نسل کی حفاظت: نیک نسل، پرامن مستقبل

گذشتہ کچھ دنوں سے عالمی میڈیا، اور ترکی میں ہم جنس پرستی، اور مرد وعورت کی اپنی صنفی خصوصیات میں تبدیلی کے حوالے ایک شور مچا ہوا ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ترکی کے ادارہ برائے مذہبی امور کی طرف سے مرتب کردہ یہ خطبہ جمعہ 5 جولائی کو ترکی کی تمام مساجد میں پڑھا گیا۔ (ترجمہ : انعام الحق)

قابل احترام مسلمانو! میں نے جو آیت تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالی یوں ارشاد فرماتے ہیں: "اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا، اور تمہیں گروہوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو! بےشک تم میں سے زیادہ تقوی والا، اللہ کے ہاں زیادہ عزت والا ہے۔ بےشک اللہ علم رکھنے والا، باخبر ہے۔" (الحجرات، ۴۹: ۱۳) جو حدیث شریف پڑھی ہے، اس میں پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم یوں ارشاد فرماتے ہیں: "اے مسلمانو! یہ ذوالحجہ کا مہینہ، یہ مکے کا شہر، یہ عید قربان جس طرح قابل احترام ہے، تمہارا خوان، تمہارا مال، اور تمہاری عزتیں اسی طرح محترم ہیں۔" (صحیح بخاری، علم)

عزیر مؤمنو! انسان، اللہ تعالی کے مقرر کردہ وقت، اس کے طرف سے نصیب کیے گئے ماں باپ، اور اسی طرح اس کی منتخب کردہ صنفی پہچان (جنس) کے ساتھ دنیا میں آتا ہے۔ انسانوں کا عورت اور مرد کی صورت میں علیحدہ علیحدہ صنفوں میں پیدا ہونا، اللہ تعالی کے موجود ہونے، اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ کیونکہ اللہ ہی، حضرت آدم و حوا سے لے کر آج تک عورت اور مرد کو ایک دوسرے سے مختلف صلاحیتیں اور فضلیتیں دینے والا، ان کو ایک دوسرے کا جوڑا بنانے والا اور ان کی نسل کو بڑھانے والا ہے۔ اللہ کا فیصلہ اور اس کا اٹل قانون ہونے کی وجہ سے، انسانوں کے مرد و عورت کی صورت میں پیدا ہونے میں کتنی ہی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ اللہ کا بندہ ہونے کی وجہ سے ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اس کے فیصلے کا احترام کریں، ان دونوں صنفوں (عورت و مرد) کی عزت کریں، اور ان کے درمیان انصاف اور رحم دلی کا رویہ قائم کریں۔

قابل قدر مسلمانو! ہمارا رب ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اپنی پیدائش کی حکمت، انسانی حیثیت اور شرف کے مناسب زندگی گذاریں۔ وہ ہمیں شادی کر کے اپناگھر بسانے، صاحب ایمان اور صالح نسل کی افزائش کا حکم دیتا ہے۔ اپنی نسل کی حفاظت، اور اپنے مستقبل کی فکر کرنا، ایک بندہ مؤمن ہونے کی حیثیت سے ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ نسل کی حفاظت کم از کم جان و مال کی حفاظت کی طرح اہمیت کی حامل اور ناقابل دست درازی ہے۔ ہماری عفت، ہماری حیثیت، اور جائز دائرے میں جینے کی کوشش ایک مقدس عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   صدر ایردوان کی طرف سے بورس جانسن کے لیے تہنیتی پیغام

قابل احترام مومنو! عورت اور مرد کی عفت، عزت اور حقوق کی حفاظت کرنے کا سب سے اہم ادارہ گھرانہ ہے۔گھریلو زندگی ہمارے درمیان اعتماد اور اطمینان کے جال بنتی ہے۔ خاندان کو نظرانداز کرنے والی، اور اس کی ساخت کو نقصان پہنچانے والی ہر سوچ، ہر عمل درحقیقت معاشرے کے تعلقات کو نشانے پر لیے ہوئے ہے۔ کسی معاشرے کے پرامید مستقبل کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ شادی کے قابل نوجوان اپنا گھر بسائیں اور اکھٹے رہنے کی جائز صورت کو اختیار کریں۔ اس لیے کہ گھرانہ نسل انسانی کو صحت مند شکل میں آگے بڑھانے، اور ایک مہذب زندگی گذارنے کے لیے سب سے قدیم، اور گہری جڑیں رکھنے والا مرکز، اور سب سے مضبوط قلعہ ہے۔

عزیز مسلمانو! نکاح اللہ کے حکم اور فرمان رسول کی روشنی میں طے پانے والا سب سے مقدس معاہدہ ہے۔ نکاح عورت اور مرد کے لیے خوشی کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ شادی کے بغیر ساتھ رہنے کے تمام راستے، اور جنسی آزادی کے نام پر پھیلائے جانے والے آزادانہ تعلقات (قربت) عورت اور مرد دونوں کی عزت اور حقوق کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ جائز اور قابل اعتبار نکاح کے بغیر ساتھ رہنے کا تصور اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ اور حرام راستے میں کبھی بھی بھلائی نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ حرام ہمیشہ دھوکا باز، تخریب کار، فرد اور معاشرے کے لیے بربادی کا باعث ہے۔

قابل قدر مسلمانو! ہمارے نسب، ہمارے رنگ، اور عمر کی طرح ہماری جنس بھی اللہ کی طرف سے مقرر کردہ ہے۔ فطرت کے رازوں (Codes) سے کھیلنا، پیدائش سے انسان کے ساتھ رہنے والی خصوصیات کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنا سنت اللہ (اللہ کی اٹل قانون )کے مخالف ہے۔ جنس میں تبدیلی کرنے والے، اور جنس کو نظر انداز کرنے کی طرف دعوت دینے والے صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے معاشرے کی تباہی کا سامان کرتے ہیں۔ جنس کی تبدیلی کو ذاتی آزادی کے دائرہ میں دکھا کر الہی فیصلے کو نظر انداز کرنا، حد سے تجاوز کرنا اور اللہ کی بندگی سے اعراض کرنا ہے۔ تاریخ انسانی میں تمام نظریات نے اس جیسی فکروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی نے قطر میں نئے فوجی اڈے کی تعمیر شروع کردی

قابل احترام مؤمنو! قوموں کو برقرار رکھنے والی چیز ان کا دین اور اخلاقی اقدار ہیں۔ ان اقدار کو نظرانداز کرنے سے معاشرے کی بربادی شروع ہوتی ہے اور مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے۔ وحی کے ذریعے آنے والی ہدایت سے روگردانی کرنے والی، اور اخلاقی گمراہیوں میں پڑنی والی کئی قوموں کی ہلاکت کے قصے ہمارے رب نے ہمیں بتائے ہیں۔ قرآن کریم میں پاکیزہ فطرت کی خلاف ورزی کرنے والی قوم کے لیے حضرت لوط علیہ السلام کی پکار کو یوں بیان کیا ہے: "اور لوط نے جب اپنی قوم سے کہا کہ: کیا تم ایسی بےحیائی کرتے ہو جس کو جہان میں تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا تو تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کی طرف شہوت سے بڑھتے ہو۔ بلکہ تم حد سے گذر جانے والے ہو۔" (اعراف ۷: ۸۰، ۸۱)

عزیز مؤمنو! آئیے گمراہی میں پڑنے والی، اور سرکشی کرنے والے ان قوموں کے انجام سے عبرت لیں! فطرت کے مناسب اور پاکیزہ زندگی گذارنے کی کوشش کریں! اپنی جانوں کی حفاظت کی طرح انسانی شرف، اور اپنی حیثیت کو اہمیت دیتے ہوئے اس کی حفاظت کریں! عورت اور مرد کی عزت کو نقصان پہنچانے والی تمام انتہاؤں سے بچیں! اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کو ان کے حق کے مطابق اہمیت دیں!

ایک نیک اور صالح نسل کی پرورش کا راستہ یہی ہے کہ ہم اپنے بچوں اور نوجوانوں میں ان گمراہ کن نظریات خلاف تربیت کریں، ان میں آگہی پیدا کریں، اور ان کی حفاظت کریں۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے، اس کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔