا کرنی چاہیے۔ غلطیوں سے دور رہنے کے لیے اور اچھی راہ اپنانے کے لیے بندہ ہر وقت اللہ سے یہ دعا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے بندے کو سکھایا ہے۔۔ سورہ الفاتحہ میں اے اللہ ہم کو سیدھی راہ دکھا(آیت نمبر 5) اسکے جواب میں اللہ تعالیٰ پورا قرآن مجید نازل فرماتا ہے۔۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سورة البقرہ میں یہ اللہ کی کتاب ہے ،اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لئے(البقرة: 2 ) گویا ایک انسان کو اپنی زندگی میں سدھار لانے کی لیے قرآن پاک کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو قیامت تک موجود رہے گی۔ ہماری زندگی کے تمام مسائل کا حل قرآن ہی ہے قرآن کا مطالعہ کرنے کے بعد ہمیں پھر کسی کے سامنے جکنے کی ضرورت نہیں ہے۔

یہاں تک کہ مطالعہ قرآن کرنے کے بعد ہم ناکارہ عمر تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔ ۔ عبدالله بن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسولﷺ نے فرمایا: جس نے قرآن کو پڑها،وه کبهی ناکاره عمر تک نہیں پہنچے گا – (صحیح الترغیب للالبانی،رقم الحدیث:1435)… چونکہ قرآن پاک ’’خاتم الکتب‘‘ ہے اور اس کے بعد قیامت تک کسی اور آسمانی کتاب کی ضرورت نہیں رہی۔ اس کی رحمت سے دنیا و آخرت دونوں جگمگا رہے ہیں۔ یہ کتاب ہر قسم کے شک و شبہے سے بالاتر ہے۔ قرآن پاک ایک ایسی کتاب ہے جس کو مطالعہ کرنے اور پھر عمل کرنے کے بعد انسان ہر کام میں کامیابی کی راہ پر گامزن ہوجایے گا۔ قرآن پاک ہی ایک ایسی کتاب ہے جو حق و باطل، سچ اور جھوٹ میں فرق پیدا کرتا ہے کیونکہ قرآن کا دوسرا نام ہی"الفرقان" ہے جس کے معنی "فرق کرنے والی کتاب" ہے۔ انسان چاہے گمراہی کر راستے پر کیوں نہ ہو قرآن کا مطالعہ کرنے کے بعد اسے ہدایت نصیب ہوگی کیونکہ قرآن اس بات کی گواہی خود پیش کرتا ہے۔ "انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے" (البقرہ 185) اس بات کو سمجھنے کے لیے حضرت عمرؓ کا واقع ملاحظہ فرمائیں۔

ایک دن جب حضرت عمرؓ جناب محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کی نیت سے تلوار لیکر نکل پڑے لیکن ابھی راستے ہی میں تھے کہ نُعیم بن عبداللہ الخام عدوی سے یا بنی زہرہ یا بنی مخزوم کے کسی آدمی سے ملاقات ہو گئی۔ اس نے تیور دیکھ کر پوچھا: عمر ! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے جا رہا ہوں۔ اس نے کہا محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرکے بنو ہاشم اور بنو زہرہ سے کیسے بچ سکو گے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: معلوم ہوتا ہے تم بھی اپنا پچھلا دین چھوڑ کر بے دین ہو چکے ہو۔ اس نے کہا عمر! ایک عجیب بات نہ بتا دوں! تمہارے بہن بہنوئی بھی تمہارا پچھلا دین چھوڑ کر بے دین ہو چکے ہیں۔ یہ سن کر عمر غصّے سے بے قابو ہو گئے اور سیدھے بہن بہنوئی کا رخ کیا۔ وہاں انہیں حضرت خبّاب بن ارت رضی اللہ عنہ سورہ طہٰ پر مبنی ایک صحیفہ پڑھا رہے تھے اور قران پڑھانے کے لئے وہاں آنا جانا حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ کا معمول تھا۔ جب حضرت خبّاب نے حضرت عمر کی آہٹ سنی تو گھر کے اندر چھپ گئے۔ ادھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بہن نے صحیفہ چھپا دیا؛ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھر کے قریب پہنچ کر حضرت خبّاب کی قراءت سن چکے تھے؛ چنانچہ پوچھا یہ کیسی دھیمی دھیمی سی آواز تھی جو تم لوگوں کے پاس میں نے سنی تھی؟

انہوں نے کہا کچھ بھی نہیں، بس ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: غالبا" تم دونوں بے دین ہو چکے ہو؟ بہنوئی نے کہا: اچھا عمر! یہ بتاؤ! اگر حق تمہارے دین کے بجائے کسی اور دین میں ہو تو؟ حضرت عمر کا یہ سننا تھا کہ اپنے بہنوئی پر چڑھ بیٹھے اور انہیں بری طرح کچل دیا۔ انکی بہن نے لپک کر انہیں اپنے شوہر سے الگ کیا تو بہن کو ایسا چانٹا مارا کہ چہرہ خون آلود ہو گیا۔ابن اسحٰق کی روایت ہے کہ ان کے سر میں چوٹ آئی۔بہن نے جوش غضب میں کہا: عمر! اگر تیرے دین کے بجائے دوسرا دین ہی برحق ہو تو؟ میں شہادت دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں شہادت دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر مایوسی کے بادل چھا گئے اور انہیں اپنی بہن کے چہرے پر خون دیکھ کر شرم و ندامت محسوس ہوئی، کہنے لگے؛ اچھا یہ کتاب جو تمہارے پاس ہے ذرا مجھے بھی پڑھنے کو دو۔ بہن نے کہا!" تم ناپاک ہو" اس کتاب کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ اٹھو غسل کرو۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر غسل کیا پھر کتاب لی اور "بسم اللہ الرحمن الرحيم" پڑھی۔ کہنے لگے یہ تو بڑے پاکیزہ نام ہیں۔ اس کے بعد سورۃ طہٰ کی تلاوت کی اور کہنے لگے : "یہ تو بڑا عمدہ اور بڑا محترم کلام ہے۔ مجھے محمّدﷺ کا پتہ بتاؤ!۔ اور پھر محمدﷺکی خدمت میں حاضر ہوے اور اسلام قبول کیا۔ گویا قرآن پاک کی تلاوت سے حضرت عمرؓ گمراہی کے راستے سے نیکی کی راہ پر گامزن ہوے۔ مگر افسوس! آج ہم نے قرآن پاک کو مظلوم بنایا ہے۔ ہم قرآن کے نام پر تو جلسے منعقدکرتے ہیں، ہم اپنے جلسوں کی رونق کے لیے اسے تو پڑھتے ہیں، ہم بیماروں کی شفا کے لیے اسے تو تعویز بناتے ہیں، ہم اسےخوبصورت غلافوں میں بند کرکے طاقوں پر تو سجاتے ہیں لیکن اس پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ بقول ماہر القادری؎ "طاقوں پے سجایا جاتا ہوں آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں تعویز بنایا جاتا ہوں دھو دھو کے پلایا جاتا ہوں" قرآن پاک ہی ہمارا سچا اور وفادار دوست ہے یہ ایک ایسا ہم سفر ہے جو ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ دنیا ، قبر اور میدان محشر میں ہر جگہ بھر پور ساتھ دیتا ہے ۔ اس پر عمل پیرا ہونے سے پستی بلندی میں، جہالت علم میں، اندھیرا اجالے میں اور زوال عروج میں بدل جاتا ہے۔ یہ ایسا شفیع ہے جس کی شفاعت قبول کی جائے گی ۔ حضر ت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا۔ ’’ قرآن مجید پڑھا کرو یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفاعت کرنے والا بن کر آئے گا۔‘‘ (صحیح مسلم) ۔

قیامت کے دن بھی قرآن پڑھنے والے کی شان نرالی ہوگی، اس کی عزت و احترام کا منظر خود جناب محمدﷺ نے یوں بیان فرمایا۔ ’’ روز قیامت صاحب قرآن (قرآن پڑھنے والا اور عمل کرنے والا) آئے گا تو قرآن کہے گا: اے رب ! اسے زیور پہنا، تو صاحب قرآن کو عزت کا تاج پہنا یا جائے گا۔ قرآن پھر کہے گا: اے میرے رب! اسے اور بھی پہنا، تو اسے عزت و بزرگی کا لباس پہنا دیا جائے گا۔ پھر کہے گا: اے میرے مولا! اب اس سے راضی ہو جا( اس کی تمام خطائیں معاف کردے ) تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے گا اور اس سے کہا جائے گا، قرآن پڑھتا جا اور( جنت کے زینے چڑھتا جا اور اللہ تعالیٰ ہر آیت کے بدلے میں اس کی نیکی بڑھاتا جاتا جائے گا۔‘‘ ( ترمذی، کتاب فضائل القرآن) اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم تو عالم نہیں ہے ہم قرآن کیسے پڑھ سکھتے ہیں اور اسکو کیسے سمجھ سکھتے ہیں اس کے لیے تو 14 علوم کی ضرورت ہے۔ مگر ان کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ اور ہم بے شک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کر دیا۔ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟ (القمر 17)، اب اگر موجودہ دور کی بات کریں امت مسلمہ ہر طرف سے مشکلات، آزمائیشوں میں مبتلا ہے۔ مسلمان در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔

حیا کا دن بہ دن خاتمہ ہوتا جا رہا ہے، ہم پر ظالم حکمرآن مسلط ہوتے جارہے ہیں، معاشرے میں بے راہ روی اور فحاشی کا بازار گرم ہوتا جارہا ہے، باطل طاقتور ہوتا جا رہا ہے اور مسلمان کمزور ہوتا جارہا ہے ۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو چھوڑا ہے۔ ہم نے رسولﷺ کی سیرت کو چھوڑا ۔ مغرب نے قرآن کی تعلیمات سے ترقی حاصل کی ہے اور ہم قرآن کی وجہ سے زوال پزیر ہورہے ہیں ۔مسلمانو! سائنس قرآن پاک سے نکلا ہے نہ کہ قرآن سائنس سے نکلا ہے۔قرآن کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی ہم ترقی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں معاشرے میں جو اخلاقی بگاڑ ہے اس کی وجہ مغربی تہذیب ہے اور ہم بھی اسی کو ذمہدار ٹھراتے ہیں مگر یہ ہماری غلط فہمی ہے اگر ہم نے قرآن و حدیث کو مضبوطی کے ساتھ تھام لیا ہوتا تو آج ہم مغربی تہذیب کے شکار نہ ہوتے۔ ہم سوسیٹی کو ذمہ دار ٹھراتے ہیں مگر سوسیٹی کو تباہ کرنے والے ہم ہی ہیں۔ معاشرے میں سدھار لانے کے لیے ہمیں قرآن کا مطالعہ کرنا ہوگا اور قرآن پاک کی ہدایات کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کرنی ہوگی ۔اسی میں ہمارے لیے بھلائی ہوگی۔ قرآن پاک کا مطالعہ کرنے کے بعد ہمیں دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرنی ہوگی۔ احادیث مبارکہ میں قرآن مجید سیکھنے اور سکھانے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کر تے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا: ’’ جب بھی کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر (مسجد) میں اکٹھے ہو کر دوسروں کو پڑھاتے ہیں، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے اور رحمت الٰہی انہیں اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور فرشتے ان پر سایہ فگن ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا تذکرہ اپنے پاس موجود مخلوق میں کرتا ہے۔‘‘ کر تے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا: ’’ جب بھی کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر (مسجد) میں اکٹھے ہو کر دوسروں کو پڑھاتے ہیں، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے اور رحمت الٰہی انہیں اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور فرشتے ان پر سایہ فگن ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا تذکرہ اپنے پاس موجود مخلوق میں کرتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم) جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ عظمت و برکت، ہدایت و نور اور شفاء و رحمت والی کتاب عطا فرمائی ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اسے محبت سے پڑھیں، پڑھنا نہیں جانتے تو پڑھنا سیکھیں اور سیکھنے میں کسی قسم کی جھجک محسوس نہ کریں۔ پڑھنا سیکھ لیں تو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ قرآن مجید کا ترجمہ پڑھیں اور اسے سمجھ کر اس کے مطابق عمل کریں تاکہ دنیا و آخرت کی کام یابی حاصل ہو سکے۔ یہ ہماری نجات کا ذریعہ ہے۔ اس مختصر زندگی کو غنیمت جاننے اور وقت نکال کر اس عظیم کام کا آغاز آج ہی سے کیجیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ آمین