ٹی وی چیلنوں پر مسلم مسائل پر مکالمات - رفیق احمد سلفی

گزشتہ کئی دنوں سے زائرہ وسیم اور نصرت جہاں پرٹی وی چیلنوں پر ہونے والے مکالمات دیکھ رہا ہوں۔ٹی وی اینکرس ، مہمان علماء اور دین بے زار مسلم خواتین جس انداز میں ان مسائل پر گفتگو کررہے ہیں،اس سے اس ملک میں اسلام اور مسلمانوں کی تصویر خراب ہورہی ہے ۔

کسی مسئلے پر تعلیم یافتہ افراد جس لب ولہجے میں شائستہ گفتگو کرتے ہیں اور اپنے ناظرین اور سامعین کو کسی منطقی اور مثبت نتیجے تک پہنچنے میں مدد دیتے ہیں،بیشتر مکالمات میں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔مجھے معلوم نہیں کہ ٹی وی چینل اپنے یہاں گفتگو کرنے کے لیے کسی کو مدعو کرتے ہیں،تو ان کا معیار کیا ہوتا ہے اور آنے والے مہمانوں کی کیا خدمت کی جاتی ہے اور دعوت دیتے وقت ان کو مسائل کی تفصیل سے کس حد تک آگاہ کیا جاتا ہے لیکن یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ علمائے کرام میں کوئی بڑی شخصیت نظر نہیں آتی ،کسی معتبر دینی جماعت کا نمایندہ نظر نہیں آتا اور نہ ہماری بڑی جامعات ومدارس کا کوئی ایسا معتبر شخص دکھائی دیتا ہے جو اسلام کے زیربحث موضوع پر گفتگو کرنے کے ساتھ ساتھ اس سیاسی وسماجی پس منظر سے بھی آگاہ ہو جس نے ان مسائل کو جنم دیا ہے۔بعض واقف کاروں سے گفتگو کرنے سے معلوم ہوا کہ ٹی وی چینل اپنے یہاں کسی ایسے عالم کو مدعو نہیں کرتے جو ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ وہ کسی ایسے ہی عالم کو دعوت دیتے ہیں جو اپنی کہنے سے زیادہ ان کی سنے .

اور دفاعی پوزیشن اختیار کرکے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرکے ان کے مقصد کی تکمیل کرجائے ۔مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ اگر کبھی کسی ذمہ دار اور باخبر عالم دین نے ٹی وی اینکر اور دوسرے اسلام دشمن اور اسلام بے زار مہمانوں کو ان کی اوقات بتادی تو آیندہ کسی ٹی وی چینل نے اسے اپنے یہاں مدعو نہیں کیا۔اسی طرح دین بے زار جن مسلم خواتین کو یہ چینل دعوت دیتے ہیں،ان کی زندگی اسلامی تعلیمات سے خالی ہے اور وہ براہ راست اسلام کا مطالعہ بھی نہیں رکھتیں ،ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں وہ اسلام کی ہر تعلیم اور اس کی ہر تعبیر کو ’’ملاؤں ‘‘کی طرف منسوب کردیتی ہیں۔مجھے حیرت ہے کہ ایک تعلیم یافتہ خاتون جو خود کو اعلی انسانی قدروں کا حامل اور تہذیب وشائستگی کی دیوی سمجھتی ہے ،وہ اسلام پر گفتگو کرتے ہوئے ’’ملاؤں‘‘کا لفظ کیسے استعمال کرتی ہے ،کوئی اس گالی کو سن کیسے لیتا ہے اور ٹی وی اینکر اس لفظ کے استعمال پر کوئی قدغن کیوں نہیں لگاتا۔اینکر ایک غیر مہذب اور غلط کام یہ بھی کرتا ہے کہ اسلام اور مسلمان کے حق میں کوئی معقول بات سامنے آتی ہے تو درمیان ہی میں مداخلت کرکے گفتگو کا رخ دوسری طرف موڑدیتا ہے۔

*پس چہ باید کرد* دینی جماعتیں اور تنظیمیں اپنی فقہی جزئیات سے اوپر اٹھ کر یہ سوچیں کہ یہاں آپ کا خاص مسلک نہیں بلکہ پورا اسلام خطرے میں ہے،ارتداد کی لہریں ہمارے دروازے تک پہنچ چکی ہیں،مسلمانوں کو ان کے دین کے مسائل سے واقف کرانے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں رہ گیا ہے ،ایک خطبہ جمعہ تھا جسے فقہی تنازعے میں گھسیٹ کر ہم نے بے معنی بنادیا ہے ،بیشتر مساجد میں عربی کے رٹے رٹائے جملے دہرادیے جاتے ہیں اور قصہ تمام ہوجاتا ہے،بعض مساجد میں خطبہ جمعہ سے پہلے اردو تقریر کی جاتی ہے جس میں حاضرین کی تعداد بہت کم ہوتی ہے ۔ضرورت ہے کہ جمعہ کے خطبے کو بامعنی اور بامقصد بنایا جائے اور آدھے گھنٹے کے خطبے میں اسلام کی بنیادی تعلیم سے مسلمانوں کو روشناس کرایا جائے۔ اسلام اور مسلمان دشمن ٹی وی چینلوں کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے اور جو علماء ان پر پہنچ کر اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں،ان سے رابطہ قائم کرکے ان کو صورت حال سے واقف کرایا جائے ۔ ذمہ دار اور بالغ نظر حضرات کو اسلام کی ترجمانی کے لیے یہ ٹی وی چینل مدعو نہیں کریں گے . کیوں کہ ان کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کی تصویر خراب کرنا ہے ،اس لیے ان پر کوئی خاص توجہ دینے کا کوئی حاصل نہیں ہے۔ برننگ ایشوز پر ذمہ دار علماء کی گفتگو شوٹ کی جائے اور اسے سوشل میڈیا کے ذریعے عام کیا جائے ۔کوئی حرج نہیں ہوگا اگر مکالمے میں غلط پروپیگنڈے کا حوالہ دے کر اس کی خامیوں اور غلط بیانیوں کا تجزیہ کیا جائے بلکہ ضرورت پڑے تو ٹی وی اینکر کا نام لے کر اور اسلام بے زار نام نہاد مسلمان خاتون کا حوالہ دے کر اس کی بے ہودہ باتوں کا جواب دیا جائے۔

فوری طور پر اس بات کا امکان تو نہیں ہے کہ ہماری کوئی دینی تنظم ملکی سطح کا کوئی ٹی وی چینل شروع کرسکے لیکن نوجوانوں کا کوئی گروپ اس میدان میں آگے آکر اس خلا کو پرکرسکتا ہے اور وہ اس طرح کہ ہر اٹھنے والے ایشو پر کسی ذمہ دار عالم کا انٹرویو ریکارڈ کیا جائے اور اسے سوشل میڈیا کے ذریعے دور دور تک پھیلایا جائے ۔ ایک سب سے اہم کام کرنے کا یہ ہے کہ مسلم پرسنل لا اور جماعت اسلامی سے وابستہ تعلیم یافتہ خواتین کی مکالماتی گفتگو ہر ایشو پر ریکارڈ کرکے اسے عام کیا جائے ۔ خواتین کے مسائل پر ان کی گفتگو موثر بھی ہوگی اور دور تک سنی بھی جائے گی۔بعض ایسی خواتین بھی ہیں جو ان اداروں سے وابستہ نہیں ہیں لیکن اسلام کو سمجھتی ہیں،اور اس کی ترجمانی بہتر انداز میں کرسکتی ہیں،ان سے بھی رابطہ قائم کیا جائے اور ان کی گفتگو بھی نشر کی جائے۔واعدوا لھم مااستطعتم کے قرآنی حکم کا تقاضا یہی ہے۔ سوشل میڈیا کا استعمال آسان ہے ،بہت سے لوگ ذاتی طور پر یہ کام کرتے ہیں لیکن غیر منظم انداز میں،اسی کام کو اگر منظم انداز میں ایپ بناکر کیا جائے اور کسی بڑی دینی تنظیم اور ادارے کی طرف سے کیا جائے تو سیاسی اعتبار سے بھی اسے اہمیت حاصل ہوگی اور اس کی آواز حکومت کے ایوانوں تک بھی پہنچے گی۔کاش ہم اپنی خود ساختہ ترجیحات کو ترک کرکے اس اہم کام کی طرف متوجہ ہوتے جس سے اس ملک میں اسلام اور مسلمانوں کی تصویر صاف ستھری ہوجاتی اور ہم اپنے دشمنوں کو کرارا جواب بھی دے پاتے۔