ڈاکٹر فرحت ہاشمی پر تنقید، چند گزارشات - محمد قاسم

پچھلے دنوں ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے ایک دینی مسئلے کے بیان کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق جب کوئی شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلاتا ہے تو اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شوہر کی خواہش کو پورا کرے ۔ اس حوالے سے بہت زیادہ تحریریں دیکھنے کو ملیں ۔ میری اس حوالے سے چند گزارشات ہیں ۔

فرحت ہاشمی پر تنقید کرنے والوں اور اس تنقید کو پڑھنے والوں کے لیے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ فرحت ہاشمی نے ایک دینی مسئلے کو بیان کیا ہے، اس لیے اس پر تبصرہ یا گفتگو یا تنقید کرنے سے پہلے اس بات کا خیال کر لینا چاہیے کہ گفتگو کرنے والا تبصرہ کرنے والا یا تنقید کرنے والا خود دینی علوم پر کتنی مہارت رکھتا ہے ؟ اور دین کے بنیادی مصادر قرآن پاک اور اس کی تشریح جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی، اس کو اس نے کتنا پڑھا ہے؟ عموما جب یہ بات کی جاتی ہے تو لوگ جھٹ سے کہہ دیتے ہیں کہ آپ تو دین پر مولویوں کی اجارہ داری کی بات کرتے ہیں، حالانکہ معاملہ ایسا نہیں ہے۔ دنیا کے تمام علوم کے اندر اس بات کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ اس پہ لب کشائی کرنے والے ان علوم کی مبادیات سے واقف ہوں ۔ اگر کوئی بندہ پاکستانی قوانین سے واقف نہیں ہے اور نہ ہی عدالتوں کے پروسیجر سے اس کو آگاہی حاصل ہے کہ فیصلے کے لیے کیا لوازمات ہوتے ہیں اور کس طرح دلائل کو مکمل کیا جاتا ہے اور ان کو پرکھا جاتا ہے۔ اگر اس کے باوجود وہ کسی عدالتی فیصلے پر نقد کرتا ہے یا اپنا تبصرہ پیش کرتا ہے تو اس کو عقل مند نہیں کہا جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ علم نفسیات میں کوئی بھی دعوی کرنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے اور کس طرح کی تحقیقات سے گزرنا ہوتا ہے اور وہ کسی ماہر نفسیات کے دعوے پر تبصرہ کرنا شروع کر دے تو یہ ایک غلط رویہ ہوگا ۔

اگر کوئی شخص تھیوریٹیکل فزکس کو نہیں جانتا، اس میں جو نظریات پیش کیے جاتے ہیں، اس کے پیچھے کس طرح کی تحقیقات ہوتی ہیں؟ کیا پروسس اختیار کیا جاتا ہے ؟ اور کن مراحل سے گزر کے کوئی سائنس دان لوگوں کے سامنے اپنا دعوی پیش کرتا ہے ؟ اگر اس سے کسی شخص کو آشنائی نہیں ہے اور وہ کسی فزکس کے ماہر کی بات پر نقد کرتا ہے یا تبصرہ پیش کرتا ہے تو اس کو اللہ حافظ کہہ دینا چاہیے ۔ اگر کسی بندے نے کبھی سروے نہیں کیا ، اس کو نہیں پتہ سروے کیا ہوتا ہے اور کن مراحل سے گزر کر اس کے نتائج مرتب کیے جاتے ہیں، اور وہ گیلپ کے سروے پر تنقید شروع کردے تو کوئی بھی اس کو عقلمند نہیں کہے گا۔ اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ اگر کسی دینی مسئلہ پر کوئی شخص اپنی رائے دیتا ہے یا تنقید کرتا ہے، کوئی تجویز پیش کرتا ہے تو خود اس کا دین کے بنیادی مصادر قرآن اور پیغمبر علیہ السلام کی تشریحات سے واقف ہونا اور ان پر اس کا عبور ہونا بہت زیادہ ضروری ہے۔

تو میری پہلی گزارش یہی ہے کہ اس موضوع پر لکھنے والے اور پڑھنے والے اس بات کو ضرور ملحوظ خاطر رکھیں کہ اس دینی مسئلے پر لب کشائی کرنے والوں کی دینی علم میں مہارت کتنی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارا حال اس شخص جیسا ہے جس کو محلے میں کوئی سو روپے ادھار دینے کو تیار نہیں اور وہ ملک کی معیشت کو ٹھیک کرنے پر لیکچر دے رہا ہوتا ہے۔ فرحت ہاشمی پر تنقید کرنے والوں کی اکثریت ایسی ہی ہے۔

دوسری گزارش میں یہ کرنا چاہوں گا کہ فرحت ہاشمی نے یہ کہا ہے کہ یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔ اب ان پر تنقید دو حوالوں سے کی جا سکتی ہے، ایک تو یہ کہ کسی بھی تاریخی شخصیت کی طرف کسی بات کو منسوب کرنے یا اس شخصیت کی طرف کسی بات کی نسبت کو پرکھنے کے جو بھی اصول و ضوابط آج کل تاریخ دانوں نے متعین کیے ہیں، ان اصولوں کے کڑے سے کڑے معیار پر اس بات کو پرکھ کر دیکھ لیا جائے کہ کیا ان الفاظ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت تاریخی اعتبار سے درست ہے کہ نہیں؟ یا دوسرا نقد یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی عربی زبان کا ماہر، اس کے ادب اور اس کی تلمیحات اور اس کے اس کی بلاغت سے واقفیت رکھنے والا شخص اس بات پر اعتراض کر دے کہ وہ جو الفاظ ہیں، ان کا یہ معنی نہیں بنتا جو فرحت ہاشمی نے بیان کیا ہے۔

ان دو صورتوں کے علاوہ کوئی اور تیسرا طریقہ کسی مسلمان کے لیے ان پر نقد کرنے کا نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ان الفاظ کی نسبت تاریخ کے کڑے سے کڑے معیار سے گزار کر حضور کی طرف ثابت ہو جاتی ہے اور عربی زبان کے مطابق ان کا معنی اور مفہوم بھی وہی بنتا ہے جو فرحت ہاشمی صاحبہ نے بیان کیا ہے۔

پھر بھی اگر وہ بات ہماری نفسیات یا ہمارے مزاج سے مطابقت اور موافقت نہیں رکھتی تو پھر ہمیں اپنی نفسیات اور اپنے مزاج پر غوروفکر کرنا چاہیے کہ اس کی تشکیل کیسے ہوئی ہے اور اس پر کون کون سے عوامل اثر انداز ہورہے ہیں؟ اور ہم ان کی اصلاح کرنے کی کوشش کریں نہ کہ جو خالق کی طرف سے وحی آئی ہے اس پر نقد کرنا شروع کردیں۔ اگر اس نسبت کے صحیح ہونے کے باوجود ہمیں لگتا ہے کہ یہ ہماری معاشرتی روایات کے خلاف ہے تو پھر ہمیں اپنے معاشرے کی تشکیل اور اس پر اثرانداز ہونے والے عوامل پر غور و فکر کرنا چاہیے کہ یہ کیوں خالق اور اس کائنات کو بنانے والے اور انسان کو بنانے والے کی وحی کے خلاف جا رہے ہیں۔ اگر تب بھی ہمیں یہ لگتا ہے کہ یہ عورت پر ظلم ہے تو پھر ہمیں اپنے عدل اور ظلم کے پیمانوں کو پرکھنا چاہیے اور ان پر غور فکر کرنا چاہیے کہ ہمارے ظلم اور عدل کے پیمانے ہمارے خالق کے عدل اور ظلم کے پیمانوں سے مختلف کیوں ہورہے ہیں؟ اس کے علاوہ کوئی اور تیسرا راستہ نہیں ہے۔ میری تیسری اور آخری گزارش یہ ہے کہ اس دنیا میں بہت سارے لوگ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا نبی تسلیم نہیں کرتے، اور ان کے نزدیک آپ کی بات خدا کی طرف سے وحی نہیں ہے۔

اگر کوئی ایسا شخص فرحت ہاشمی پر تنقید کرتا ہے یا ان کے بیان کردہ دینی مسئلے کی مخالفت کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ علم نفسیات یا معاشرے کے رسم و رواج یا عورتوں کے مزاج کے حوالے سے اس پر گفتگو کرے۔ کیونکہ اس کے نزدیک وحی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کوئی حجت نہیں ہے۔ کسی ایسے شخص کی تحریر پڑھنے سے پہلے بھی، اور کسی ایسے شخص کو بھی تحریر لکھنے سے پہلے اس بات پر غوروفکر کر لینا چاہیے کہ اگر وہ اس حکم کے بارے میں نفسیاتی اعتبار سے تنقید کرنا چاہتا ہے تو وہ خود علم نفسیات سے اور اس میں جو مختلف آراء پائی جاتی ہیں، اور اس میں جو مختلف قسم کے تضادات اور تنوعات پائے جاتے ہیں، ان سے کتنا واقف ہے۔ اگر کوئی معاشرتی حوالے سے اس پر تنقید کرنا چاہتا ہے تو اس کو اپنے معاشرتی علوم کے علم کی جانچ پرکھ کر لینی چاہیے کہ وہ ان علوم میں کتنا ماہر ہے؟ اور خاص طور پر لکھنے والے اور پڑھنے والے ان کو اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہیے کہ جو خاندانی زندگی اور ازدواجی زندگی کے اس شرعی حکم پر تنقید کر رہا ہے، اس کی اپنی ازدواجی زندگی کیسی ہے؟ کیا وہ خود اس زندگی سے آشنا بھی ہے کہ نہیں؟ اور کیا وہ ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزار بھی رہا ہے کہ نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ان خواتین کی طرح جو اپنا گھر نہیں بسا سکتیں اور طلاق لے کے بیٹھی ہوتی ہیں، وہ صبح صبح مارننگ شو میں بیٹھ کر لوگوں کو گھر بسانے کے مشورے دے رہی ہوتی ہیں تو سب سے پہلے اپنی استعداد اور اپنے علم کا جائزہ لینے کے بعد پھر نقد کی طرف آنا چاہیے۔

(صاحب تحریر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں لیکچرر ہیں)