مارننگ شوز واقعی لگام ڈالنے لائق ہیں - محمودفیاض

لکس اسٹائل ایوارڈ کی تقریب میں ایک اداکار نے ساتھی اداکارہ کو پروپوز کیا۔ انگوٹھی پہنائی، گلے لگایا، چوما اور ساتھی اداکاروں نے تالیاں بجائیں۔ یہ سب مغرب میں ہوتا ہے، اور نارمل سمجھا جاتا ہے۔ مگر اسلام اور مذہب کو الگ رکھ کر بھی پاکستانی معاشرے کو دیکھیں تو یہ سب اس معاشرے کی اقدار سے میل نہیں کھاتا جہاں آج بھی نوے فیصدی شادیاں خاندانوں کے بیچ طے پاتی ہیں، لڑکی اور لڑکے میں شادی سے پہلے کے تعلقات کو ناجائز اور معیوب سمجھا جاتا ہے اور سرعام بوس و کنار ایک ناپسندیدہ عمل ہے، جس کی اجازت پاکستان میں کہیں نہیں دی جا سکتی۔

سب سے پہلے تو پیمرا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا قصور ہے کہ لکس ایوارڈ کے منتظمین کے خلاف اب تک کوئی چارہ جوئی کیوں نہیں کی گئی۔ یہ ایک فلم کا سین نہیں تھا (گرچہ اس میں بھی حدود ہیں) بلکہ یہ ایک پبلک ٹی وی پر دکھایا جانے والا لائیو شو تھا۔ اس پر ایسی حرکات کی اجازت کیسے دی گئی؟ کیا پاکستانی قوانین اب ہمارے نوجوانوں کو ان اداکاروں کی پیروی میں سڑکوں پر برسرعام بوسہ بازی کی اجازت دیں گے؟ اگر نہیں تو ان کو لکس ایوارڈ کی تقریب پر کارروائی کرنا چاہیے۔ دوسری جانب ہمارے مارننگ شوز کی بیبیاں ہیں، جن کی حرکات اب اس حد پر ہیں کہ ہم جیسے معتدل مزاج بھی چاہنے لگے ہیں کہ مذہبی شدت پسندوں کو ان پر کھلا ہاتھ دے دیا جائے۔ کیونکہ ان حماقت کی پوٹلیوں کو واقعی میں سوائے اپنی ریٹنگ کے کسی چیز کا پتہ نہیں ہے۔

اے پلس پر اس لکس ایوارڈ کی "حرکت" کے بعد مارننگ شو میں میزبان نے اپنے سامنے نوجوان بچیاں بٹھائی ہوئی ہیں، اور وہ ان کو "محبت کے اظہار" کے طریقے سمجھا رہی ہے۔ لکس ایوارڈ میں ہونے والے پروپوزل کو گلیمرائز کر کے ان کمسن ذہنوں میں ڈال رہی ہے۔ خدا کے لیے، سمجھ جائیے۔ ہر معاشرے کی اپنی اٹھان ہوتی ہے۔ اپنی حدود و قیود ہوتی ہیں۔ اپنی اقدار ہوتی ہیں۔ جو انکے اپنے مزاج اور معاشرت سے پھوٹتی ہیں۔ مغرب کی نقالی ہمیں راس نہیں آئے گی۔

ہمارا معاشرہ ترقی پذیر ہے۔ روشن خیال ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم، شادی میں پسند کی آزادی، من پسند پیشے میں جانے کی آزادی، کھیلوں میں شرکت جیسے معاملات میں بہت بہتری آ رہی ہے۔ ایک آدھ جنریشن کی بات ہے، پاکستان میں پراعتماد خواتین بغیر اپنی نسوانیت کھوئے معاشرے کی باگ ڈور میں برابر کی سطح پر آجائینگی۔ مگر اگر آپ یورپ و امریکا کی نقالی پر مصر رہے، یا فنکاری کے نام پر فحاشی کو "ترقی یافتہ" ہونے کی علامت سمجھا گیا، تو اعتدال پسند آوازیں آپ کی وکالت سے دستبردار ہو جائینگی، اور انجام ایران جیسے انقلاب اور معاشرتی بیک گئیر بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ایسے عمل کا ردعمل بھی اتنا ہی شدید ہوتا ہے۔ پاکستان میں جو لوگ اپنی بچیوں کی تعلیم اور اچھے مستقبل کے لیے کوشاں ہیں، ان کے لیے شوبز کے مخصوص شعبے کی مخصوص بے حیائی اور مادرپدر آزادی کی خواہش ناقابل قبول ہے۔ مارننگ شوز کی بیبیوں کی پیمرا کی جانب سے ٹریننگ کرائی جانا چاہیے۔

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.