ڈپریشن کیا ہے؟ کیا دواؤں کے بغیر علاج ممکن ہے؟ رضوان اللہ خان

ڈپریشن کوئی اچانک پیدا ہونے والی بیماری نہیں ہے۔ یہ کوئی وبائی بیماری نہیں ہے۔ لیکن اگر ایک نارمل انسان کئی ''ڈپریسڈ'' لوگوں میں وقت گزارے تو بالآخر یہ بھی وبا کی صورت اختیار کرکے نارمل فرد کو بھی ڈپریسڈ کردیتی ہے۔

زیادہ تر ڈپریشن کا سبب چھوٹی چھوٹی پریشانیاں اور قطرہ قطرہ خیالات بنتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک انسان اپنے کاندھے سے رسی باندھے، اور اس رسی کے آخری سِرے پر مقناطیس لگا ہو۔ اب وہ جہاں سے گزرتا ہے۔ طاقتور مقناطیس چھوٹے بڑے ذرات اپنے ساتھ چپکاتا چلا جاتا ہے۔ اگر فرد اس میٹیریل، ان ذرات کو صاف نہ کرتا رہے تو اپنے ہی کاندھوں پر بوجھ بڑھے گا اور بالآخر کندھے جھک جائیں گے۔ ایسے ہی ہمارا دماغ ایک طاقتور مقناطیس کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ روزانہ، چوبیس گھنٹے جگہ جگہ سے مختلف باتیں، مختلف سوچیں، مختلف طعنے، طرح طرح کی گالیاں، قسم قسم کے خیالات، اپنے ساتھ چپکاتا چلا جاتا ہے۔ اب اگر فرد فوری ان خیالات سے چھٹکارا حاصل نہ کرے، تو یہی خیالات، طعنے، گالیاں، باتیں اور سوچیں مل کر ایک لوہے کی دیوار بن جاتے ہیں۔ تب اس دیوار کو توڑنا آسان نہیں رہتا، اب اسے محض پگھلایا ہی جا سکتا ہے، پگھلانے کے اس عمل کے لیے خود کو مکمل تیار رکھنا بے حد اہم ہے۔

یہ کیسے پتہ چلے گا کہ ڈپریشن کی ابتداء ہورہی ہے؟ اگر نیند میں گڑبڑ شروع ہوجائے، ایک ہی سوچ سے متعلق مختلف باتیں روزانہ دماغ کی دہی کریں، ذرا سی بات پر غصہ آنے لگے، کوئی بھی بات بھلائی نہ جائے، پرانی باتیں یاد آئیں اور تنگ کریں، ہر وقت قسمت کا رونا رونے لگے، تنہائی پسند کریں، اور تنہائی میں بے سکونی ہو، زندگی سے تنگ آجائیں اور موت کی آرزو کریں، یا ان جیسی دیگر نشانیاں۔ یہ وہ نشانیاں ہیں جن کی ابتداء ڈپریشن کی ابتداء بھی ہوسکتی ہے، اور ان کی انتہا ڈپریشن کی انتہا بھی بن سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   طلباء میں ڈیپریشن : وجوہات اور علاج - حافظ محمد زبیر

ڈپریشن کی وجوہات کیا ہوسکتی ہیں؟ ڈپریشن کبھی کسی ایک ہی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے تو کبھی یہ وجوہات ایک سے زائد بھی ہوتی ہیں۔ بہت زیادہ سوچتے رہنے والوں اور خاص کر خواتین کو ڈپریشن جلد ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ بعض اوقات اچانک صدمہ اس کی وجہ بن سکتا ہے۔ کسی کا بچھڑنا یا دور ہونا، لوگوں کا رویہ اور گھریلو مسائل، کوئی حادثہ یا جسمانی بیماری، دوست احباب کی کمی، یا آس پاس ڈپریسڈ لوگوں کا موجود ہونا، ڈپریشن اپنے ہی گھر کے بڑوں میں سے بھی منتقل ہوسکتی ہے اور اس کا خدشہ عام آدمی کی نسبت آٹھ سے دس گنا زیادہ ہوتا ہے۔

کیا دواؤں کے بغیر علاج ممکن ہے؟ ذاتی تجربے کے مطابق دو کام سب سے زیادہ مؤثر ہیں: 1) جسمانی محنت: ورزش، جِم، دوڑ لگانا یا وزن اٹھانا اور وہ بھی پورے دل و جان سے۔ اس محنت کے دوران اگر زیادہ سے زیادہ پسینہ بہے اور اس پسینے کے بہنے کے ساتھ۔ یہ خیال کرتے رہیں کہ میری پریشانیاں بھی بہہ گئی ہیں۔ تو آپ کو اپنا آپ پرسکون اور ہلکا محسوس ہونے لگے گا۔ 2) دل کے راز، باتیں اور خیالات خود تک محدود نہ رکھنا: یعنی ایسے خیالات جو ڈپریشن کا باعث بنتے ہیں، انہیں اپنے قریبی دوست احباب سے شئیر کرلینا۔ اسے سائیکو تھراپی بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کی زندگی میں کوئی ایسا شخص جسے آپ سب باتیں کہہ سکیں۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو کسی کاونسلر کے سامنے بیٹھ کر سب باتوں کا اظہار کرنا بھی بہتر ہے۔

اس کے علاوہ: بہتر نیند (چاہے نہ بھی آئے لیکن اٹھنے سے پرہیز)، متوازن غذا، پریشانیوں کو لکھنا، وجوہات تلاش کرکے ان کا سدِباب، مایوس ہونے کے بجائے میسر نعمتوں پر شکر اور اس کا اظہار، اور ہاں دودھ میں شہد ملا کر لینا اور ساتھ سیب کھانا بھی بہترین علاج ہوسکتا ہے۔ اس سب سے بڑھ کر پانچ وقت کی نماز، سورہ فاتحہ اور سورہ یسین کی تلاوت، اور اس دوران اللہ سے پورے یقین کے ساتھ مسائل کا حل مانگنا، لیکن یاد رکھیں ''پورے یقین کے ساتھ''۔

Comments

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان کالم نگار، فیچر رائٹر، مصنف اور تربیت کار ہیں۔ اسلام و پاکستان سے محبت ان کا نظریہ اور اپنی بنیادوں سے جُڑے رہتے ہوئے مثبت و متحرک معاشرہ ان کا خواب ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.