امید اور نا امیدی کے درمیان- خالد مسعود خان

اگر معاملات نارمل ہوتے تو میں کہتا کہ ''ممکن ہے میری بات کچھ لوگوں کو پسند نہ آئے‘‘ مگر حالات نارمل نہیں ہیں۔ باہمی سیاسی چپقلش اور مخالفت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ بات اب ''ممکن ہے‘‘ سے آگے جا کر ''یقینا‘‘ تک پہنچ چکی ہے اور وہ یہ کہ میری بات یقینا کئی لوگوں کو پسند نہیں آئے گی۔ اور وہ یہ کہ کم از کم امریکہ کی حد تک پی ٹی آئی کی بلکہ دوسرے لفظوں میں عمران خان کی مقبولیت کا گراف نیچے آ چکا ہے۔ کتنا؟ اب اس کے بارے میں تو میں بالکل نہیں بتا سکتا کہ کس قدر؟ لیکن یہ بات طے ہے کہ مقبولیت کم ہوئی ہے۔امریکہ میں میرے کئی ملنے والے عمران خان کی حمایت سے تائب ہو چکے ہیں ۔بہت سے دوست ایک پنجابی لفظ کے مطابق ''گھوچ گھوچ‘‘ کر باتیں پوچھتے ہیں اور آپ سے امید کرتے ہیں کہ آپ ان کو کوئی اچھی خبر سنائیں۔

ان کا چہرہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی نا امیدی کے باوجود ایک بار پھر آپ سے کوئی پر امید بات‘ کوئی خوش کن خبر اور کوئی حوصلہ افزا گفتگو سن کر اپنی ٹوٹتی ہوئی امیدوں کو نئے سرے سے سہارا دینا چاہتے ہیں۔ بیرونِ پاکستان رہنے والے پاکستانیوں سے ہزار اختلافات کے باوجود ان کی پاکستان بارے فکر سے بہر حال انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اب بھلا ایسے لوگوں کے اخلاص اور فکر مندی بارے کیا شک و شبہ ہو سکتا ہے جو ملکی حالات کی بہتری کی خاطر‘ پرانے لٹیروں سے ملک کی جان چھڑوانے کی خواہش میں ‘مسلسل دو پارٹیوں کے درمیان پھنسی ہوئی قوم کو نکالنے کے لیے ہزاروں میل دور سے ووٹ ڈالنے کی خاطر پاکستان آئے تھے۔ ایسے لوگوں کی ملک کے بارے میں فکر مندی میں کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔

خلوص اپنی جگہ‘ لیکن صرف میرے خلوص سے کیا بنتا ہے؟ سو خلوص اپنی جگہ اور حقائق اپنی جگہ۔ مہنگائی‘ انتظامی خرابیاں‘ وہی رشوت اور کرپشن‘ سفارش کا وہی پرانا چلن‘ اداروں کی وہی بربادی‘ ریلو کٹوں کی وزارتوں پر تعیناتی‘ غیر منتخب لوگوں کی سلیکشن‘ حکومتی رٹ کی ناکامی‘ معیشت میں مسلسل گراوٹ‘ روپے کی نا قدری‘ بے روزگاری میں اضافہ اور سب سے بڑھ کر اپنے کیے گئے تمام تر وعدوں کو پورا کرنے میں ناکامی نے بیرون ملک پاکستانیوں کا ذہن تبدیل کرنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔ عمران خان کی اٹھان اور مقبولیت بالکل ویسی تھی جیسی ذوالفقار علی بھٹو کی اور ان کے کارکنان اور حامی بھی بالکل ویسے ہیں۔ لیکن بہر حال دونوں میں ایک فرق بڑا واضح ہے اور وہ یہ کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کے غریب‘ ان پڑھ اور نچلے طبقے کو متاثر کیا جبکہ عمران خان نے اس کے برعکس ملک اور بیرون ملک پڑھے لکھے طبقے کو متاثر کیا۔ ایسے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کر کے سیاسی دھارے میں لانے میں کامیابی حاصل کی جو سارا دن ملک کی سیاسی خرابیوں پر کڑھتے تھے‘ برا بھلا کہتے تھے اور نقائص نکالتے تھے مگر خود عملی طور پر ایک پنجابی محاورے کے مطابق ''ککھ بھن کے دوہرا نئیں کردے سن‘‘ یعنی خود تنکا توڑ کر دوہرا نہیں کرتے تھے۔ ان پڑھے لکھے لوگوں کو ‘جو ''کاغذی شیر‘‘ تھے ‘سوشل میڈیا پر لا بٹھایا۔

فیس بک‘ ٹویٹر‘ واٹس ایپ اور اسی قبیل کی دوسری عوامی رابطے کی چیزوں کے ذریعے وہ کام کر دکھایا جو بظاہر ممکنات میں سے نہیں تھا۔ لیکن اس تمام تر جذباتی وابستگی‘ بے لوث محبت اور انتہا پسندی تک پہنچی ہوئی سیاسی وابستگی کے باوجود پی ٹی آئی کے کھلاڑی اور پیپلز پارٹی کے جیالے میں بنیادی فرق تعلیم اورسوچ کا تھا جس نے پی ٹی آئی کے کھلاڑی کو اس اندھی تقلید سے کسی حد تک محفوظ رکھا ہے جو جیالے کا خاصا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی زرداری کو بھٹو سمجھتا ہے اور گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے اپنے نئے لیڈروں کی جانب سے مسلسل وعدہ خلافیوں‘ دل شکنیوں اور پارٹی کا تمام تر نظریاتی حلیہ بگاڑنے کے باوجود ابھی تک اسی جوش و جذبے کے ساتھ پارٹی سے جڑا ہوا ہے اور پر امید ہے کہ ایک دن اس کی لیڈر شپ اس کے اکائونٹ میں بھی اسی طرح اربوں نہ سہی کچھ نہ کچھ ضرور ڈالے گی جس طرح اس نے فالودے والے ‘ قلفی والے اور ریڑھی والے کے اکائونٹ میں ڈالے تھے۔ پی ٹی آئی کا کارکن بہر حال پڑھا لکھا ہے‘ تعلیم یافتہ ہے‘ برے بھلے کا تجربہ کرتا ہے۔ وعدوں اور ان کے انجام پر غور کرتا ہے‘ آئی ایم ایف کے ایجنٹوں کی تقرریوں پر فکر کرتا ہے‘ سو دونوں میں کافی فرق ہے۔

ڈاکٹر انیس کے جذباتی پن میں کافی کمی آ چکی ہے۔ عمران خان سے محبت کا لیول نیچے آ چکا ہے‘توقعات کا گراف گر چکا ہے‘نا امیدی کی سطح بلند ہو چکی ہے اور بات میں زور بھی کافی کم ہو چکا ہے۔ اب مجھے کچھ سمجھانے کے بجائے خود سمجھنے کی کوشش میں لگ چکا ہے۔ یہ حال صرف ڈاکٹر انیس کا ہی نہیں‘ عمران خان کے بہت سے چاہنے والوں کا ہے۔ پہلے وہ ہمیں بتاتے تھے کہ صورتحال بدلنے والی ہے‘ پاکستان تبدیل ہو رہا ہے‘کرپشن ختم ہونے والی ہے‘ معیشت اپنے پائوں پر کھڑی ہونے والی ہے‘ قرضوں سے جان چھوٹنے جا رہی ہے‘سوئس بینکوں میں پڑے دو سو ارب ڈالر دنوں میں پاکستان کو ملنے والے ہیں‘ پیپلز پارٹی تو پچاس سال میں روٹی‘ کپڑا اور مکان نہیں دے سکی مگر عمران خان پچاس لاکھ گھر ضرور بنا کر دیں گے اور نوکریوں کی تو پوچھو ہی نہ‘ باہر نوکریاں کرنے والے اپنی نوکریاں چھوڑ کر واپس پاکستان آئیں گے۔ بہر حال اس آخری بات میں تھوڑی بہت ضرور سچائی تھی۔ آئی ایم ایف کا مصر میں متعین نائب صدر اپنی غیر ملکی نوکری چھوڑ کر پاکستان واپس آیا ہے اور اب سٹیٹ بینک آف پاکستان کا گورنر ہے۔

اب اس بار امریکہ میں انہی دوستوں کے پاس بیٹھا ہوں تو وہ اپنی سنانے کے بجائے اب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ حالات کیسے ہیں؟ معیشت کا کیا حال ہے؟ آپ کا خیال ہے اگلے دو چار ماہ میں درست ہو جائیں گے؟ مہنگائی واقعی زیادہ ہوئی ہے یا مخالفین خواہ مخواہ شور مچا رہے ہیں؟ پنجاب کے ایک ادارے کا چیئر مین مقرر ہونے والا بی کام پاس خاتونِ اول کا قریبی رشتہ دارہے یا یہ محض افواہ ہے؟ کیا پوری پی ٹی آئی کے پاس معیشت چلانے کے لیے واقعتاً کوئی بندہ نہیں جو انہوں نے پیپلز پارٹی کے سابقہ وزیر خزانہ کو اپنا مشیر خزانہ مقرر کر لیا ہے؟ منتخب وزیروں سے غیر منتخب مشیر زیادہ پاور فل کیوں ہیں؟ سابق وزیر صحت نے واقعی پیسے بنائے تھے یا صرف ان پر الزام ہے؟ حکومت سے دوائیوں کی قیمتیں کم کیوں نہیں پا ہو رہیں؟ پاکستان میں بھی پی ٹی آئی کی مقبولیت کم ہو رہی ہے یا نہیں؟ چینی کی قیمت میں اضافہ کس نے کیا؟ شریف برادران اور زرداری اینڈ کمپنی تو رخصت ہو گئی ہے کیا اب ملک میں کرپشن ہو رہی ہے یا ختم ہو گئی ہے؟ سوالات کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے جس سے واسطہ پڑا ہوا ہے۔

جو لوگ پہلے پلک جھپکتے نظام بدلتا ہوا دیکھنے کا دعویٰ کرتے تھے اب نوبت یہ آ گئی ہے کہ کہتے ہیں‘ گند ہی بہت ہے‘ اکیلا خان کیا کر سکتا ہے؟ ساری کی ساری بیورو کریسی سابقہ حکمرانوں کی وفادار ہے‘ حکومت کس طرح چلائی جا سکتی ہے؟ ساری کی ساری ٹیم ہی نا اہلوںپر مشتمل ہے ‘ اچھے نتائج کس طرح حاصل کیے جا سکتے ہیں؟ غرض ایک مایوسی کی صورتحال ہے۔ مایوسی کوئی حیران کن چیز نہیں ہے‘ بعض اوقات اس کا ایک Phase آتا ہے‘ لیکن اس قدر جلد اور اس قدر زیادہ۔ امریکہ میں عمران خان کے حامیوں کی تعداد تو نہیں گنی جا سکتی تھی لیکن یہ کسی صورت وہاں مقیم پاکستانیوں کے80/85 فیصد سے کم نہیں تھی۔ اب بھی یہ تعداد مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی وغیرہ کے حامیوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے‘ لیکن اب یہ حمایت 80/85 فیصد بہر حال نہیں۔ اس میں کافی کمی ہوئی ہے۔

عمران خان سے مایوس لوگ دوسری پارٹیوں میں نہیں جا رہے۔ وہ کسی اور پارٹی میں جانے کے بجائے شاید دوبارہ غیر فعال ہو جائیں گے۔ اگلے الیکشن میں پاکستان آ کر ووٹ ڈالنے کے بجائے پہلے کی طرح امریکہ اپنے گھر بیٹھیں گے اور زیادہ سے زیادہ کوئی پاکستانی چینل لگا کر نتائج سننے کی زحمت گواراکریں گے۔
بہت سے لوگ اب بھی ایسے ہیں جو اگلے چھ ماہ میں کسی تبدیلی کے منتظر ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو سکا تو شاید وہ دوبارہ کبھی پاکستان کی سیاست میں بطور پاکستانی اپنا حصہ نہیں ڈالیں گے۔ ایک دوست کہنے لگا :اگر ایسا ہوا تو میں عمران خان کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔ ابھی یہ لوگ امید اور نا امیدی کے درمیان ہیں۔ اگر وہ نا امید ہوئے تو سچی بات ہے مجھے بھی دکھ ہوگا۔