منزل مراد کا سفر شوق - عبدالباسط بلوچ

۱۰ اپریل ۲۰۱۷ کو جب میں جاپان کے لیے اسلام آباد ائیرپورٹ سے جا رہا تھا ۔ امیگریشن کاونٹر پر بیھٹے ایک بابا نما بابو نے پوچھا کس مقصد کے لیے جا رہے ہیں ۔میں نے سینہ چوڑا کر کے بتایا کہ سیر وسیاحت کے لیے ۔اس نے میری طرف دیکھا اور بڑی روانی سے بولا سیر ہی کرنا تھی مکہ مدینہ کی کر لیتے سیر بھی ہو جاتی ثواب بھی مل جاتا۔ اس کی یہ بات اب بھی مجھے یاد ہے۔ میں نے اس سے وعدہ کیا ضرور یہ سفر سعادت کروں گا۔ جاپان کا سفر ابتدا اپریل تھا مدینے کا سفر انتہائے اپریل ہے۔ وہ بھی سفر خیر تھا تھا اور یہ تو سفر سعادت ہے۔

جاپان ہی میں موجود تھا۔ ایک دن بڑا دل مچلا اور سیدھا کالے کوٹھے والی سرکار کو آواز دی آواز کیا دینی تھی دل کھول کر رکھ دیا۔اور مجھے یقین تو تھا کہ بلاوا آیا کے آیا 2 سال پہلے لکھے گے الفاظ جو اس کی عظمت کو بیان کر تو نہیں سکتے لیکن اظہار کرنے کوشش ہے۔ سوئے نصیب جگانے کو دل تڑپتا ہے۔ اس کالے کوٹھے نے کتنوں کو امید ملاقات پر رکھا ہے۔ لگتا ہے روح بھٹک رہی ہے، میری آنکھوں کی رم جھم مجھے اس کے اور قریب لے جا کر ایک زندگی بخشتی ہے۔ سنا ہے اس گھر کا جلال ہے کیوں نہ ہو،گھر جو رب ذوالجلال کا ہے۔ اس کی فضا پرنور ہے، اس کا مالک جو ارض و سما کا نور ہے۔ سنا ہے پتھر بھی موم ہوجاتے ہیں، ایسے بندھن ٹوٹتے ہیں، کہ کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ سنا ہے کالے غلاف کے لمس ہر چیز سے پیارا ہے، اس کے سائے میں دنیا کی عافیت ہے۔ سنا ہے پہلی نظر ہی میں بھولی بسری محبت ایسے رنگ دیکھاتی ہے کہ نہ نظر ہٹانے کو دل کرتا ہے اور نہ نیاز جبین اٹھانے کو۔ سنا ہے کچھ راز کی باتیں بھی ہوتی ہیں، جن کو بیان کرنے کے لیے زبان سے زیادہ دل کو حوصلہ چاہیے۔ کئی تو روز دیدار کے لطف اٹھاتے ہیں ہیں، کئی مدتوں سے بلاوے کے منتظر ہیں۔ سوچتا ہوں، کن کو بلایا جاتا ہے۔ جواب آتا ہے، نصیبے کی بات ہے، کسی کا پیسہ، وقت، اور حالات کا محتاج نہیں۔ اسی سوچ میں مگن ہوں، کوئی جاتا ہے یا بلایا جاتا ہے، گھر بھی اعلی، در بھی کمال، در کا مالک بھی لازوال، لطف و کرم کی بہار، دل سنا ہے بھرتا ہی نہیں اس کالے غلاف کے دیدار سے۔ سنا ہے نور کی برسات گناہوں کی گھٹاؤں کو بھول جانے کا سندیسہ دیتی ہے۔ جو ایک بار ہو آئے وہ ساری زندگی تڑپتا بھی ہے اور ترستا بھی۔

یہ بھی پڑھیں:   امن کا شہر اور سلامتی کا سفر - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

میں مکہ کو صرف شہر نہیں، رب کا کرم ، اور انعام سمجھتا ہوں۔ اور مدینہ کو کملی والے کی دعا کا فیض۔ دل مکےکی گلیوں سے مدینے کے اس سبز گنبد سے اٹھتا ہی نہیں۔ یہ مچلنا، تڑپنا، فکر مند ہونا، مجھے اور نہیں تو اس کے قریب تر کرنے میں ضرور مدد دیتا ہے۔ پتا نہیں دنیا کی ہر چیز دیکھنے کے باوجود کیوں دل اس سے اٹھتا ہی نہیں۔ آواز آتی ہے، اس کا کرم، عنایت، اور محبت کے سودے ہیں۔

رمضان میں سنا ہے یہ کالا ہونے کے باوجود چمکتا ہے، نورکی برکھا برستی ہے، گناہوں کی دھول وہ چھٹتی ہے، بندہ سب کچھ بھول جاتا ہے۔ اس بہار نور کو دیکھنے، رحمت کے سیل رواں میں شامل ہونے، مغفرت کی وادیوں میں کھونے، رحمت رب جلیل سے جھولیو ں کو بھرنے، اپنے آقا کی جنت کے ٹکڑے میں بیٹھنے کو دل بے قرار بھی ہے اور امیدوار بھی۔ کب سندیسہ آ جائے، تم بہت تڑپتے تھے آ جاؤ ، اور دل کو بہلا جاؤ۔ مالک بندہ منتظر ہے۔

" یہ تھی وہ تڑپ جو منزل کے قریب ہونے کا یقین پیدا کرتی ہے اور ہم منزل مراد کو پہنچے۔ ہمارا یقین کامل تھا اور محبت صادق اس لیے ہمارا پہلا پڑاؤ کعبے کے متولی کے، دار الھجرہ، کی طرف تھا۔ رات کا پچھلا پہر مسافر بھی اکلوتا، منزل بھی اکلوتی چاہت بھی اکلوتی شوق دیدار بھی انوکھا۔ جب انوکھا اور اکلوتا سب کچھ ہو تو منزل پر پہنچ کر احساس بھی عجب ہوتا ہے۔ اس کے لیے یا توآپ کے دماغ میں ایسی مشین فٹ ہو جو آپ کی کیفیت کو الفاظوں کی شکل میں ڈاھالتی رہے۔ پھر وہ ایک کتاب تو کیا کئی کتابیں بن سکتی ہیں۔ اب نہ وہ کیفیت ہے نہ روحانیت ہے اور نہ وہ طمانیت ہے جس کو لفظوں کی صورت میں ڈھالا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   امن کا شہر اور سلامتی کا سفر - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

ائیرپورٹ سے راستے میں ڈرائیور نے بتایا یہ احد پہاڑ ہے۔ فورا خیال اسلام کے ستر شہیدوں اور میرے آقاو مولا کے ٹوٹے دانتوں کی طرف گیا۔ اور احد پہاڑ کا کانپنا اور میرے آقا کا احد پہاڑ کو مخاطب کرنا اور پتہ نہیں کیا کیا راز اپنے اندر لیے یہ جنت کا پہاڑ جنت ارضی پر فروکش ہے۔ مجھے تواتنی جرآت نہیں ہوئی کہ اس کو دوبارہ دیکھ سکوں۔ میں اس کے آس پاس سے ضرور گزرا لیکن ہمت نہیں کر سکا کہ اس کو دوبارہ جا کر دیکھ سکوں۔ مجھے میری آنکھوں کے سامنے سیدہ صفیہ کے شہید بھائی سید الشہدا کی لاش ٹکڑے اور عرب کے امیر زادے معلم مدینہ سیدنا مصعب بن عمیر کی بغیر کفن کے پڑی لاش جس کو کفن بھی میسر نہیں آیا تھا۔ نبی مکرمﷺنے زاد راہ دیکھا تو اس میں سے ایک چادر ملی اور اتنی کم تھی کہ سر کی طرف سے ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے۔ حضورکی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر امڈ آیا، حضور نے فرمایا لوگو! یہ اسلام سے پہلے عرب کا شہزادہ تھا، آج احد کے میدان میں کفن بھی میسر نہیں آ رہا۔ جن شہدا کو دیکھ کر حضورنبی کریم مجسم صبر ﷺ کے ضبط کے بندھن ٹوٹ جائیں۔ ہم تو بہت ہی کم دل و گردہ اور صبر رکھتے ہیں۔ احد کا پہاڑ خون مسلم کا گواہ ہے۔ اور سفر سعادت جاری ہے۔