ڈراموں میں اسلامی شعائر پر لگائی جانے والی ضرب - زبیر منصوری

اگرکوئی آپ کو بتائے کہ میں نے آپ کے بیٹے کو محلے کے لفنگے لڑکوں کے ساتھ بیٹھے دیکھا ہے،اگر کوئی آپ کو بتائے کہ آپ کی بیٹی کی گیدرنگ اچھی نہیں ہے، تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا ؟ فکرمندی، پریشانی رات کی نیند غائب، کیا کروں؟ کیسے سمجھاؤں؟ کیسے بچاؤں؟

تو جناب یہ لیجیے، یہ پڑھیے۔ دنیا کے گندے ترین خیالات کو بھاری فیس لے کر پیشہ ورانہ مہارت سے پُر کشش ڈراموں میں ڈھال کر مہنگے ترین کیمرہ مینوں اور کروڑوں کے کیمروں سے شوٹ کر کے ٹی وی کے پرائم ٹائم پر وقت خرید کر پیش کر کے آپ کے بیٹے بیٹی اور بیوی شوہر کو عین گھر کے بیڈ روم اور ڈرائنگ روم میں بگاڑا جا رہا ہے اور آپ لگے ہیں سیاسی شو بازی دیکھنے میں، جب تک وہاں کچھ ہوگا یہاں بچانے کو کچھ بھی نہ رہے گا۔

گندے نالے کا بند ٹوٹ چکا، بدبو دار پانی گھروں میں داخل ہو چکا، ہمارے استاد کے بقول جو گھر میں ٹی وی رکھتا ہے وہ چاہتا ہے اس کی اولاد بگڑے، اور جو اوپن کیبل رکھتا ہے وہ ۔۔۔۔۔! میں دہرانے سے قاصر ہوں۔! خبریں سننے اور بچوں پر بھروسہ کرنے وغیرہ وغیرہ جیسے دلائل والے دوستوں سے معذرت، میں اپنی آنکھوں سے دینی گھر انے برباد ہوتے دیکھ چکا ہوں۔

اب آئیے صرف ایک موضوع پر خاندان کے نظام پر پڑتی ضربین دیکھ لیجیے۔

ہم چینل کے ایک ڈرامے ” پاکیزہ“ میں *طلاق کے بعد بیٹی کا بہانہ بنا کر طلاق کو چھپایا گیا اور سابق خاوند کے ساتھ رہائش رکھی جبکہ بیٹی چھوٹی نہیں، شادی کے قابل عمر کی ہے۔

② اے پلس کے ڈرامے ”خدا دیکھ رہا ہے“ میں طلاق کے بعد شوہر منکر ہو جاتا ہے اور مولوی صاحب سے جعلی فتوی لے کر بیوی کو زبردستی اپنے پاس روک کے رکھتا ہے جبکہ بیوی راضی نہیں ہوتی۔

③ اے آر وائی کے ڈرامے ”انابیہ“ میں *شوہر طلاق کے بعد منکر ہو جاتا ہے جبکہ والدہ اور بہن گواہ تھیں۔ بیوی والدین کے گھر آجاتی ہے۔ شوہر اسے دوبارہ لے جانا چاہتا ہے۔ لڑکی خلع کا کیس دائر کر دیتی ہے اور فیصلہ ہونے کے باوجود صرف اپنی بہن کا گھر بسانے کی خاطر اسی شخص کے پاس دوبارہ جانے کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فاطمہ سہیل کی بہادری اور کولگیٹ کا اعتماد - افشاں نوید

④ ہم چینل کے ایک اور ڈرامے ”ذرا یاد کر“ میں *طلاق کے بعد حلالہ کے لیے لڑکی خود شوہر تلاش کر رہی ہے تاکہ دوسری شادی کرکے اس سے طلاق لے کر پہلے والے شوہر سے دوبارہ شادی کر سکے۔ جبکہ باقاعدہ پلاننگ کر کے حلالہ کرنا ناجائز ہے۔ اسلامی حکم یہ ہے کہ اگر طلاق دے دی جائے تو لڑکی دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔ اور اگر کسی وجہ سے وہ دوسری شادی ختم ہو جائے تو اگر وہ چاہے تو پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے مگر پلان کر کے نہیں۔

⑤ جیو کے ایک ڈرامے ”جورو کے غلام“ میں ایک بیٹے نے باپ کی بات مانتے ہوئے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور پھر ایک شخص کو رقم دے کر اپنی بیوی سے نکاح کروایا تاکہ دوسرے دن وہ طلاق دے دے اور یہ خود اس سے نکاح کر سکے۔

⑥ ہم چینل کے ایک تیسرے ڈرامے ”من مائل“ میں لڑکی طلاق کے بعد اپنے والدین کے گھر جانے کے بجائے اپنے چچا کے گھر ان کے بیٹے کے ساتھ رہتی ہے* جبکہ چچا اور چچی گھر پر نہیں ہیں۔ وہ بعد میں اطلاع سن کر آتے ہیں۔

⑦ ہم چینل ہی کے چوتھے ڈرامے ”تمھارے سوا“ میں میں لڑکے کے دوست کی بیوی کو کینسر ہوتا ہے۔ اس کے پاس علاج کے لیے رقم نہیں تو پلاننگ کے تحت لڑکا اپنے دوست سے طلاق دلوا کر خود نکاح کر لیتا ہے اور آفس میں لون کے لیے اپلائی کر دیتا ہے۔ اس دوران وہ لڑکی اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ ہی بغیر عدت گزارے رہتی ہے۔ اور اس کا پورا خیال رکھتی ہے۔

سب جانتے ہیں کہ ٹی وی عوام الناس کی رائے بنانے کا ایک مؤثر ہتھیار ہے۔ اور پرائم ٹائم میں پیش کیے جانے والے ڈرامے اور ٹاک شوز کو عوام کی ایک بڑی تعداد دیکھتی ہے۔ خاص طور پر پاکستان کی۵۰ فیصد سے زائد آبادی دیہاتوں میں موجود ہے اور دیہات میں ٹی وی تفریح کا بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ھے . ایسے میں ایک پوری پلاننگ اور تھیم کے تحت ڈراموں کے ذریعے اسلامی احکامات کو تروڑ مروڑ کر پیش کرنا، اس طرح کے سوالات اٹھانا اور لوگوں میں کنفیوژن پیدا کرنے کا مقصد عوام کو اسلام سے دور کرنا اور اسلامی تعلیمات پر پکے بھروسہ کو متزلزل کرنا ہے ۔ کیا وزارت اطلاعات و نشریات کا کوئی بورڈ ایسا نہیں جو فلم یا ڈرامے کو پکچرائز کرنے سے قبل چیک کرے اور اس کی منظوری دے؟ کیا حکومت نے ایسی کوئی ایڈوائزری کمیٹی تشکیل نہیں دی جو ان مالکان کو ایڈوائز دے؟

یہ بھی پڑھیں:   فاطمہ سہیل کی بہادری اور کولگیٹ کا اعتماد - افشاں نوید

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ حدود اللہ اور شرعی احکامات کی اتنی کھلم کھلا خلاف ورزی پیمرا کے علم میں کیوں نہیں آتی اس پر کوئی رکاوٹ کیوں نہیں؟ کیا ہمارے چینلز اور ان کے مالکان اپنی آزاد پالیسی رکھتے ہیں کہ جو چاہے دکھا دیں۔ کوئی ان کو چیک کرنے والا ۔ روکنے والا نہیں ہے۔ ٹی وی ڈراموں میں بےحیائی عروج پر ہے۔ صاف لگتا ہے کہ یہ ﺳﺐ ﺑﺎﻗﺎعدہ ایک ﻣﻨﻈﻢ ﺳﺎزش ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ہو رہا ہے۔ ڈراموں‌میں دیور بھابھی کا چکر، بیوی کے پہلے بوائے برینڈ کے ساتھ تعلقات، شوہر کا بیوی کو پہلی محبت پانے میں مدد فراہم کرنا، بھائی کا بہن کی مدد سے لڑکی پھنسانا، یہانتک کہ ہم جنس پرستی کے موضوع پر بھی ڈرامے بننے لگے ہیں۔

ان موضوعات پر بنائے جانے والے ڈراموں کے ذریعے نئی نسل کی ایسی ذہنی نشونما کی جارہی ہے جس کے آنے والے وقتوں‌ میں‌ بڑے ہی بھیانک نتائج نکلیں‌گے۔ ان چینلز کو اب فیملی چینلز کہنا مناسب نہیں رہا۔ اس کھلی بے حیائی پر مذہبی طبقوں کی خاموشی بھی تشویشناک ہے۔ ہمیں بظاہر چھوٹے دکھائی دینے والے مگر بہت ہی حساس مسئلہ کی طرف غور کرنا ہوگا۔ کل پچھتانے سے بہتر ہے آج آواز اٹھاؤ ... آگے بڑھو ...سوچو اپنے لیے ... اپنے وطن کے لیے ... اپنے بچوں کے لیے ... اپنی آخرت کے لیے .. چھوڑ دیں یہ ڈرامے دیکھنا... آپ لوگوں کے دیکھنے کی وجہ سے ان کو ریٹنگ ملتی ہے اور وہ مزید ڈرامے بناتے جا رہے ہیں۔ یاد رکھیے کہ اس "ثوابِ دارین" میں آپ کا حصہ بھی ہوگا۔

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.