بڑی تصویر کے چند ٹکڑے - محمد عامر خاکوانی

سٹیو کول کی کتاب ڈائریکٹوریٹ S پڑھنا ایک دلچسپ تجربہ ہے۔ پچھلے کالم میں سٹیوکول کا تعارف کرایا، اس کا کتاب کا بھی کچھ پس منظر آ گیا تھا۔ سٹیو کول معروف امریکی صحافی، ریسرچر اور ادیب ہیں، وہ امریکہ کا اعلیٰ ترین صحافتی ایوارڈ پلٹرز ایوارڈ جیت چکے ہیں، ان کی کتاب گھوسٹ وارز مشہور ہوئی تھی، ڈائریکٹوریٹ ایس پچھلے سال شائع ہوئی اور عسکریت پسندی سے دلچسپی رکھنے والے حلقوں میں اس کا نوٹس لیا گیا۔ یہ کتاب افغانستان میں امریکی فوج کی آمد اور وہاں موجودگی کے گرد گھومتی ہے۔ امریکی وہاں کیوں کامیاب نہیں ہوسکے؟ اس کی کیا وجوہات تھیں؟ پاکستانی فوج اور پریمئیر ایجنسی کا کیا کردار تھا؟ اس دوران کیا اہم واقعات ہوئے؟ اس سب کا تجزیہ کیا گیا۔ کتاب کا نام ڈائریکٹوریٹ ایس ہے۔ مصنف کے مطابق یہ پاکستانی خفیہ ایجنسی کا وہ مبینہ سیکشن ہے جوافغان طالبان اور اس طرح کی دیگر عسکری تنظیموں سے ڈیل کرتا ہے۔ سٹیو کول کا انداز سنسنی خیز صحافیانہ اسلوب یا تھرلر فکشن کے بجائے سنجیدہ اور معروضی تجزیہ کا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی کڑیاں جمع کرتے اور پھر ایک تصویر بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس میں امریکہ نقطہ نظر اور مؤقف البتہ واضح طور پر جھلکتا ہے، اس کی ہمیں توقع بھی کرنی چاہیے۔ امریکیوں کے ساتھ افغانستان میں جو ہوا، اس کے بعدافغانستان کا نام آتے ہی کسی بھی امریکی کے لہجے میں تلخی آنا فطری ہے۔

اٹھارہ برس یہاں گزارنے، کئی سو ارب ڈالر (بعض اندازوں کے مطابق ایک ہزار ارب ڈالر سے زائد) خرچ کرنے، بہت سے امریکی فوجیوں کی جانیں گنوانے کے بعد بھی امریکہ کچھ حاصل نہیں کر سکا۔ سٹیو کول کو یہ کریڈٹ دینا چاہیے کہ اس نے پاکستانی اداروں کے تحفظات کو بھی بیان کیا اور بعض جگہوں پر غیر جانبداری سے انھیں تسلیم بھی کیا۔ امریکی ناکامیوں پر بھی اس نے پردہ نہیں ڈالا۔ اس کتاب کے حوالے سے امریکہ میں بعض تقریبات ہوئیں، جن میں مصنف نے گفتگو کی۔ یوٹیوب پر انہیں دلچسپی سے سنا۔ سٹیو کول نے ایک تقریر میں کہا کہ امریکہ کے (عسکری، سفارتی حلقوں میں) افغانستان جانے کے دو مقاصد بیان کیے جاتے ہیں، پہلا طالبان حکومت ختم کرنا تاکہ القاعدہ کا خاتمہ یا اسے اتنا کمزور کیا جا سکے کہ وہ دوبارہ امریکہ پر نائن الیون جیسا حملہ نہ کر سکے، دوسرا اسے یقینی بنانا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار کسی دہشت گرد گروہ کے ہاتھ نہ لگ جائیں تاکہ وہ دنیا کے امن کے لیے خطرہ نہ بن سکیں۔ اس نکتے نے مجھے چونکایا کہ امریکی ماہرین اب یہ اعلانیہ مان رہے ہیں کہ پاکستانی ایٹمی ہتھیار وں پر نظر رکھنا بھی افغانستان آنے کا ایک مقصد تھا۔ ظاہر ہے نظر رکھنے کا اگلا مرحلہ ان ہتھیاروں کو اپنی تحویل میں لینا ہی ہوتا ہے۔

یہ بات ہمارے ان ’’بھولے بادشاہوں‘‘ کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، جن کے خیال میں پاکستان کو افغان طالبان کا ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا۔گویا پاکستانی منصوبہ ساز کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے انتظار کرتے کہ امریکہ افغانستان میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے بعد پاکستان کا رخ کرے، ہمارے اوپر دباؤ بڑھائے اور آخرکار ایٹمی ہتھیاروں کے کنٹرول کے حوالے سے کوئی اپنا من پسند فارمولا ماننے پر مجبور کر دے؟ صد شکر کہ پاکستانی حکومتوں اور اداروں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے یہ حماقت کرنے کے بجائے امریکہ کو افغانستان کی دلدل میں پھنسایا، الجھایا، وقت لیا، حتیٰ کہ امریکہ کے لیے اپنے ایجنڈے پر عمل کرنا ممکن نہیں رہا۔ ڈائریکٹوریٹ ایس اس حوالے سے بہت کچھ بتاتی، سکھاتی ہے۔ اس میں پاکستانی اداروں کے حوالے سے بعض غلط مغالطے اور بے بنیاد الزامات بھی ملتے ہیں۔ تاہم میرے نزدیک امریکی مصنف کا بیان کردہ وہ سچ اہم ہے جو پاکستانی اداروں کے کردار پر روشنی ڈالتا ہے۔ اگر سی آئی اے پاکستانی ایجنسی آئی ایس آئی کے بارے میں یہ شکوہ یا غصہ رکھتی ہے کہ اس نے پاکستانی مفاد کا خیال رکھا اور امریکیوں کو کھل نہیں کھیلنے دیا، تو یہ امریکیوں یا بھارتیوں کے لیے خفگی کا باعث ہوگا، ہمارے لیے تو باعث مسرت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیلی اسے کہتے ہیں - تزئین حسن

ڈائریکٹوریٹ ایس خاصی ضخیم کتاب ہے، سات سو سے زائد صفحات پر پھیلی اس داستان میں سب سے دلچسپ امریکہ ماہرین کی منصوبہ بندی، خام اندازے اور طرح طرح کے حربوں کی ناکامی کی تفصیل پڑھنا ہے۔ 2010ء، 2011 ء کا ذکر آتا ہے۔ سٹیو کول امریکی جنرل پیٹریاس کی خام خیالی کا ذکر کرتا ہے جنھیں امید تھی کہ امریکہ اگر کچھ مزید قوت صرف کرے تو طالبان کو فوجی شکست دینا ممکن ہے۔ آج ہم سب جانتے ہیں کہ جنرل پیٹریاس خود تاریخ کے کوڑے دان میں جا چکے ہیں، امریکی اپنا تمام زور لگا کر نڈھال ہوگئے۔ افغان طالبان مگر آج بھی افغانستان کے منظرنامے میں بڑی قوت کے طور پر موجود ہیں۔

ہمارے ہاں بعض کردار مختلف وجوہات کی بنا پر معتوب ہوئے، سیاسی طور پر بھی آج کوئی ان کے حق میں کلمہ خیر کہنے کو تیار نہیں۔ سٹیو کول کی کتاب میں ان کا تاثر مختلف انداز میں بنا۔ ان میں جنرل کیانی اور ان کے دست راست جنرل شجاع پاشا شامل ہیں۔ جنرل کیانی کا شمار ان بدقسمت لوگوں میں ہوتا ہے، جن کا کوئی دفاع کرنے کو تیار نہیں۔ کتاب ’’ڈائریکٹوریٹ ایس‘‘ نے البتہ جنرل کیانی اور جنرل پاشا کے ساتھ ناانصافی نہیں کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنرل کیانی اور جنرل پاشا مسلسل امریکی دبائو کی مزاحمت کرتے رہے۔ وہ پاکستان کے لیے دستیاب حالات میں بہترین آپشنز ڈھونڈتے، امریکی عسکری ماہرین کو قائل کرتے اور اپنے ملک کے لیے زیادہ سے زیادہ گنجائش حاصل کرتے نظر آئے۔ جنرل پاشا جن پر ہمیشہ، ہر طرف سے تیر ہی برستے دیکھے ہیں۔ ان کے بارے میں سی آئی اے کے پاکستان میں سٹیشن چیف کا جھنجھلا یا ہوا جملہ (بلکہ ایک طرح کی گالی) پڑھ کر اچھا لگا۔ سی آئی اے کے لوگ چڑ کر کہتے تھے کہ یہ بڑا … بندہ ہے۔ سٹیو کول نے بتایا کہ جنرل کیانی اور پاشا بار بار افغانستان جاتے اور حامد کرزئی کو سمجھاتے، ’’امریکی یہاں سے آخرکار چلے جائیں گے، تمھارا واسطہ ہمارے (پاکستان کے) ساتھ رہنا ہے۔ ہمارے ساتھ بات کرو، ہم طالبان سے تمھارے مذاکرات بھی کرا دیں گے۔‘‘ یہ اور بات کہ کرزئی اس کی جرات نہ کر پایا۔

کتاب کا ایک پورا باب ریمنڈ ڈیوس پر ہے۔ جنرل پاشا کو ہمیشہ اس پر معتوب کیا جاتا ہے۔ سٹیو کول نے اس معاملے کے پوشیدہ پہلو بھی واضح کیے۔ اس نے لکھا کہ کس طرح سی آئی اے کا پاکستان میں عمل دخل بہت بڑھ گیا تھا۔ امریکی ان دنوں پاکستان پر دباؤ بہت بڑھا چکے تھے۔ پنٹاگون چاہتا تھا کہ افغانستان کی طرح پاکستان بھی امریکیوں کو اپنی سرزمین پر کسی بھی ٹارگٹ کو پکڑنے کی اجازت دے۔ پاکستانی فوج اس کے لیے کسی بھی صورت تیار نہیں تھی۔ امریکیوں نے حل یہ نکالا کہ ڈپلومیٹس کی شکل میں سی آئی اے کے مختلف فیلڈ ایجنٹس، کنٹریکٹرز کو بھیج دیا جو مختلف روپ میں امریکہ کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری سے فائدہ اٹھا کر پاکستانی ایجنسی نے اس امریکی منصوبے کو بے نقاب کیا اور انھیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے بعد جنرل پاشا نے سی آئی چیف لیون پنیٹا سے یہ پوچھا کہ کیا ڈیوس سی آئی اے کا ایجنٹ ہے؟ سی آئی اے چیف نے انکار کیا کہ اس طرح ان کا پورا منصوبہ بے نقاب ہو جاتا۔ جنرل پاشا جانتا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس سی آئی اے ایجنٹ ہے، دانستہ طور پر انھوں نے اسے مزید قانونی دلدل میں دھنسنے دیا، حتیٰ کہ امریکی اس کی بحفاظت واپسی سے مایوس ہوگئے۔ تب سی آئی اے چیف نے تسلیم کیا کہ یہ سی آئی اے کے لیے کام کر رہا تھا اور ہم نے پہلے غلط جواب دیا۔ پھر جنرل پاشا نے ریمنڈ ڈیوس کی واپسی کے لیے دیت کی ادائیگی والا راستہ نکالا۔ ریمنڈ ڈیوس کی واپسی سے مگر پاکستان کو نقصان نہیں ہوا، بلکہ اس سے سی آئی اے کو اپنے فیلڈ ایجنٹس واپس بلانے پڑے۔

یہ بھی پڑھیں:   امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ - حامد کمال الدین

آئی ایس آئی کے ایک اور سابق سربراہ جنرل محمود کے بارے میں ہمارے میڈیا میں ہمیشہ تحقیر آمیز انداز میں تذکرہ ہوتا ہے، ان کے تبلیغی جماعت میں جانے، تصویریں نہ بنوانے پر مضحکہ اڑایا جاتا ہے۔ سٹیو کول نے 2007ء میں ایک اہم امریکی عہدے دار کی جنرل محمود سے ملاقات کی تفصیل بیان کی ہے۔ باریش محمود اس وقت تبلیغی جماعت سے وابستہ ہوچکے تھے۔ ان دنوں مشرف کے خلاف وکلا تحریک چل رہی تھی۔ جنرل محمود نے امریکی مہمان کو کہا کہ مشرف کا کھیل اب ختم ہوچکا ہے۔ محمود نے انگریزی محاورہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ مشرف نے اپنے پیر، پنڈلی، گھٹنے، ران غرض کئی جگہوں پر گولی مار کر بیڑا غرق کر دیا ہے۔ امریکیوں کو جنرل محمود نے مشورہ دیا کہ وہ افغانستان میں کسی بھی طور پر نہیں جیت سکتے، افغانستان کا مستقبل صرف اور صرف طالبان ہیں، ان کے ساتھ مذاکرات کر لیں، یہی حل ہے۔ سٹیو کول نے لکھا کہ جنرل محمود نے جو کہا، وہ سو فیصد درست نکلا، مگر 2007ء میں امریکی کسی بھی صورت میں یہ بات سننے اور ماننے کو تیار نہیں تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اپنی عظیم جنگی قوت کے ساتھ افغانستان میں تحریک مزاحمت کو کچل دیں گے۔ اسامہ بن لادن کے قتل کے لیے کیا جانیو الے آپریشن ایبٹ آباد کی تفصیل بڑی دلچسپ ہے۔ اسامہ بن لادن نے اس کمپائونڈ میں دن کیسے گزارے؟ کن لوگوں کو خطوط لکھے؟ وہ ایران اور عرب سپرنگ کے بارے میں کیا سوچتا تھا اور آپریشن کے بعد پاکستانی ادارے امریکہ کے خلاف کیا سوچ رہے تھے؟ اس کی تفصیل کسی اور نشست میں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.