یہ ماب لچنگ نہیں پولیٹکل لچنگ ہے - غازی سہیل خان

۱۹۴۷ء میں متحدہ ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، ایک حصہ کی بُنیاد سیکولر ازم پر اورایک کی اسلام پر رکھی گئی۔ بھارت جس کی بناء سیکولر ازم پر اس لیے پڑی تھی کہ یہاں مقیم ایک بڑی اقلیت یعنی مسلمان لگ بھگ بیس کروڑ سے زیادہ آباد ہیں۔ اور پاکستان کے حصے میں محض ۴؍ فیصد غیر مسلم ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مشاہدہ کیا گیا کہ پاکستان میں ایک دن کے لیے بھی عملاً اسلام بحیثیت’’ نظام’’ نافذ نہیں ہو سکا، اسی طرح بھارت میں جو کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ہونے کے باوجود ہزاروں بارسیکولر ازام اور جمہوریت کی عصمت تار تارکی جا چُکی ہے جو کہ مسلسل اب بھی جاری ہے۔ سیکولرزم کو تسلیم کرنے کے باوجود بھی ہندوستان نے اسے طاق نسیاں پر رکھا ہوا ہے۔ اگرچہ قانونی طور پر ہر چھوٹی بڑی اقلیت کو اپنے مذہب پر رہنے اور اس کی تبلیغ و اشاعت کی دیگر ممالک کی طرح یہاں بھی آزادی عطا کی گئی، تاہم عملا سب ٹائیں ٹائیں فش ہی ہے۔ اگست ۴۷ء کے بعد کانگریس کی حکومت قائم ہوتے ہی پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے بھارتی آئین کو سیکو لرازم کا غلاف چڑھایا تو تھا، لیکن موجودہ وزیراعظم کی قیادت میں آئی ہوئی سرکار نے آئین کو ہندتوا کی خوفناک چادر میں لپیٹنے کی ایک کوشش کی ہے۔ جس کی جڑیں اس قدر مضبوط کی جا رہی ہیں کہ اب وہاں کی اقلیتیں خوف کی زندگی جینے میں مجبور ہیں۔ چنانچہ ہندتوا کا نظریہ موجودہ حکومت ’’بی جے پی‘‘ کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

تاہم اس کے لیے انھوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک کام کیا جس دوران سینکڑوں فسادات رونما ہوئے، اقلیتوں سے وابستہ لوگوں کی جن میں مسلمانوں بھی ہیں پر بے شمار قسم کے مظالم ڈھائے گئے، جس کی ایک تازہ مثال تبریز انصاری کی دردناک موت بھی ہے۔ اقلیتوں سے وابستہ نوجوانوں کو اپنے شنکجنے میں لے کر بےرحمی کے ساتھ پیٹنا اور مارنا اور بغل میں چھری لیے ہوئے منہ سے شری رام کے نعرے لگا کر اقلیتوں کو خوفزدہ کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ دراصل اس طرح کے دردناک ہجومی قتل کے ذریعے بھارت میں ایک منظم ماحول اس انگریزی مقولے give dog a bad name and kill him کے مصداق بنا کر نہتے مسلمانوں کو قتل کرنے کا جواز گڑھا جا رہا ہے۔ کسی مخالف کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے اسی مقولہ کا عملاً سہارا لے کر اس پر پہلے گھناونے الزامات لگائے جاتے ہیں، جیسے بھارت کے ایک مشہور اسکالر و عالم دین ڈاکٹر ذاکر نائک کے خلاف پہلے میڈیا ٹرائل چلا کر ان کی دعوت کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑا گیا، پھر انھیں دوسری جگہ ہجرت کرنے پر مجبور بھی کیا گیا، تبریز کو چوری کا الزام لگا کر اس کی موت کی راہ کو آسان بنایاگیا۔ دادری کے اخلاق کو یہ کہہ کر ایک ہجوم نے موت کے گھاٹ اُتار دیا کہ اس گھر میں گائے کے گوشت کی موجودگی کا شک پایا گیا۔ جبکہ تحقیق کے بعد یہ معلوم ہوا کہ مقتول کے گھر میں گائے کا گوشت نہیں بلکہ بکری کا گوشت تھا۔ اسی طرح پہلو خان یکم اپریل ۲۰۱۷ ء کو گاؤ رکھشا کے نام پر قتل کر ڈالاگیا۔ ٹرک ڈارئیور زاہد احمد بٹ اور معصوم حافظ جنید کے دردناک قتل کے واقعات اسی ایجنڈے کی دین ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   امریکا نہیں روس جائیں - جاوید چوہدری

جھاڑکھنڈ میں ۲۲ سالہ تبریز انصاری کو چوری کا الزام لگا کر قتل کیا گیا۔ تاہم یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا چوری کی سزا بھارت میں قتل ہے؟ بہرحال تبریز کو بڑی ہی بےدردی کے ساتھ پیٹ کر نیم مردہ حالت میں پولیس کے حوالے کر دیا گیا، جبکہ زرخرید پولیس نے بھی اس نوجوان کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد ہسپتا ل لے جانے کے بجائے بدنام زمانہ مجرموں کی طرح تھانے کی ایک کال کوٹھری میں ڈال دیا اور پھراس کی حالت کو زیادہ بگڑتے دیکھ کر پولیس نے اسے ہسپتال پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں نے بغیر کسی جانچ پڑتال یا ٹیسٹ کے اس کو ٹھیک قرار دے کر پولیس کے حوالے کیا، جس کے بعد یہ نوجوان لگ بھگ پانچ دنوں تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد انتقال کر گیا۔

واحسرتا! دی وائر (The Wire) نیوز کے مطابق تبریز کے لواحقین میں مسرور احمد کا کہنا ہے: ’’جب ہم تبریز کو ملنے تھانے پہنچے تو ہم نے ان کی حالت انتہائی خراب پا کر پولیس آفیسر نامی بپن بہاری سنگھ سے کہا کہ تبریز کی حالت انتہائی خراب ہے اسے جلد ہی ہسپتال لے جانے کی ضرورت ہے ‘‘تاہم پولیس آفیسر نے غضب ناک ہو کر جواباً کہا کہ ’’ یہاں سے بھاگ جائو ورنہ تمہارے بھی ہاتھ پائوں تو ڑکر جیل میں ڈال دیں گے‘‘۔

غرض گائے، جے شری رام، وندے ماترم، بھارت ماتا کی جے کے نام پر آج ہندوستان میں مسلمان کو قتل کرنا آسان کام ہے، جہاں محض ایک آدھ الزام لگا کر کسی نہتے معصوم کو ہجوم کے ذریعے قتل کیا جاتا ہے۔ اس جیسے قتل کو اب عام زبان میں mob lynching (ماب لنچنگ) کہا جاتا ہے۔ اس طرح کی اصطلاحات سے اقتدار کی کرسی پر براجمان حاکموں کو عوامی تنقید سے بچنے کا موقع ملتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اس کو ماب لینچنگ نہیں بلکہ اس کو موبلائز لنچنگ (Mobalize lynching) اور پولیٹیکل لیچنگ (political lynching) کہا جانا چاہیے، کیوں کہ ابھی تک اس طرح کے ہجومی قاتلوں کو عبرتناک سزا نہیں ملی ہے۔ کسی کو وقتی طور اگرگرفتار بھی بھی کیاجاتا ہے تو چند ماہ کے بعد ان کی رہائی کے انتظامات کر کے انہیں پھول مالائیں پہنا کر استقبال کیا جاتا ہے۔

ہجومی قاتلوں کو بچانے کی مثالیں ہمارے پاس بہت ہیں۔ پہلو خان کے چار قاتلوں کو سرکاری نوکریوں سے نوازنا بھی ہے اور پرگیا سنگھ ٹھاکر جیسی مجرمہ بلکہ گجرات میں ہزاروں بےگناہ انسانوں کی قاتل آج کی تاریخ میں مسند اقتدار پر براجمان ہیں۔ ان سارے کربناک مظالم کے خلاف کبھی کبھی بھارت میں مسلمانوں کی نحیف آوازیں سُننے کو تو ملتی ہیں لیکن وہ ایوان اقتدار تک نہیں پہنچ پاتیں، اگر پہنچ بھی پاتی ہیں تو حاکم وقت گھما پھرا کے اُلٹا الزام مقتولین پر ہی دھرتے ہیں۔ تاہم بھارتی آئین میں دفعہ 19 عوام کو اظہار آزادی رائے کا بھر پور حق دیتا ہے۔ لیکن اب تواحتجاج کا حق بھی چھیناجا رہا ہے، حکومت ِوقت کے خلاف تنقید کرنا اب ملک دشمنوں میں شمار ہوتا ہے بلکہ اس طرح کے مظلومانہ قتل کے بعد الٹا مقتولین کو ہی گناہگار کہہ کر دیش دروہی، انٹی نیشنل اور پاکستانی ایجنٹ کے القابا ت سے نوازا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   زائرہ وسیم کا فیصلہ، بھارت میں ہاہا کار کیوں؟ انیلہ افضال

ایک مضمون گزشتہ روز the Milli Gazette میں نظروں میں گزرا جس میں مضمون نگار اس بات کا انکشاف کرتا ہے کہ بہت سارے بھگوا دہشت گرد بابری مسجد کی شہادت کو گناہ نہیں سمجھتے ہیں بلکہ ان کا یہ ماننا ہے کہ بابری مسجدکو گرانا بھارت میں مساجد گرانے کی شروعات تھی اصل کام تو اب شروع ہونے والا ہے۔ یعنی بھارت میں یہ طبقہ ایک ایجنڈے کے تحت ملک میں اس طرح کے حالا ت خراب بنا کر ہندو مسلم بھائی چارے کو زک پہنچانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ ان سارے مظالم کے ردعمل میں بھارت کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ چند سلیم الفطرت غیر مسلموں کی نحیف آوازیں بھی اُٹھتی ہیں۔گزشیہ دردناک واقعہ کے بعد ہندوستان میں بہت سارے غیر مسلموں جن میں صحافی وکلا اور طلبہ وغیرہ نے اس واقعہ کے خلاف بھرپور احتجاج کیا بلکہ بڑے دنوں بعدمسلمانوں نے بھی بھائی چارے، اخوت اور یکتائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندوستان کے مختلف شہروں میں زوردار احتجاج کیے جن میں خاص طور پر مہاراشٹر کے شہر مالیگائوں کا احتجاج ہے جس میں مسلمانوں نے ایک لاکھ سے زائد کی تعداد میں جمع ہو کر احتجاج کیا واضح رہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں انگریزوں نے 97سال پہلے مجاہدین آزادی کو پھانسی دی تھی اور آج بھی اسی یادگار جگہ پر مسلمان بڑی تعدادمیں تبریز انصاری کے انصاف کی خاطردُہایاں دیتے نظر آئے۔

بھلے ہی ہندوستان کے زعفرآنی میڈیا کو ہزاروں اور لاکھوں کا یہ احتجاج نظر نہ آئے ہوں لیکن دنیا نے یہ دیکھ لیا کہ کس طرح سے جمہوریت کی دعویداری کرنے والے ملک میں نہتوں کا بے درانہ تریقے سے قتل کیا جاتا ہے ۔ جس ملک میں اس طرح کی پیچیدہ صورتحال ہو تو وہاں مسلمانوں کو فرقہ پرستی ،مسلک اور جماعت پرستی سے باہر نکل کر ایک قوم بن کر ان سارے مظالم کا حکمت سے مردانہ وار مقابلہ کرنا ہوگا اور اُن مسلمانوں کو بھی ہوش کے نا خن لینے ہوں گے جو شعوری یا غیر شعوری طور ہندوتوایجنڈے کے لئے کام کر رہے ہیں وہ اسی دین فطرت کی طرف لوٹیںجو امن ،بھائی چارہ ہمدردی ور غمخواری کا درس دیتا ہے۔ نہ صرف مسلمانوں بلکہ بھارت کی تمام اقلیتوں کو اپنے اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی صلاحتیوں کو بڑی ہی بے باکی سے ستعمال میں لا کراس ظلم کے خلاف بیداری مہمیں چھیڑ دینی چاہییں تاکہ ہمیں کسی اور تبریز کی مظلومانا شہادت کو نہ دیکھنا پڑے ۔ وگرنہ وہ دن دور نہیں جب لٹی پٹی اقلیتوں جن میں خاص کر مسلمان ہیں کو ہجرت کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ اللہ مسلمانوں کے حال پر رحم کھائے۔ آمین