’’آرزو اور انتظار‘‘ کے چار برسوں میں ہمیں گھبرانا نہیں- نصرت جاوید

لکھنا مجھے کسی اور موضوع پہ تھا۔ منگل کی صبح اخبارات کا پلندہ اُٹھا کر مگر شہ سرخیوں پر سرسری نظر ڈالی تو دل منیر نیازی کے شعر والے لہو سے بھر گیا۔

پیر کے روز IMFنے ایک نئی رپورٹ جاری کی ہے۔ اسے اپنے تئیں پڑھ کر علم معاشیات سے مجھ ایسا نابلند شخص آپ کو آسان زبان میں بیان نہیں کر سکتا۔ ان ساتھیوں کے مضامین سے رجوع کرنا ہو گا جو ملکی معیشت کے بارے میں تواتر سے لکھتے رہتے ہیں۔ اس کے لئے وقت درکار ہے۔ فوری طور پر دل جو دہلا تو اس کی وجہ IMFکا یہ دعویٰ تھا کہ حکومتِ پاکستان نے ابھی بھی بجلی کے نرخ اس حد تک نہیں بڑھائے جو صارفین سے فی یونٹ وہ رقم وصول کریں جو حکومت بجلی پیدا کرنے والوں کو ادا کرتی ہے۔ IMFاس عمل کو Cost Recoveryکہتا ہے۔ یہ اصطلاح میرے اور آپ جیسا عام صارف سنے تو ککھ پلے نہیں پڑتا۔ صدیوں سے اشرافیہ کا یہ چلن رہا ہے کہ وہ سرکاری /درباری کاموں کے لئے ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جو ذلتوں کی ماری خلقِ خدا سمجھ ہی نہیں سکتی۔

مثال کے طورپر ہم میں سے اکثر بہت فخر سے سینہ پھلا کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے 800برس تک ہندوستان پر راج کیا۔ مسلمانوں کا ذکر ہو تو گماں ہوتا ہے کہ ان کے دربار کی زبان عربی ہو گی۔ ’’ہمارے‘‘ سلاطین و بادشاہوں کے درباروں میں لیکن سرکاری خط وکتابت فارسی زبان میں ہوتی تھی۔ گھروں میں اگرچہ یہ سلاطین و بادشاہ ترکی زبان کے مختلف لہجوں میں گفتگو کرتے تھے۔ مغل سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر نے اپنی ’’توزک‘‘ بھی ترکی ہی میں لکھی۔

یورپ کے درباروں میں لاطینی زبان کا استعمال ہوتا۔ ریگ وید وغیرہ ہندوئوں کی ’’الہامی‘‘ کتابیں ہیں۔ وہ سنسکرت میں لکھی گئی ہیں۔ اس زبان کو فقط برہمن اور بتدریج اونچی ذات والے ہی استعمال کر سکتے تھے۔ کوئی شودر اگر اس زبان کو سن لیتا تو اس کے کانوں میں سزا کے طور پر سیسہ بھروا دیا جاتا تھا۔ حساب کتاب کی زبان بھی اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کے لئے اجنبی رہی۔ لاہور کا ایک بازار ہے ’’لنڈا‘‘۔ گزشتہ کئی برسوں سے یہاں مشنریوں کے بھیجے کپڑے بکتے ہیں۔ انہیں استعمال کرنے کے بعد امریکہ اور یورپ کے خوش حال لوگ خیراتی کاموں کے لئے دان کر دیتے ہیں۔ ہمارے متوسط طبقے کو اس کی بدولت سردیوں میں پہننے کو کوٹ وغیرہ مل جاتے ہیں۔ ’’لنڈا‘‘ جہاں لام کے اوپر پیش ہے مگر وہ خاص زبان ہے جو بہی کھاتے لکھنے کے لئے استعمال ہوتی تھی۔ اس زبان کا اثر میں نے بچپن میں سنا ہے۔ میرے شہر لاہور میں ’’دڑے‘‘ کے نام سے ایک جوا ہوتا تھا۔ یہ عام آدمی کا ’’سٹہ‘‘ تھا۔ آپ کوئی نمبر لگاتے تھے۔

کس کا نمبر ’’جیتا‘‘ اس کا پتہ اس وقت چلتا جب کراچی میں چھپے اخبار جہاز کی بدولت لاہور آ جاتے۔ روزنامہ ’’انجام‘‘ لنڈا بازار میں ان دنوں سب سے زیادہ مقبول ہوا کرتا تھا۔ اس کے صفحہ اوّل پر کراچی سٹاک ایکس چینج میں گزشتہ روز کپاس جس نرخ پر بکی یا آئندہ کے لئے ’’بک‘‘ ہوئی اسے نمایاں کر کے چھاپا جاتا تھا۔ اعشاریے کے بعد آئے نمبر ’’دڑے‘‘ کی ’’جیت‘‘ کا اعلان کرتے تھے۔ یہ نمبر مگر اس طرح نہیں بولے جاتے تھے جیسے میں اور آپ عام زبان میں بولتے ہیں۔ مثال کے طور پر 132.95لکھا ہو توہم اسے 132اعشاریہ نو پانچ پڑھیں گے۔ ’’دڑا‘‘ کھیلنے والے نو پانچ نہیں کچھ اور کہتے تھے۔ ان میں سے مجھے صرف دو اعداد یاد ہیں۔ ایک ہوتا تھا ’’منڈا‘‘ جسے میں ’’لڑکا‘‘ سمجھتا رہا اور ایک ہوتا تھا ’’بندی‘‘۔

میرا خیال ہے کہ ’’بندی‘‘ کا مطلب صفر یعنی زیرو ہوتا تھا۔ ’’منڈا‘‘ کون سے عدد کے لئے استعمال ہوتا تھا میں جان نہیں پایا۔ لنڈا بازار میں ایک باریش بزرگ تھے جو میرے والد مرحوم کے قریبی دوست بھی تھے۔ ایک بار ان سے معلوم کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ ایک دوکان کے باہر دری بچھا کر رفوگیری کرتے تھے۔ مجھے شبہ ہے کہ ’’دڑا‘‘ لگانے والا ایک ’’Casino‘‘بھی ان کی دری تھی کیونکہ ’’انجام‘‘ جیسے ہی ان کی دری تک پہنچتا وہاں لوگو ں کا جمگھٹا لگ جاتا۔ مجھے بسااوقات ’’اگراہی ‘‘ کے لئے اس بازار جانا ہوتا تھا۔ یہ بزرگ بہت شفیق تھے۔ مجھ سے ’’انجام‘‘ اخبار میں چھپی خبریں اور مضامین سناکرتے۔ ایک دن تجسس کے مارے ’’منڈا‘‘ اور ’’بندی‘‘ کا ان سے مطلب جاننا چاہا تو انہوں نے اسے ’’براکام‘‘ بتاتے ہوئے اپنے کام سے کام رکھنے کا مشورہ دیا۔

Cost Recoveryجیسی اصطلاعات بھی ’’منڈا‘‘ اور ’’بندی‘‘ جیسی زبان کی نشانیاں ہیں۔ لکھے مُو سا پڑھے خود آ والا معاملہ ہے۔ دورِ حاضر کی ’’سنسکرت‘‘ یا ’’لنڈا‘‘ زبان سے قطعی نابلد ہوتے ہوئے بھی میں اگرچہ Cost Recoveryکا مطلب جان گیا ہوں۔ IMFمختصراََ پاکستان میں ابھی تک عائد ہوئے بجلی کے نرخوں سے مطمئن نہیں۔ اگست میں ہماری بہت ہی ’’خودمختار‘‘ اور میرے اور آپ کے ووٹوں سے منتخب ہونے کی دعوے دار حکومت لہٰذا بجلی کے نرخ بڑھانے کو مجبور ہو گی۔ اگست کا ذکر اس لئے کر رہا ہوں کیونکہ پاکستان کو ایک ارب ڈالر فراہم کرنے کے بعد IMFکا وفد اب ستمبر کے مہینے میں یہ دیکھنے پاکستان آئے گا کہ جولائی سے ستمبر تک حکومتِ پاکستان نے Taxاور دوسرے ذرائع سے وہ رقم حاصل کی یا نہیں جس کا IMFسے بیل آئوٹ پیکیج لیتے ہوئے وعدہ کیا گیا تھا۔

IMFنے ہمیں 6ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ رقم یکمشت فراہم نہیں ہونی۔ قسطوں میں ادا کی جائے گی۔ ہماری حکومت کو بقیہ رقم لینے کے لئے ہر تین ماہ بعد IMFکو اپنے کھاتے کھول کر دکھانا ہو گا کہ ٹیکسوں وغیرہ کے ضمن میں وہ رقم اکٹھی کی جا رہی ہے یا نہیں جس کا IMFکو یقین دلایا گیا ہے۔ بجلی اور گیس کے نرخوں کے حوالے سے Cost Recovery بھی ضروری ہے اور یہ سلسلہ 39مہینوں تک جاری رہے گا۔ آسان لفظوں میں جان لیں کہ جولائی 2019سے ستمبر 2022 تک IMFکا ’’منڈا اور بندی‘‘ والا عذاب نازل رہنا ہے۔ عمران حکومت نے اگست 2018میں اقتدار سنبھالا تھا۔ ستمبر2023میں آئندہ انتخابات کے لئے نگران حکومت کا قیام آئینی اعتبار سے ضروری ہو گا۔ مختصراََ عمران حکومت کو معاشی اعتبار سے اپنے فیصلے کرنے والی ’’خودمختاری‘‘ فقط ایک سال تک نصیب ہو گی۔ ’’فرصتِ گناہ‘‘ کے چار دن نہیں پورے چار برس میں سے دو آرزو میں کٹ جائیں گے اور دو انتظار میں۔ آرزو اور انتظار کے ان چار برسوں میں لیکن ہمیں گھبرانا نہیں ہے۔

میرے اور آپ کی تسلی کے لئے گزشتہ دس برسوں میں باریاں لینے والے ’’چور اور لٹیرے‘‘ اس دوران جیلوں میں جاچکے ہیں یا پہنچ چکے ہوں گے۔ راولپنڈی کے بقراطِ عصر نے پیش گوئی فرما دی ہے کہ طویل مدت کے لئے جیل بھیجے ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ میں سے کئی افراد کی آئندہ برسوں میں لاشیں ہی وہاں سے آئیں گی۔ وہ انہیں زندہ سلامت جیل کے پھاٹک سے وکٹری کے نشان بنا کر رہا ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ ’’چور اور لٹیرے‘‘ تو جیلوں میں چلے گئے یا چلے جائیں گے۔ جیل سے باہر میرے اور آپ جیسے ذلتوں کے مارے مشقتی مگر پنکھوں کے بغیر حبس کے موسموں سے کیسے نبردآزما ہوں گے۔ گرمیاں ختم ہوئیں تو سردیوں میں گیزر استعمال کرنا ہو گا۔ جی ہاں وہی گیزر جسے غلام سرور خان نے گزشتہ سردیوں میں ’’عیاشی‘‘ قرار دیا تھا۔