بے ربط خیالات - بشارت حمید

ہمارے ایم بی اے کے ایک استاد اکثر کہا کرتے تھے کہ اگر ہم چھوٹے چھوٹے معاملات کو درست کرنے کی فکر کرتے رہیں‌تو ہمارے بڑے معاملات خود بخود ہی درست ہوتے جائیں‌گے۔ لیکن ہم عملی زندگی میں‌کم ہی اس پر توجہ کرتے ہیں اور اسی وجہ سے مختلف پریشانیوں‌کا شکار رہتے ہیں۔

مثال کے طور پر ہمیں‌عالمی معاملات اور سیاست کی بہت فکر رہتی ہے جبکہ اپنی گلی محلے اور کالونی سے بے خبر ہی رہتے ہیں حالانکہ ہونا تو اس کا الٹ چاہیے۔ ہوائی جہاز بے شمار چھوٹے چھوٹے پرزوں کو ایک ترتیب میں‌جوڑ کر بنایا جاتا ہے۔ اس کا ایک معمولی سا نٹ بولٹ‌اگر درست طریقے سے کسا ہوا نہ ہو اور مطلوبہ معیار سے ڈھیلا رہ جائے تو یہ ایک دیو ہیکل جہاز کو ناگہانی حادثے سے دوچار کر سکتا ہے۔ اس نٹ بولٹ کو نظر انداز کرکے اگر ہم توجہ جہاز کے ونگز یا انجن پر رکھیں‌گے تو یہ ہماری کوتاہ بینی اور بےوقوفی ہوگی۔ اسی طرح‌زندگی میں چھوٹے چھوٹے اتنے مسائل ہیں جن کی طرف ہماری توجہ بالکل بھی نہیں‌ ہوتی لیکن ان کی وجہ سے ہماری زندگی میں‌پریشانی بڑھ جاتی ہے۔ ہم گاڑی یا بائک روزانہ استعمال کرتے ہیں لیکن گھر سے نکلتے وقت ایک دو منٹ اضافی لگا کر ان کا انجن آئل اور ریڈی ایٹر کا پانی چیک نہیں‌کرتے اور پھر راہ چلتے انجن سیز کروا بیٹھتے ہیں جو ایک بڑے خرچے اور اچھے خاصے وقت کے ضیاع کا باعث بن جاتا ہے۔

یہی حال ہمارے اکثر بڑے لکھاری حضرات کا ہے۔ جس میدان میں‌ ہم کچھ بھی کرنے کی سکت نہیں‌رکھتے یہ محترمین ہمیں‌انہی مسائل سے ڈرائے جاتے ہیں۔ عالمی سیاست، عالمی سازشیں اور اس طرح‌کے وہ موضوعات جو ایک عام قاری کی زندگی میں‌زیادہ اہم نہیں‌ہوتے اور نہ ہی ایک عام بندہ ان کی اصلاح میں کوئی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں‌ہوتا ہے۔ جبکہ ہمیں ضرورت ہے افراد کی اخلاقی تربیت اور کردار سازی کی ، کہ اس قوم کو فرقہ واریت ، سیاسی ، لسانی اور مذہبی عصبیت سے نکال کر آپس میں اتفاق و اتحاد کی تعلیم اور شعور دیا جائے ۔ اس طرف کسی کی توجہ کم ہی آتی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر ایسے لکھاری پسند ہیں‌جو عوام کی سطح پر رہتے ہوئے چھوٹے چھوٹے مسائل پر لکھتے ہیں‌ لوگوں‌کی اصلاح کے لئے خلوص اور محبت سے کوشش کرتے ہیں۔ اچھا۔۔ اس اصلاح کا بھی ایک طریقہ ہوتا ہے ایسا نہیں‌کہ ہم دوسرے کو مخاطب کرکے سیدھی اس پر تنقید کرنے لگ جائیں‌اور نہ ماننے پر فتوے دینے لگیں اور پھر اس سے یہ سمجھ بیٹھیں‌کہ ہم نے تو امر بالمعروف کا فریضہ سرانجام دے دیا ہے اب دوسرا نہیں‌مانتا تو بھاڑ میں‌جائے ۔ معاف کیجئے گا اگر ہم یہ رویہ اپنا رہے ہیں‌تو ہم قرآن کے حکمت کے ساتھ تبلیغ کرنے کے طریقے کے خلاف چل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   باقی سب کون ہیں ؟ - اسماء طارق

سوشل میڈیا پر اکثر مباحث دیکھنے کو ملتے ہیں‌جن میں صاف نظر آ رہا ہوتا ہے کہ فریقین ایک دوسرے پر اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے زور آزمائی کر رہے ہیں‌اور اصلاح کی بجائے فساد پھیلانے کا موجب بن رہے ہیں۔ یہ ساری انا کی جنگ ہے یہ ہرگز اصلاح‌کا طریقہ نہیں ہے ۔ اگر دوسرے میں آپکو کوئی غلطی نظر آ رہی ہے تو سب سے پہلے اپنا غیر جانبدارانہ تجزیہ کریں‌کہ کہیں‌یہی غلطی میرے اپنے اندر تو موجود نہیں۔۔ اس کے بعد دوسرے کے ساتھ ایک محبت اور احترام کا تعلق بنائیں اور آہستہ آہستہ اسے باور کرائیں کہ یہ بات جو آپ کہہ رہے ہیں‌یا آپکی یہ عادت نامناسب لگتی ہے ۔ جب ہم دوسرے کو خیرخواہی کے ساتھ توجہ دلائیں‌گے تو امید ہے کہ بات توجہ سے سنی جائے گی۔ لیکن ہمارا لٹھ مار طریق اصلاح‌بالکل درست نہیں‌ ہے ۔ کسی تحریر سے اگر اتفاق نہیں‌بھی تو اچھے انداز میں‌اختلاف رائے کا اظہار کریں۔ ہم سب انسان ہیں‌اور سب ہی غلطیاں بھی کرتے ہیں ۔ اس لئے جو مارجن ہم اپنے لئے طلب کرتے ہیں‌وہی مارجن دوسروں‌کو بھی دیں۔دوسروں کی اصلاح سے قبل اپنا جائزہ لینا سب سے اہم ہے کیونکہ ہمیں‌اپنے سوا سب ہی غلط نظر آتے ہیں جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.