کبھی اے نوجواں مسلم - سید مصعب غزنوی

آج کے نوجوان اور ان کی ترجیحات دیکھی جائیں تو معاشرے کے مستقبل کے حوالے سے شدید تحفظات لاحق ہوتے ہیں۔ آج کے نوجوان کی ترجیح ہر طرح سے دین سے متصادم اور لادینیت پر مبنی ہے، ان میں قوم اور معاشرے کا وہ درد بھی نہیں جو ہمیں مذہب سکھاتا ہے، بس خود غرضی ہی خودغرضی ہے۔ صرف اپنے مفادات کی فکر ہے، مفادات کسی بھی طرح سے پورے ہو رہے ہوں چاہے وہ مذہب سے متصادم ہی راستہ کیوں نہ ہو، انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔

آج کے نوجوان کا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، پسند ناپسند، ترجیحات گوکہ ہرچیز ہی مغرب زدہ ہے اور انھیں اس بات کا اندازہ بالکل بھی نہیں کہ ان کی یااس روِش کا نتیجہ اور اس کا انجام کیا ہوگا ۔اور وہ ہر بات سے بے خبر اپنی دھن میں وہ سب کرنے میں مصروف ہے جس میں در حقیقت اس کا بہت زیادہ نقصان ہے۔

مذہب کو بالکل ہی پرائیویٹ مسئلہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے، کہ یہ خدا کا اور انسان کا آپسی معاملہ ہے، اس پر کسی دوسرے بندے کو بات کا کوئی اختیار ہی نہیں۔ بلکل سیکولر ہے، اس کے آئیڈیل اور ہیرو بھی سب غیر مسلم ہی ہیں، کچھ ایکٹرز اور کچھ غیر مسلم فضول کھلاڑی۔ آج کا نوجوان دین سے دور ہو چکا ہے، اسے دین کا، اپنی قوم کے ماضی کا اور اسلام کے ہیروز کا کچھ اتا پتا ہی نہیں ہے۔ زبانی کلامی تو مسلمان ہیں، مگر عمل بالکل ہی غیر مسلمانوں والا طرز عمل ہے۔ بس جو نظر آتا ہے اس پر چلنے کا عادی ہے، حقیقت سے بہت ہی دور۔

وہ جس مغربی معاشرہ کی تقلید کرتا ہے، اس کی حقیقت سے بھی وہ نا آشنا ہے۔ یہ نہیں جانتا کہ اپنے اس کلچر اور تہذیب سے تو اہل مغرب خود بہت پریشان ہیں۔ اس تہذیب سے وہاں بہت سے ایسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں جن کا حل تقریباً ناممکن ہے۔ اب تو مغربی دانشوروں نے بھی اسلامی قوانین اسلامی طرز عمل کو صحیح کہنا شروع کردیا ہے اور اپنا نا بھی شروع کردیا ہے، کیونکہ ا نہیں پتہ ہے کہ یہ مغربی تہذیب عنقریب ان سب تباہ کاریوں کی وجہ سے خود بخود ختم ہو جائے گی کیونکہ ایک معاشرے میں اس طرح کی تہذیب کی کوئی جگہ نہیں پائی جاتی۔

یہ بھی پڑھیں:   مذہبی کارڈ ہی کیوں؟ حبیب الرحمن

ہمارے نوجوان اپنے ان تمام ہیروز سے نا آشنا ہیں جنہوں نے اسلام کے لیے بہت زیادہ قربانیاں دیں۔ جن کی قربانی کی بدولت آج ہم سب مسلمان ہیں۔ انہیں اسلام کے وہ ہیرو نہیں یاد جب غزوہ بدر کے موقع پر چھوٹے چھوٹے صحابہ کا جنہوں نے اپنے ایڑیاں اونچی کرلیں تاکہ انہیں کم عمر سمجھ کر جنگ سے باہر نہ کردیا جائے۔ وہ ہیرو جنہوں نے چھوٹی سی عمر میں ہی جرات اور بہادری کی وہ لازوال داستانیں رقم کیں کہ جس کی وجہ سے لادینیت تھرتھر کانپتی تھی۔ جو اپنے رب کی زمین پر اسی کے نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ یہ لوگ اپنے ان ہیروز کو نہیں جانتے ہیں جنہوں نے کفر کے پرخچے اڑا کر رکھ دیے، جن کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا کہ:

دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے

یہ لوگ اس ہیرو کو بھول گئے جو ایک عورت کی پکار پر برصغیر میں داخل ہوتا ہے اور پھر یہاں بھی اسلام کا بول بالا ہو جاتا ہے۔ یہ ان ہیروز کو بھول گئے جو غزنی سے یہاں وارد ہوتے ہیں اور بڑے بڑوں کے غرور خاک میں ملا جاتے ہیں۔ آج کے مسلم نوجوان کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ ہمارے ہیرو وہی لوگ ہیں جو ہمیں ہمارے رب سے، ہمارے نبیؐ سے اور ہمارے دین سے جوڑتے ہیں۔ ہماری دنیا اور آخرت سنوارنے کے لیے بہت عمدہ مثال قائم کرتے ہیں وہی لوگ ہمارے اصل ہیرو ہیں۔ وہ لوگ ہمارے ہیرو ہیں جو اس گئے گزرے دور میں بھی شہادت حق ادا کر رہے ہیں۔ اصل میں ہمارے ہیرو وہی لوگ ہیں جنہیں ہمارا درد ہے، ہماری آخرت کی فکر ہے، ہماری دنیا کی فکر ہے، جو ہماری حقیقی کامیابی چاہتے ہیں، یہی لوگ ہمارے اصل ہیرو ہیں۔ ہمیں انہی کی تقلید کرنی چاہیے، انھی کو اپنا آئیڈیل بنانا چاہیے۔ علامہ اقبال نے اسی جانب متوجہ کیا تھا کہ ''آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرا''۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان کے نوجوان اب بھی لائبریری کے لیے کوشاں ہیں - گہرام اسلم بلوچ

ہمیں اپنی حقیقت کو پہچان کر اس پر عمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے ،اور اس مغرب زدہ ماحول سے اپنے معاشرے کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہے۔ کیونکہ اسلام ہی ہماری بقا کا اصل ضامن ہے۔