حضور ﷺ کی نگری کا مسافر - عبدالباسط بلوچ

سفر کہیں کا بھی ہو اپنے اندر غربت، پرایا پن، اور پردیسی ہونے کا احساس ضرور رکھتا ہے۔ لیکن میں قربان جاؤں سفر دیار حبیب ﷺ سے ہر بڑھتا قدم شوق دیدار کی تڑپ کو بڑھا رہا تھا۔ منزل کی قربت مسافر کی روح کو کوئے یارﷺ کی خوشبوؤں کے قریب تر کرتی جا رہی تھی ۔میرا سفر نہیں تھا، یہ تو منزل تھی ۔میں غریب دیار نہیں تھا سب کچھ کوئے یار کا صدیوں کا دیکھا بھالا تھا۔ میں تو فراق سے وصال کی طرف رواں تھا۔میں مسافر نہیں تھا میں تو ،،یوم الست ،،سے واقف کار تھا۔ اسی دوران گاڑی والے نے بریک لگائی اور سندیسہ دیا آپ کوئے یار کے پہلو میں آچکے ہیں۔ مجھے آقائے نامدار کی مسجد کے پر شکوہ میناروں نے خوش آمدید کہا۔ یہاں ہر مسافر مسافر خیر ہوتا ہے۔ اس کی گلیاں بھی سکون و امن اور سلامتی کی امین ہیں۔ دل تھا کہ ابھی دیدار کوئے سرکار کو نکل جاؤں لیکن کچھ تقاضا بشریت بھی تھا۔ فجر تک کے لیے شوق دیدار کو روکا تاکہ اس شوق کو مہمیز ملے اور محبت سرکار میں اضافہ ہو۔ ۳ بجے کا الارم لگا کر کچھ وقت کے لیے لیٹ گیا۔ نیند کب آئے۔ تین کیا بجے ہماری بستر سے جان چھوٹی اور ہم منزل مراد کی طرف نکلے۔

ہم نے سوچا ایک ہم ہی ہوں گے جو اس پہر اپنی سرکارﷺ کو ملنے جا رہے ہیں۔ وہاں تو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ہر راستہ ہی اٹا ہوا تھا اور تمام مسافر منزل یار کو رواں دواں تھے۔ ہمارا زندگی کا پہلا سفر تھا اور شوق دیدار اپنے عروج پر تھا۔ ہم نہ تو نظریں ملانے کے قابل تھے نہ نظریں چرانے کا یارانہ رکھتے تھے۔ وہ ایک محبوب کے محبوں کا سمندر تھا جو بہا جا رہا تھا۔ہم مسافر یار تھے کچھ آداب ہم نے خود ہی وضع کر لیے تھے۔کوئے یار کی حدود میں جہاں تک ممکن ہو جوتے کے بغیر سفر ہو گا۔۔حضور کی نگری میں سوتے ہوئے پاؤں بھی آپ کی مسجد کی طرف کر کے نہ سویا جائے۔اگر مسجد یا روضہ رسول میں بیٹھنا بھی ہے تو پاؤں پھیلا کر نہیں۔ یہ عام سی باتیں ہیں لیکن میرے لیے بڑی خاص تھیں کیونکہ میں مسافر خاص تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   امن کا شہر اور سلامتی کا سفر - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

میں فجر کی نماز سے پہلے کوئے یار میں تھا۔ جیسے جیسے میری قربت بڑھتی جا رہی تھی، رم جھم میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ یہ رم جھم گھن گرج کے ساتھ کب برسی اس کا مجھے اندازہ ہی نہ ہوا۔ مجھے لگا میں اکیلا اپنے یار کو اس کی مسجد میں ملنے آیا ہوں۔ اور جب میں اپنے آپ کو محسوس کرتا میں کوئے یار میں ہوں تو پھر ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ جاتے۔ پتہ نہیں کب کا بچھڑا ہوا کب کا بھٹکا ہوا اور کب کا کتابوں کے واسطے ملاقات کا متمنی جب سامنے دیدار کو پہنچ چکا ہو، اس کی کیفیت کیا ہوگی۔ مجھےوقت کا احساس ہی نہ ہوا، تین بجے کا گیا جب تین گھنٹے بعد پہلی ملاقات سے فارغ ہوا تو دل کا بوجھ آنکھوں کے راستے کافی ہلکا ہو چکا تھا۔

مجھے یوں لگا جیسے آپ ﷺ سب کو چھوڑ کر میری طرف ہی متوجہ ہو چکے ہیں۔ میں نے اس کو بھی سوئے ادب سمجھا کہ آپ کی شفقت و الفت جو سب کے لیے ہے اپنے تک محدود کروں۔خود ہی اٹھا اور پھرلوٹ آنے کا وعدہ کر کے پلٹ آیا۔نہ اس کی مہمان داری میں کمی آئی ،نہ اس کی شفقت میں کمی محسوس ہوئی، نہ اس کی الفت میں کچھ کمی دیکھی؛ بس ایک ہی فرق دیکھا وہ میرے آنے سےپہلے اور بعد کے لمحات میں اوراس سے ملاقات کے بعد کی کیفیت کا تھا ۔اس کے لیے الفاظ سے زیادہ کیفیت کا عمل دخل رہا۔یہ اب سفر شوق ہے جو بڑھتا ہی جا رہا تھا ۔ملاقات کے بعد جب میں واپس ہوٹل آیا تو مجھے لگا ہوٹل کی خوشنمائی بھی کوئے سرکارﷺ کےفرش پر بیٹھنے کے مقابلے میں کچھ نہیں۔ یہ سفر سعادت جاری ہے