شوق سے نورنظر، لخت جگرپیدا کرو - ڈاکٹر محمد افتخار شفیع

روم کے بادشاہ سروس ٹیولس ( service tullius ) نے۴۳۷ ق م میں فرمان جاری کیا کہ ہر شہر ، قصبے ، اورگاؤں کے باشندے اپنی دیویوں اور دیوتاؤں کے لیے معبد تعمیر کریں اور ہر سال وہاں جمع ہو کر نذرانہ جمع کروائیں ۔ اس سلسلے میں مردوں ، عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں کے لیے مختلف رقوم کا تعین کیا گیا ۔ بہ ظاہر ان لوگوں کے لیے یہ ایک متبرک کام تھا لیکن نذرانے کی رقوم کی گنتی سے بادشاہ کو اپنے عوام کی آبادی کا ٹھیک ٹھیک اندازہ ہو جاتا تھا ۔

انسانی آبادی کی مناسب منصوبہ بندی کے لیے جنسی تفریق ، دیہی اور شہری سکونت ، رنگ و نسل ، پیدائش و اموات ، نقل مکانی ، آبادی کی افزائش اور ازسر نو تقسیم کے کے حوالے سے آج بھی اس طرح کے سروے کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح سے انسانی آبادی کی جانچ پڑتال کر کے حقائق کا سراغ لگایا جا سکتا ہے تاکہ آبادی کی شرح کے لحاظ سے ترقیاتی کام شروع کیے جا سکیں ۔ عصر حاضر میں اس طرح کے تجزیات کے لیے جدید طریقے اختیار کیے گئے ہیں، اب تک اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں اور ایجنسیوں نے اپنے شماریاتی دفاتر سے اس کے متعلق جو معلومات فراہم کی ہیں ۔ ان تجزیوں نے خاصی کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ ان دفاتر کا اولین مقصد انسانی اعداد و شمارسے واضح ہو گیا ہے کہ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کا عدم توازن ایک انتہائی پریشان کن عمل ہے ۔ ماہرین بشریات کے مطابق دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی تو ایک خوف ناک عمل ہے ہی، لیکن اس سے بھی خطرناک بات آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح کے گراف کا مسلسل بلند ہونا ہے۔ مسائل کے یہ یاجوج ماجوج قدرتی وسائل کی دیوار کو اپنی نوک زبان سے مسلسل شکستہ بنا رہے ہیں۔

آبادی میں اضافے کی یہ صورت حال جوں کی توں رہی تو انسانی ضروریات قدرتی وسائل سے کئی گنا بڑھ جائیں گی اور مستقبل قریب میں انسانی آبادی کے بےمحابا اضافے کی وجہ سے نہ رہنے کو زمین ملے گی اور نہ کھانے کو اناج میسر آئے گا۔ بہ قول سید ضمیرجعفری:
شوق سے نور نظر، لخت جگر پیدا کرو - ظالمو! تھوڑی گندم بھی مگر پیدا کرو
آبادی کے اس بےتحاشا اضافے کے اس جن نے آغاز میں چند ممالک کے وسائل کو اپنی لپیٹ میں لیا، اور اب تیسری دنیا کے ممالک سمیت عالمی آبادی کا دو تہائی حصہ اس کا نشانہ بن گیا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت اس موضوع کی اہمیت سے مکمل طور پر آشنا نہیں۔ برٹنڈرسل کے خیال میں دنیا کی آبادی کی شرح نمو میں ہو نے والا اضافہ جوہری بم سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ انسانی آبادی اور قدرتی وسائل میں عدم توازن کے متعدد اسباب ہیں۔ ماہرین نے اس کی تین وجوہات بیان کی ہیں: اموات کی شرح میں کمی، دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی، اور شرح پیدائش میں بے ہنگم اضافہ۔
تیسرا سبب سب سے زیادہ اہم ہے، اس سے پہلے کہ اس پر بحث ہو، ضروری ہے کہ ابتدائی وجوہات پر روشنی ڈالی جائے۔ آبادی کے ان مسائل کا سبب فقط حیاتیاتی نہیں بلکہ سماجی اور معاشرتی بھی ہے۔ قدیم زمانے میں بڑا کنبہ خوش قسمتی کی علامت متصور ہوتا تھا۔

اس سے قبائل کی افرادی اور جنگی قوت میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ بڑے خاندان کی خواہش کے پس منظر میں والدین کی خدمت کا نظریہ بھی موجود تھا۔ انسان نے جب کاشت کاری کی ابتدا کی تو اس میں احساس ملکیت پیدا ہوا، اب اسے زمینوں اور کاروبار کی دیکھ بھال اور بڑھاپے میں سہارے کے لیے زیادہ اولاد کی ضرورت تھی۔ اولاد جائیداد کی وارث ہونے کے ساتھ ماں باپ کے قرضوں کی ادائیگی کی ذمہ دار بھی ہوتی تھی۔ سرمایہ دارانہ نظام میں معاشی حالات کی ابتری اور تنگ دستی بھی آبادی میں اضافے کا سبب ہے۔ کہاوت ہے کہ رؤسا اشرفیوں کے انبار لگاتے ہیں اور غربا بچوں کے۔ جدید فلاحی معاشروں میں بزرگوں کی دیکھ بھال کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک میں معیار زندگی بلندکرنے کی خواہش نے چھوٹے کنبے کا تصور پیش کیا، لیکن عوام الناس کے شعور میں اضافے کی ضرورت تاحال موجود ہے۔ گذشتہ صدی کے دوسرے نصف میں آبادی کی عمر کا ڈھانچہ بھی تبدیل ہوا ہے۔ میڈیکل سائنس کی ترقی نے انسان کی اوسط عمر بڑھا دی ہے۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے لیکن اس کا دوسرا پہلو غریب ممالک میں خاص طور پر پنشن داروں میں جائز حقوق کی عدم فراہمی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

انسان کی اوسط عمر کا طویل ہونا خوش آئند ہے لیکن اس کے ساتھ شرح پیدائش میں ہونے والا مسلسل اضافہ بھیانک صورت حال کو جنم دیتا ہے۔ تقریباُ ہر ملک میں اوسط عمر کی شرح بدل رہی ہے۔ اس سے پیدا شدہ مسائل میں سے ایک فارغ الوقتی بھی ہے، اگر ملازمین کو ساٹھ سال کی عمر میں پنشن دی جائے تو ہر دس میں سے ایک شخص اس کا حق دار ہوگا۔ جب لوگوں کی ایک کثیر تعداد اس طرح گزارہ کر رہی ہو تو ظاہر ہے ملک کے بجٹ پر اس کے برے اثرات مرتب ہوں گے۔ آبادی کی مناسب منصوبہ بندی میں ناکامی کا ایک سبب دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی بھی ہے۔ اگر یہ عمل محدود پیمانے پر ہو تو فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، لیکن اس رجحان میں اضافے کی وجہ سے مرتب ہونے والے منفی اثرات انسانی آبادی کے تقریبا تمام طبقوں کو متاثر کرتے ہیں۔ نقل مکانی کی عمومی وجہ انسان کا معاشی اور سماجی مسائل سے چھٹکارا پانے کا خواب ہے۔ پاکستان میں پچاس سالہ پرانے منصوبوں کے باوجود آبادی میں اضافے کا گراف بلند ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ سماجی اور رواجی غلط فہمیوں کا تدارک نہ ہونا ہے۔ امدادی انجمنوں کی بےکار اشتہاری مہمات اور آئے روز تبدیل ہونے والی پالیسیاں بھی اس ناکامی کا بنیادی سبب ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ضبط تولید کے پروگرام کے کئی دہائیوں سے اجرا کے باوجود خاطر خواہ نتائج پیدا نہیں ہو سکے۔ ہمارے ملک کی شرح پیدائش میں عدم اعتدال کی وجہ سے تعلیم اور صحت کے شعبے میں خاطر خواہ بہتری نہیں لائی جا سکی۔ بے روزگاری میں اضافہ ایک تاریک مستقبل کی خبر دے رہا ہے۔ ہماری افرادی قوت جو کل آبادی کا 83 فیصد ہے اور 25 سے 60 سال تک کی عمر کے افراد پر مشتمل ہے، بےروزگاری کے سبب اپنی صلاحیتوں سے کم مشاہرے پر کام کر رہی ہے۔ حکومت ترقیاتی منصوبے بناتی ہے لیکن آبادی کی غیر فطری شرح نمو کے باعث ان کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس خطرناک اضافے کی وجہ سے ملک کی معاشی تعمیر و ترقی کا کتنا ہی بڑا منصوبہ کیوں نہ تیار کر لیا جائے، عوام الناس کو اس کا فائدہ پہنچنا محال ہے۔ ظاہر ہے جب 21 کروڑ عوام کے لیے ایک مخصوص مدت کا ترقیاتی منصوبہ بنایا جائے گا تو جتنی دیر میں یہ منصوبہ مکمل ہوگا، ملکی آبادی میں آبادی کی شرح نمو میں غیر فطری اضافے کی وجہ سے معاشی ترقی کی رفتار صفر رہے گی۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو ضبط تولید کی اہمیت سے روشناس کیا جائے۔ پاکستان میں شرح پیدائش کی رفتارکو متوازن بنانا ضروری ہے۔اس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

دنیا کی راہ گذر سے انسانی نسلوں کے نہ جانے کتنے قافلے گذرے، آج کی انسانی کامیابیوں اور ناکامیوں میں گذشتہ نسلوں کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ نئی آنے والی نسلوں کو مسائل کے انبار کا تحفہ دینے کے بجائے ان کے لیے آسانیاں پیدا کر جائیں۔ دوسری صورت میں وقت ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آبادی کی شرح کے اس عدم توازن کی وجہ سے مستقبل میں تعلیم اور صحت کی سہولتوں کا فقدان پیدا ہونے کے ساتھ اور مسائل بھی جنم لیں گے۔ آئندہ نسلیں خوراک، زیر زمین پانی کے ذخائر، معدنیات، توانائی کے ذرائع کو ترسیں گی، جنگلات ختم ہو جائیں گے، جانوروں اور پرندوں کی مختلف سپی شیز معدوم ہوجائیں گی۔
ماحولیات کے عالمی ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول پانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس بےہنگم عمل سے مستقبل قریب میں ماحولیاتی آلودگی کی شرح میں چار گنا اضافے کا خدشہ ہے۔ یہاں اس امر کا بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ زیادہ آبادی ہمارے گرد و نواح کے ماحول کے لیے کس قدر خطرناک ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے عوام الناس کو بنیادی معلومات دینے کی ضرورت ہے۔ طبی نقطہ نظر سے بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور بچے، دونوں کی اچھی صحت اور تن درستی کی ضمانت ہے۔

آبادی کی منصوبہ بندی کے دوران پیش آنے والے مسائل کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ انقلابی تغیرات لائے جائیں۔ ماضی میں ہمارے ہاں خاندانی منصوبہ بندی کی مخالفت کی جاتی رہی ہے، لیکن اب رویوں میں خاصی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ معاشی تنگ دستی، بچوں کو اعلی تعلیم دلانے کے تصور، زچہ وبچہ کی اچھی صحت اور معیار زندگی کو برقرار رکھنے کی خواہش نے اگرچہ عوامی سوچ میں تبدیلی پیدا کی ہے، لیکن ابھی اس میدان میں حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے مزیداقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ آبادی میں عدم توازن کے حوالے سے اوپر بیان کردہ اسباب کے حل کے لیے بہ تدریج ان سفارشات پر عمل کرنا ضروری ہے۔ شہروں کی زندگی میں ترتیب لانے کے لیے ان میں آباد کاری محدود کی جانی چاہیے۔ آبادی میں حسن ترتیب کے لیے نئے شہروں کی تعمیر کی جا سکتی ہے۔ اسلامی تاریخ سے اس کی مثالیں دستیاب ہیں۔ ہمارے شاعرمشرق علامہ اقبال نے فرماتے ہیں: کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد
ہمارے وطن کی اکثریتی آبادی زراعت پیشہ ہے، یہ آبادی ماضی میں نہری نظام سے متصل جگہوں پر آباد کی گئی، جہاں زمینیں زرخیز تھیں، اس لیے رقبے کے لحاظ سے آبادکاری کا نظام غیر اطمینان بخش ہے۔

زیادہ سے زیادہ غیرآباد علاقوں میں فیکٹریاں اور کارخانے لگا کر نہ صرف گنجان آبادی کا رخ ادھر موڑا جا سکتا ہے، بلکہ قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔ آبادی کی اس از سر نو تقسیم کے لیے چاروں صوبوں میں اسلامی اخوت اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ شرح پیدائش میں کمی لانے کے لیے مختلف طبقوں کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ علماے کرام اور اساتذہ اس سلسلے میں بھر پور کردار ادا کر سکتے ہیں۔ قانون سازی کرکے فرسودہ رسم و رواج کے زیر اثر ہونے والی صغر سنی کی شادیوں پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں شرح پیدائش اور شرح اموات دونوں زیادہ ہیں، لیکن شرح پیدائش، شرح اموات سے کہیں بلند ہے، اس لیے پاکستان کو بیش آباد (over populated) ممالک کی صف میں شامل کیا جاتا ہے۔ مالتھس (malthus) کے خیال میں نہ تو کسی علاقے کو محض اس کے گنجانی کی وجہ سے بیش آباد کہا جا سکتا ہے اور نہ آبادی کم ہونے کی وجہ سے کم آباد (under populated) قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس کے خیال میں کوئی ملک اس صورت میں بیش آباد ہوتا ہے، جب اس کی آبادی اس کے غذائی وسائل سے کہیں زیادہ ہو اور غذائی قلت دور کرنے کے لیے اشیائے خوردونوش کو درآمد کرنا پڑے۔ جب غذائی قلت دور نہیں کی جاتی تو قدرت کی طرف سے بڑھتی ہوئی آبادی کا بوجھ کم کرنے کے لیے وبائیں پھوٹتی ہیں، اور متعدی امراض پھیلتے ہیں۔ ماہرین معاشیات نے مثالی آبادی (optimum population) کا تصور پیش کیا ہے۔ اگر مذکورہ علاقے کی آبادی اس سے زیادہ ہو تو بیش آباد ہے ورنہ کم آباد کہلائے گا۔ مثالی آبادی کا تعین غذائی ضرورتوں کے بجائے ملک کی مجموعی دولت سے کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی بیش آبادی کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں پیدا ہونے والا ہر نوزائیدہ بچہ ہزاروں روپے کا مقروض ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں فی کس آمدنی دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ کئی لوگوں کو دو وقت کا پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا۔ ہمارے معاشرے میں ایک قابل ذکر تعداد غیر خواندہ، کندہ نا تراش لوگوں کی ہے، جو جدید تقاضوں سے آشنا نہیں۔ اولاد اللہ رب العزت کی نعمت ہے، لیکن اس کی پیدائش کا معاملہ محض تقدیر کو سونپ کر پہلو بچا جانا کہاں کا انصاف ہے؟ اس سلسلے میں خاندانی منصوبہ بندی کے ذریعے ضبط تولید کے اصولوں پر عمل کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔