کیا میاں نوازشریف کو گھر کا کھانا ملنا چاہیے - محمد عامر خاکوانی

میاں نواز شریف کو گھر کے کھانے کی فراہمی کے حوالے سے میری ذاتی رائے تو یہ ہے کہ جو چل رہا تھا، اسے چلنے دیتے۔ اصولی بات مگر یہ ہے کہ دیگر سزا یافتہ قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک رکھا جا رہا ہے؟ کیا جیل مینوئل سزایافتہ قیدیوں کو روزانہ گھر سے کھانا آنے کی اجازت دیتا ہے؟ کیا کوئی بھی عام قیدی یہ سہولت حاصل کر سکتا ہے؟

اگر یہ جیل مینوئل کے تحت یہ سہولت مل سکتی ہے تو یقینا میاں نواز شریف کو بھی یہ سہولت ملنی چاہیے، حکومت یا کسی کو بھی ان پر پابندی لگانے کا کوئی حق نہیں۔ ایسی ہر پابندی کی سخت مذمت کرنی چاہیے۔ اگر یہ سہولت سزایافتہ قیدیوں کو میسر نہیں تو پھر میاں نواز شریف کو بھی گھر سے کھانے کی سہولت نہیں ملنی چاہیے۔ وہ قانون کے مطابق سزایافتہ قیدی ہیں، ان پر انھی تمام ضابطوں، قوانین کا اطلاق ہوتا ہے جو دیگر پاکستانیوں کا مقدر ہیں۔ وہ مقدس گائے نہیں ہیں اور میرا خیال ہے کہ بطور ایک عوامی سیاستدان کے وہ خود بھی اس بات کو پسند نہیں کریں گے۔

یہ یاد رہے کہ بطور سابق وزیراعظم انہیں اے کلاس ملی ہے، جس میں قیدی کو اچھی خاصی مراعات حاصل ہوجاتی ہیں، ایک مناسب سے ہوٹل کی طرح کی سہولتیں اس میں ملتی ہیں، صاف ستھرا بڑا کمرا، صاف ستھرا اٹیچ باتھ روم، ٹی وی کی سہولت، گرما میں اے سی، سردیوں میں ہیٹر کی سہولت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کام کرنے کے لیے مشقتی۔ جو کھانا وغیرہ بھی بنا کر دیتے ہیں، خود کھانا بنانے کی سہولت تو بی کلاس قیدیوں کو بھی مل جاتی ہے، انھیں کچا راشن مہیا کر دیا جاتا ہے یا وہ اپنے پیسوں سے باہر سے سبزی، گوشت وغیرہ منگوا کر خود بناتے اور کھاتے ہیں۔ اے کلاس قیدی کو نسبتاً زیادہ سہولت میسر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف ڈیل نہیں کریں گے؟ آصف محمود

چینلز پر بار بار یہ ٹکرز چلوائی جا رہی ہے کہ میاں نواز شریف کو پرہیزی کھانا دینے سے حکومت نے انکار کر دیا ہے۔ بھئی پرہیزی کھانا تو نہایت آسانی سے اے کلاس سہولت کے ساتھ میاں صاحب اپنے مشقتی سے بنوا سکتے ہیں۔ پرہیزی کھانا ہوتا کیا ہے؟ کم نمک، مرچ، کم آئل میں پکا کھانا جو مریض کھا سکے۔ اس میں کیا قباحت ہے۔ جیل میں جو مشقتی بی کلاس یا اے کلاس کے ساتھ ذمہ داری نبھاتے ہیں، وہ اچھے خاصے ماہر کک بن چکے ہوتے ہیں، روٹی سے لے کر گوشت، پلائو وغیرہ تک آسانی سے بنا لیتے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ میاں نواز شریف کو خود بھی عزیمت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، دنیا کے کسی بھی قیدی کو جیل میں جو زیادہ سے زیادہ سہولت میسر ہوسکتی ہے، وہ انہیں اے کلاس کیٹیگری کی صورت میں حاصل ہے۔ وہ اپنی پسند کا مینیو ، پرہیزی کھانا اپنے مشقتی سے بنوا سکتے ہیں۔ ن لیگ کے کارکن اپنے لیڈر کو نیلسن منڈیلا کہنا پسند کرتے ہیں، منڈیا نے ستائیس سال جیل کاٹی اور اس دوران کبھی جیل حکام سے کوئی رعایت طلب نہیں کی، وہ اسے کمزوری سمجھتے تھے۔

مریم نواز شریف کو یہ بات سمجھنی چاہیے۔ قوانین سے ہٹ کر والد کو گھر کا کھانا ہر حال میں فراہم کرنے پر ان کا اصرار غلط اور بلاجواز ہے۔ ایسا نہ ہونے پر بھوک ہڑتال کی دھمکی بچکانہ امر ہے۔ یہ ایک بیٹی کی جذباتیت تو ہوسکتی ہے، کسی سیاسی پارٹی کی رہنما کا طرزعمل ہرگز نہیں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.