سنکیانگ جہاں مسلمانوں کے نام تک مٹائے جا رہے ہیں - صالحہ نور

چین کے شمال مشرق میں واقع صوبہ سنکیانگ گذشتہ کئی دہائیوں سے عالمی سطح پر خبروں کا موضوع رہا ہے. پٹرول، گیس، زنک، یورینیم جیسے قدرتی وسائل سے مالامال اس صوبہ کو اسٹریٹیجک اہمیت یوں حاصل ہے کہ اس کی سرحدیں سوویت یونین سے آزاد ہونے والی ریاستوں کرغیزستان، قازقستان اور ترکمانستان سے ملتی ہیں، جہاں اویغور اکثریت میں ہیں۔

اویغور منگولیا اور وسط ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والی اس قوم کا نام ہے جو آٹھویں صدی عیسوی میں سنکیانگ میں آئی۔ حریت پسند اویغور اپنی مذہبی ثقافتی اقدار کی حفاظت اور بقا کے لیے جدوجہد کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں جس کا ابتدائی دور 1759ء تا 1876ء پر محیط ہے، جو 1933ء تا 1944ء ایک کامیاب تحریک کہلائی جاسکتی ہے جس دوران اس کو مشرقی ترکستان کا نام دیا گیا۔ 1949ء میں سنکیانگ مکمل طور پر چین کے زیر انتظام آگیا جس کے بعد وہاں انسانی حقوق کی پامالیوں کا انتہائی دردناک اور ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 10 لاکھ سے زائد اویغور قازق اور دیگر مسلمان چین کے نام نہاد تعلیم نو کیمپس میں محصور ہیں، جہاں ان سے ان کی مذہبی اور ثقافتی شناخت چھینی جارہی ہے۔ برطانوی اخبار انڈپینڈینٹ نے ستمبر 2018 میں چین کے اویغور باشندوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر مشتمل ہیومن رائٹس واچ کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق اویغور مختلف قسم کی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں جیسے کہ مذہبی عبادت کی ادائیگی میں دشواری، پبلک مقامات پر حجاب کی ممانعت، قرآن کریم سمیت دیگر اسلامک لٹریچر کی ضبطی، اسكولز اور سرکاری اداروں میں روزے پر اعلانیہ یا غیر اعلانیہ پابندی شامل ہیں۔

اس کی تصدیق بی بی سی کی حال ہی میں نشر ہونے والی ایک رپورٹ سے بھی ہوتی ہے جس میں بڑی تعداد میں ایسے اویغور باشندوں سے مختصر انٹرویوز لیے گئے جن کے بچے والدین سے الگ یا عزیز و اقارب لاپتہ اور کیمپس میں محصور ہیں۔ ایک قابل ذکر تعداد انسانی حقوق کے کارکنوں اور ثقافت کو محفوظ کرنے کی کوشش کرنے والے مصنفین کی ہے۔ Yalkun rozi جن کا شمار اویغور زبان کے سر کردہ عوامی کاتبوں میں ہوتا ہے . اکتوبر 2016ء میں غائب کردیے گئے۔ 2018ء میں چینی حکام نے بتایا کہ ان کو چینی اقتدار کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے الزامات پر حراست میں لیا گیا ہے. عالمی تنقید کے جواب میں حقائق کے برعکس چینی حکام کا موقف یہ ہے کہ یہ کیمپس دراصل تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی تربیت گاہیں ہیں جہاں ان کو ہنر مند بنانے کے ساتھ چینی قانون اور زبان سے روشناس کرایا جاتاہے . امریکا ترکی انڈونیشیا اور دیگر ممالک میں مقیم اویغور باشندوں کی نمائندہ تنظیمیں چین کے اس موقف کو سختی سے مسترد کرتی چلی آرہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   21 ویں صدی کا سب سے بڑا اور متنازع واقعہ ہے - ایردوان

ضرورت اس امر کی ہے کہ چین اپنے سیاسی اور معاشرتی نظام میں اویغور باشندوں اور دیگر قومیتوں کے ما بین ہم آہنگی اور ان کو مذہبی اور ثقافتی آزادی دینے کے لیے درست اور سنجیدہ اقدامات اٹھاکر ان کو اپنے قومی دھارے میں شامل کرے تاکہ کئی دہائیوں سے جاری اس تکلیف دہ صورتحال کا خاتمہ ہوسکے۔