مغرب ۔۔۔ اور کردار کا بُحران - مارک مینسن …ترجمہ : عمر ابراہیم

اس کا انحصار تمہارے نکتہ نظر پر ہے، کہ آیا تم فلسفی ایمانویل کانٹ کو انتہائی غیر دلچسپ آدمی سمجھتے ہو یا انتہائی زرخیز ذہن کا حامل فرد قرار دیتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ چالیس سال تک یہ شخص گھڑی کی سوئی کی مانند ایک سے روزمرہ پر بلاتعطل چلا ہے۔ صبح پانچ بجے اٹھتا، مسلسل تین گھنٹے لکھتا، پھر ایک جامعہ میں مسلسل چارگھنٹے لیکچر دیتا، اور پھر ایک ہی ریسٹورنٹ میں مقرر وقت پر کھانا کھاتا، سہ پہر میں ایک ہی رستے سے ہوتا ہوا ایک ہی پارک میں چہل قدمی کرتا، اور مقرر وقت پر گھر لوٹ جاتا۔

اُس نے چالیس سال تک ہر دن اسی معمول پرعمل کیا ۔ کانٹ اپنی ذات میں مجسم ذہانت تھا۔ وہ اپنی عادات میں انتہائی میکانیکی تھا۔ پڑوسی مذاقاً کہا کرتے تھے کہ جب وہ (کانٹ) گھر سے نکلتا تھا، تو وہ اپنی گھڑیوں کے وقت صحیح کرلیا کرتے تھے۔ وہ چہل قدمی کے لیے ٹھیک سہ پہر تین بج کر تیس منٹ پر روانہ ہوتا تھا۔ بیشتر زندگی اُس نے رات کا کھانا ایک ہی دوست کے ساتھ کھایا ۔ ٹھیک دس بجے وہ سوجاتا تھا ۔ باوجود اس کے کہ کانٹ انتہائی غیر دلچسپ آدمی معلوم ہوتا ہے، وہ انسانی تاریخ کا بہت اہم اور بااثر مفکر ہے۔ اور پروشیا میں اُس نے ایک کمرے کے اپارٹمنٹ سے دنیا کی تاریخ متعین کی ہے، وہ کسی بھی بادشاہ، صدر، وزیراعظم، یا جرنیل سے زیادہ اثرانگیز ثابت ہوا ہے (1)۔ اگر تم کسی جمہوری معاشرے میں رہتے ہو جہاں فرد کی آزادی کا تحفظ کیا جاتا ہے، توکانٹ کا شکریہ ادا کرو، وہ اُن مفکرین میں سرفہرست تھا جو کہتے تھے کہ تمام انسانوں کی سرشت میں عزتِ نفس ودیعت ہے، جس کا ادراک اور احترام ہونا چاہیے۔ وہ پہلا فرد تھا جس نے عالمی حکومت کا تصور پیش کیا، کہ جو دنیا میں امن اور سلامتی ممکن بناسکے (یہی وہ آئیڈیا تھا جس نے بعد میں اقوام متحدہ کی تشکیل کے لیے راہ ہموار کی)۔

خلا اور وقت (زمان و مکان) پرکانٹ کے نکتہ نظر نے آئن اسٹائن کو متاثر کیا، اور ریلیٹوٹی کی تھیوری وجود میں آسکی ( یہاں یہ وضاحت ناگزیر ہے کہ مارک مینسن کا تاریخی تناظر مغربی ہے۔ ایمانویل کانٹ کی کاوشیں یورپ کے لیے علمی اکتشافات ضرور تھے، مگر یہ دنیا کے لیے نئے نہ تھے۔ انسان کی عزتِ نفس کا احترام، اس کی جان کا احترام، اور عالمی سلامتی کا ایجنڈا قرآن حکیم کی تعلیمات میں صدیوں سے مشرق کی میراث رہا ہے۔ یہاں تک کہ یورپ کی فکری آبیاری بھی مسلم اندلس ہی میں ہوئی تھی، تاہم مصنف مارک مینسن ’استشراقیت‘ کی عام غلطی ہر مضمون میں دہرا رہے ہیں: یورپ کی تاریخ کو عالمی تاریخ سمجھنے اور سمجھانے کی غلطی۔ مترجم)۔ کانٹ وہ پہلا فرد تھا جس نے جانوروں کے حقوق کی طرف توجہ دلائی۔ اُس نے فلسفۂ جمالیات کی ازسرنو تعبیر کی۔ اُس نے محض دوسو صفحات میں دوصدیوں پرانا قضیہ چکادیا، عقلیت پرستی (Rationalism) اور تجربیت (Empiricism) کے درمیان بحث نمٹادی۔ اور یہ سب ہی کافی نہیں۔ کانٹ نے وہ فلسفۂ اخلاق دیا، جس نے ارسطو کے وقت سے رائج وہ سارے نظریات، جن کی جڑیں مغربی تہذیب میں تھیں، اکھاڑ پھینکے۔

اگر حسیاتی دماغ کے بازو ہوتے، توکانٹ ذہانت کا مسٹر اولپمیا ہوتا! وہ اپنے طرزِ زندگی میں بہت سخت اور تصورِ جہاں میں بالکل اٹل تھا۔ اُس کا یقین تھا کہ صحیح اور غلط بالکل واضح ہیں، ایک ایسا اقداری نظام جو انسانی جذبات و احساسات سے باہر کام کرتا ہے۔ مزید یہ کہ اُس نے جس بات کی تعلیم دی، اُس پر من وعن عمل کیا۔ بادشاہوں نے اسے سینسر کرنے کی کوشش کی۔ پادریوں نے اس کی مذمت کی۔ پڑھے لکھے دانشوروں نے اُس سے حسد کیا۔ مگر کچھ بھی اُسے سرنگوں نہ کرسکا۔مجھے یہ وہ واحد مفکر ملا، جس نے ’تلخ سچ‘ (مایوسی) کا سامنا کیا، اور اس کے ہولناک اثرات قبول کرنے سے انکار کیا۔ کانٹ منطق اور عقلی دلیل سے مسلح تھا۔
زندگی کے لیے ایک ہی اصول : اپنی زندگی کے آغاز میں ہی کانٹ نے زندگی کی ’ تلخ سچائی‘ کے مقابلے میں امید کی لو جلائے رکھنے کا فن سیکھ لیا تھا۔ ابتدا میں وہ ہر ایک کی طرح اس کائناتی کھیل سے تنگ آچکا تھا، مگراُس نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ کانٹ نے یہ یقین کرنے سے انکار کردیا کہ وجود کی کوئی خلقی اہمیت نہیں ہے۔ اُس نے یہ ماننے سے صاف انکارکردیا کہ ہمیں زندگی کے لیے معنی گھڑنے کی کوئی ضرورت ہے۔

اُس نے اُمید کے بغیر زندگی میں قدر پیدا کرنے کی ٹھانی۔ عام سے مشاہدے سے اُس نے آغازکیا۔ ساری کائنات میں جوشے سب سے منفرد اور بے مثال ہے، وہ ہے انسانی شعور۔ کانٹ کے نزدیک ساری کائنات میں انسان کو جو چیز ممتاز بناتی ہے، وہ یہی شعور ہے، عالمِ رنگ وبو کو سمجھنے کی اہلیت ہے۔ اُس کے نزدیک یہ بہت ہی خاص بات ہے… ایک معجزہ! کیونکہ اس لامحدود کائنات میں صرف ہم ہیں (جتنا کہ ہم جانتے ہیں) جو وجود میں ہدایت کا شعور اور اہلیت رکھتے ہیں۔ معلوم کائنات میں صرف ہم ہیں جو تخلیق کی صفت رکھتے ہیں۔ صرف ہم ہیں جو اپنی تقدیر کی راہ متعین کرسکتے ہیں۔ صرف ہم ہیں جو اپنا بھرپور احساس رکھتے ہیں۔ ہم واحد ہیں جو خود کو منظم کرنے کے لیے آزاد ہیں
(2)۔ لہٰذا کانٹ کی منطق یہ ہے کہ کائنات کی سب سے اعلیٰ قدر اُس کی ہے جو اپنی قدر کا ادراک کرسکے۔ وجود کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ معنی متعین کرنے کی صلاحیت حاصل ہو۔ معنی کے انتخاب کی یہ اہلیت، اہمیت کا تصور، اور مقصد کا تعین ہی وہ اصل قوت ہے، جومعلوم کائنات میں صرف ہمیں حاصل ہے۔ کانٹ کو یقین تھا کہ کائنات معقولیت کے بغیر، مقصدیت کے بغیرکارِ زیاں ہے، بے کار ہے۔ شعور اور ذہانت کی آزادی کے بغیر ہم محض بے جان پتھر ہیں۔

مگر شعورکائنات کو ازسرِنو منظم کرسکتا ہے۔ ہزار سال میں ہم غاروں سے نکل کر ڈیجیٹل دور میں داخل ہوئے۔ آئندہ ہزار سال میں ہم ستاروں کے درمیان پہنچ سکتے ہیں۔ مگر یہ کام کوئی تنہا شعور نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے اجتماعی شعور کی ترقی ناگزیر ہے۔ کانٹ کے نزدیک یہ ہم سب کی اخلاقی ذمے داری ہے کہ اجتماعی شعور کی ترقی زیادہ سے زیادہ ممکن بنائیں۔ وہ اسے ’انسانیت کا فارمولا‘ کہتا ہے۔ وہ اسے کلاسیکی خوبی کا تصور سمجھتا ہے۔ انسانیت کا یہ فارمولا کہتا ہے: کوئی بھی عمل تمہاری اپنی ذات کے لیے یا کسی اور کے لیے مقصدیت کی خاطر ہونا چاہیے، نہ کہ بطور ذریعہ۔ اس میں کسی قسم کی مفاد پرستی نہیں ہونی چاہیے۔ امید کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ کسی صلے سے جُڑی ہوتی ہے۔ یہ مت کھاؤ، جنت میں جاؤ گے۔ کسی کو قتل نہ کرو ورنہ سزا پاؤگے۔ محنت کرو اور پیسہ کماؤ تاکہ راحت پاؤ وغیرہ وغیرہ۔ امید کے اس چکر سے ماورا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہرعمل غیر مشروط ہوجائے۔ تم محبت کرو مگر بدلے میں محبت کی توقع نہ رکھو، ورنہ یہ سچی محبت نہ ہوگی۔ تم کسی کا احترام کرو مگر صلہ نہ مانگو، ورنہ تمہارا احترام سچا نہ ہوگا۔
دیانت داری سے بات کرو خواہ کوئی پیٹھ تھپکائے یا نہیں، ورنہ تم صحیح معنوں میں دیانت دار نہیں۔ کانٹ ان غیر مشروط اعمال کو ایک جملے میں یوں سمیٹتا ہے: تم انسانیت سے کام لو تاکہ کسی نتیجے تک پہنچ سکو، نہ یہ کہ اسے اپنے مفاد کا ذریعہ بنالو۔

اپنے مفاد کے لیے کسی سے جھوٹ بولنا یا دھوکا دینا غیر اخلاقی حرکت ہے۔ اسی طرح کوئی تمہیں اپنے مفاد کے لیے استعمال کرے تو یہ بہت ہی بُرا ہے! یوں انسانیت کا یہ فارمولا کسی امید پر انحصار نہیں کرتا۔ یہ کسی مستقبل کے یوٹوپیا کی امید نہیں دلاتا۔ یہاں صرف شعور کا احترام اور تحفظ مقصود ہے۔ کہانی ختم۔ (یہ فارمولا علمی اور عملی دونوں اعتبار سے یکسر غیر منطقی اور غیر فطری ہے۔ ہر عمل ایک ردعمل پیدا کرتا ہے، اچھا ردعمل ہی عمل کو جواز مہیا کرتا ہے، اس کی قدر وقیمت متعین کرتا ہے، انسان امید سے ماورا ہو ہی نہیں سکتا، انسان صرف نااُمید ہوسکتا ہے، جیسا کہ آگے چل کر مسٹر مینسن ’کردار کے بحران‘ میں خود بین السطور تسلیم کررہے ہیں۔ مترجم)
جدید تہذیب کا بحران : جدید جمہوریت اس گمان پر وضع کی گئی کہ فرد خودغرض اور دھوکے باز ہوتا ہے، اس لیے ہمیں اپنے تحفظ کے لیے ایسا نظام تخلیق کرنا چاہیے جس میں سب کے مفادات باہم جُڑے ہوں، اور کوئی فرد یا گروہ پوری آبادی پر حاکم نہ بن بیٹھے۔ سیاست سودے بازی اور خودغرضی کا کھیل ہے، اور جمہوریت اس لیے واحد طرزِ حکمرانی ہے کہ وہ اس حقیقت کوکھل کر تسلیم کرتی ہے۔

یہ تسلیم کرتی ہے کہ طاقت کا مرکز بددیانت اور احمق لوگوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ اقتدار اور قوت اپنی فطرت میں رہنماؤں کو سودے باز بناتے ہیں۔ لہٰذا اسے منظم کرنے کا واحد طریقہ اخلاقی خوبیوں کی ایسی ڈیزائننگ ہے، جسے تتربتر نہ کیا جاسکے۔ اظہارِ رائے کی آزادی، ذرائع ابلاغ کی آزادی، اور منصفانہ مقدمہ بازی وغیرہ کا نفاذ ہی معاشرتی ڈھانچے میں انسانیت کا فارمولا ہے۔ یہاں صرف ایک ہی شے ہے جو اس نظام کے لیے خطرہ ہے، اور وہ ہے سیاسی انتہاپسندی۔ جب کوئی گروہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اُس کی اقدار جمہوری اقدار سے افضل ہیں، اور وہ جمہوری نظام اُلٹ دینا چاہتا ہے، اور یوں سیاسی انتہاپسندی پروان چڑھتی ہے۔ سیاسی انتہاپسندوں سے مذاکرات ناممکن ہیں، کیونکہ وہ بالکل بچکانہ طرزِ فکر کے حامل ہیں۔ انتہاپسند اپنے نظامِ اقدار کے باہر کچھ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ مکمل آمرانہ طرزِ حکومت چاہتے ہیں۔ انتہائی خطرناک انتہا پسند اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہیں کس طرح اپنی اقدار کو کائناتی بناکر پیش کرنا ہے۔ ایک دائیں بازو کا انتہا پسند یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ آزادی کے حق میں ہے، اور اس آزادی کی خاطر وہ قربانیاں دینے کے لیے تیار ہے۔ مگر وہ یہ آزادی دوسروں کی آزادی سلب کرنے کے لیے کرتا ہے۔ لہٰذا وہ اپنی آزادی کے نام پر دوسروں کی آزادی غصب کرنا چاہتا ہے۔

بائیں بازو کے انتہا پسند بھی یہی کھیل کھیل رہے ہیں، صرف زبان اور الفاظ کا فرق ہے۔ ایک بائیں بازو کا انتہا پسند کہتا ہے کہ وہ سب کے لیے یکساں سلوک چاہتا ہے۔ مگر اس سے اُس کی مراد یہ ہے کہ کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے، کوئی آزمائش میں نہ پڑے، اور کسی کو کوئی احساسِ کمتری نہ ہو۔ وہ نہیں چاہتا کہ کسی کو اخلاقی تفریق سے کوئی فرق نہ پڑے۔ اور وہ اس اخلاقی اونچ نیچ کومٹانے کے لیے دوسروں کو ایذا دینا چاہتا ہے اور اُن سے باقاعدہ دشمنی بھی اختیارکر لیتا ہے۔
انتہا پسندی، دائیں اور بائیں دونوں جانب، چند دہائیوں سے پوری دنیا میں سیاسی طور پر بہت نمایاں ہوچکی ہے۔ بہت سے چالاک لوگ اس کی مبالغہ آمیز وضاحتیں کرتے ہیں۔ مگر مجھے کہنے دیجیے کہ: ہماری ثقافت (تہذیب) زوال پذیر ہے۔ پوری امیر اور ترقی یافتہ دنیا میں، ہم مال وزر اور وسائل کی فراوانی کے باوجود ’کردار کے بحران‘ میں مبتلا ہیں، یہ اچھائی کا بحران ہے، یہ مقصدیت کا بحران ہے۔ اکیسویں صدی کا سیاسی بحران محض دائیں بائیں بازوؤں کی کشمکش نہیں ہے، بلکہ مجموعی اقدار کا بحران ہے۔ یہ اب سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم کی بحث نہیں ہے، یہ محض آزادی اور مساوات کا بحران بھی نہیں ہے۔ یہ سنجیدگی کا غیر سنجیدگی سے، اور مفادپرستی کا مقصدیت سے تصادم ہے(3)۔

حواشی : 1) مارک مینسن ایمانویل کانٹ کی اہمیت کو عمومیت دے رہے ہیں۔ یہ مبالغہ آرائی ہے۔ یورپ اور فلسفہ کی تاریخ تک یہ دعویٰ کسی قدر درست ہوسکتا ہے۔
2)’’پڑھو (اے نبیؐ) اپنے ربّ کے نام کے ساتھ، جس نے پیدا کیا، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو، اور تمہارا ربّ بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا۔ ‘‘(سورہ العلق)۔ ’’ ذرا اُس وقت کا تصور کرو جب تمہارے ربّ نے فرشتوںسے کہا تھاکہ’’میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں‘‘ انہوں نے عرض کیا ’’کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں، جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرے گا؟ آپ کی حمد و ثناء کے ساتھ تسبیح اور آپ کے لیے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں‘‘۔ فرمایا ’’میں جانتا ہوں، جو کچھ تم نہیں جانتے‘‘۔ اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا ’’اگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا) تو ذرا ان چیزوں کے نام بتاؤ‘‘۔ انہوں نے عرض کیا ’’نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے، ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں جتنا آپ نے ہم کو دے دیا ہے۔ حقیقت میں سب کچھ جاننے والا اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں‘‘۔ پھر اللہ نے آدم سے کہا ’’تم اِنہیں اِن چیزوں کے نام بتاؤ‘‘۔

جب اُس نے ان کو اُن سب کے نام بتادیے، تو اللہ نے فرمایا ’’میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں، جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، وہ بھی مجھے معلوم ہے، اور جو کچھ تم چھپاتے ہو، اُسے بھی میں جانتا ہوں‘‘۔ پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جھک جاؤ، تو سب جھک گئے، مگر ابلیس نے انکار کیا‘‘۔ (البقرہ)
3) آخری پیراگراف سے واضح ہوتا ہے کہ ’کردار کے بحران‘ نے ایمانویل کانٹ کا ’انسانیت کا فارمولا‘ عملاً ناکام ثابت کردیا ہے۔ دائیں اور بائیں بازو یعنی سرمایہ دارانہ مذہبی انتہا پسندی اور کمیونسٹ انتہا پسندی یا اشتراکی یا نیولبرل انتہا پسندی بھی کردار کے بحران میں مبتلا ہے۔ اس مضمون کا مدعا یوں سمیٹا جاسکتا ہے کہ: ایمانویل کانٹ نے امید کے بحران کا حل تلاش کرلیا تھا، جسے انسانیت کے فارمولے کا نام دیا گیا، مگر دائیں بائیں سیاسی انتہاپسندی نے ’ انسانیت کے اس فارمولے ‘ کو ناکامی سے دوچار کردیا ہے ، اورمغرب اخلاقی طور پر ’مجموعی کردار کے بحران‘ میں مبتلا ہے۔ یعنی مغرب کو ’ کردار کے اس بحران‘ سے نمٹنے کے لیے کسی ایسے اخلاقی نظام کی ضرورت ہے جو انسان کے اجتماعی شعور کی تکریم ممکن بنا سکے۔ ظاہر ہے انسان ساختہ اخلاقی نظام کی ناکامی کا اعتراف ازخود رجوع ِالی اللہ کی دعوت ہے۔