کھلواڑ بنا کھیل- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

پاکستانی سیاست کتنی ڈرپوک اور کتنی بہادر ہے۔ میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔ دو چار د ن سے ایک ٹیپ میں گفتگو کو سکینڈل کر کے دہائی دی جا رہی ہے۔ یہ دہائی کسی رہائی کے لیے ہے اور ہماری زندگی دہائی اور رہائی کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ زندگی درندگی ہے یا شرمندگی ہے۔ سیاستدان چیخ و پکار کو سیاست بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عدلیہ کو بھی سیاست میں گھسیٹا جا رہا ہے۔ نیب میں اُن لوگوں کی آواز ایک ڈرائونے راز کی طرح منکشف کی جا رہی ہے۔ ان آدمیوں سے پوچھ لیا جائے کہ اُن کے ارادے کیا ہیں؟

’’ملاقات‘‘ کرنے والے کی ہسٹری بتائی جا رہی ہے۔ وہ ایک متنازعہ آدمی ہے۔ کئی مقدمات میں ملوث ہے اور مطلوب ہے۔
نواز شریف کا قریبی آدمی ہے تو اس نے یہ سب کچھ انہیں رہا کرانے کا ایک ایسا کام کیا ہے جو سازش کی طرح ہے۔ ایک حاضر سروس جج کو بتائے بغیر اس کی نجی ملاقات میں کی گئی باتوں کو اپنے لیے استعمال کیا۔ ٹی وی چینلز کے پاس کوئی بات نہیں ہے۔ وہ ا س طرح کی مشکوک اور متنازعہ باتوں کا سہارہ لے کر اپنے ناظرین کو پریشان کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

پہلے پروگرام کو ایڈٹ کر کے نشر کیا جاتا تھا۔ اب ایک آدمی کی آواز کو دبا لیا جاتا ہے۔ پروگرام میں کئی موقعوں پر آواز نہیں آتی مگر آواز کرتے ہوئے ہلتے ہوئے ہونٹ ہاتھوں کے اشارے اور چہرے کے سارے تاثرات صاف نظر آتے ہیں۔ پروگرام کرنے والے اور بات کرنے والے کی کریڈیبلٹی بہت خطرے میں نظر آتی ہے۔

کاشف عباسی کے پروگرام کا نام ’’آف دی ریکارڈ‘‘ ہے اور وہ یہ باتیں ریکارڈ پر لے آتے ہیں۔ ادھوری اور سکرین پر ریکارڈ کرنے کی بھونڈی کوشش کچھ اچھی نہیں لگتی۔ یہ جو کچھ ہمارے چینلز پر ہو رہا ہے ۔ یہ بھارت میں بھی سنا جا رہا ہے۔

جو باتیں ذاتی طور کی جاتی ہیں اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہمارا فائدہ وہ ہے جو کسی کے نقصان کے ساتھ منسلک ہے۔ فائدہ سب کا ہو ہم نہیں چاہتے بس ہمارا ’’فائدہ‘‘ ہو۔ ہم نے اپنا روپیہ بچانا ہے کسی کے لاکھوں کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری نہیں۔

مریم صاحبہ برادرم صفدر سے شادی کرنے کے بعد سیاست میں آئیں۔ مریم کو معلوم ہے کہ میں اُن کی عزت کرتا ہوں۔ اب تک میری اُن سے ملاقات نہیں ہوئی۔ وہ شادی کے بعد مریم نواز کے طور پر مشہور ہوئیں۔ کبھی کبھی باپ کی نسبت بہت مضبوط ہوتی ہے۔ کسی کو کیپٹن صفدر کے والد کے نام کا پتہ نہیں ہے۔ ان کا نام مریم نواز کی نسبت سے معروف ہوا۔ اس کے لیے کیپٹن (ر) صفدر کو دل و جان سے غور کرنا چاہئے۔ مخالفین انہیں اب بھی کبھی کبھی مریم صفدر کہنا شروع کر د یتے ہیں مگر انہیں پھر مریم نواز ہی بنا دیا جاتا ہے۔

جو لوگ شاہد خاقان عباسی جیسے سیاستدان کو سابق وزیر اعظم کہتے ہوئے نہیں شرماتے اُن سے کوئی بھی توقع کی جا سکتی ہے۔ ذاتی طور پر انہیں مریم نواز کہنا اچھا لگتا ہے۔ وہ عوام کے وزیر اعظم نہ تھے صرف نواز شریف کے وزیر اعظم تھے۔ کریڈٹ پاکستانی سیاست میں نواز شریف اور ’’صدر‘‘ زرداری کا ہے۔ اب عمران خان کے لیے لوگ اسی کی طرح سوچنے لگے ہیں۔

غیر سیاسی کالم لکھنے کو دل کرتا ہے مگر کوئی صورت نہیں نکلتی۔ مریم نواز نے ٹیپ کے حوالے سے کچھ باتیں کہیں جو ڈسکس ہو رہی ہیں۔ ایک جج کی باتیں ایک خاتون سیاستدان اور پارٹی لیڈر مریم نواز کی زبان سے نکلی ہیں تو میڈیا پر طوفان آ گیا ہے۔ جج اور سیاستدان کو اس تلخ حقیقت پر غور کرنا چاہئے۔ میری تمنا ہے کہ حقیقت حکایت بن جائے۔ حکایت میں حقیقت تلاش کر لینا بھی ممکن ہے۔

ناصر بٹ کے لیے کہتے ہیں کہ وہ جج صاحب ارشد ملک کو دوست رکھتا ہے اور جج صاحب بھی اسی معاشرے میں رہتے ہیں تو ناصر بٹ نے اُن کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ نجی حوالے سے اُن کے ساتھ کی گئی گفتگو کو سیاسی طور پر متنازع بنا کے استعمال کیا ہے۔ اس ٹیپ کو مریم نواز کے حوالے کیا۔ جیسے ان پر کوئی احسان کیا جا رہا ہے۔ یہ سارا کھیل اچھی طرح نہیں کھیلا گیا۔ یہ تو کھلواڑ بن گیا ہے۔ دونوں بلکہ تینوں طرف سے وضاحتیں دی جا رہی ہیں اور بات اُلجھتی جا رہی ہے۔

ناصر صاحب بٹ ہیں اور عجیب اتفاق ہے کہ نواز شریف بھی بٹ ہیں۔ اُمید ہے کہ نواز شریف بٹ صاحب اپنے بٹ ہونے کی تردید نہیں کریںگے۔ میں تو ایک شخص توفیق بٹ کا مداح ہوں۔ وہ دوستوں کا دوست ہے۔ اندرون لاہور میں اس کا خاندان رہتا تھا اب وہ وہاں سے نکل آیا ہے مگر اسے بھلایا نہیں ہے۔