اٹھارویں صدی کا ہندوستان اور ہم - ڈاکٹر محمد افتخار شفیع

ناصر کاظمی کا ایک معروف جملہ ہے ”میر کی رات ہماری رات سے آن ملی ہے“۔ یہ بات 1947ء میں کہی گئی جب تقسیم ہند کے نتیجے میں متروک نسلوں کے خواب چکنا چور ہوئے اور احساس وآگہی کے آبگینے ایک چھناکے سے ٹوٹ گئے۔

اٹھارھویں صدی کے ہندستان کی تاریخ کو میں جب بھی ایک طالب علم کی نظر سے دیکھتا ہوں تواس جملے کے تناظرمیں نہ جانے کیوں اس عہد کی دہلوی سلطنت کا ہمارے موجودہ حالات سے موازنہ کرنے لگتا ہوں۔ اٹھارھویں صدی کی زوال آمادہ مغلیہ سلطنت کی سیاسی اور معاشی صور ت حال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ دارالحکومت میں فوجی پلٹونوں کو ارباب نشاط سے منسوب کیا جا رہا تھا۔ اربیگم کا رقص اہل ثروت کو مرغوب تھا۔ امرد پرستی ایک فن کا درجہ رکھتی تھی۔ معاشرے میں بانکے، چھبیلے اور پھر چھیل چھبیلے لوگوں کے حسن وجمال کے قصے عام تھے۔ اہل حرفہ اور ملازم پیشہ لوگ اس صورت حال میں جینا تو کیا جینے کی بھونڈی سی نقل اتار رہے تھے۔ شاعروں کی حالت اور زیادہ الم ناک تھی۔ بادشاہان ان کی سرپرستی کرتے تھے اور دربار سے منسلک ہوکر شعرا اپنی زندگی میں آسودگی تلاش کرتے تھے۔ دربار کے بے وقار ہونے اور نفسانفسی کے اس عالم میں وہ آشوبِ روزگار کا شکار تھے، فقر و فاقہ کی زندگی گزارنا اور گوشہ عزلت میں پناہ لینا مجبوری بن گیا تھا۔ ہندستان میں مغلیہ سلطنت کا زوال اکبر اعظم کے دین الٰہی کی وجہ سے ہوا؟

اس کا سبب اورنگ زیب کی تشدد آمیز پالیسی بنی یا مرہٹوں اور دیگر مقامی قوتوں کا عروج اس کا باعث تھا؟ اس کا فیصلہ تو ہوتا رہے گا، البتہ اکبر اعظم نے نو رتن کا جو ادارہ بنایا تھا، وہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ہندستان میں عوام دوست ثابت ہوا تھا۔ یہ ادارہ ختم ہوگیا تھا۔ مغلیہ شہنشاہوں کی پرتعیش زندگی، باہمی مناقشے، علم سے عدم توجہی اور اخلاقی پستی کا شکار معاشرہ کسی حد تک ان گناہوں کی تاب لاسکتا تھا۔ عوام الناس کی حالت یہ تھی کہ ان کی تعلیم و تربیت کے لیے کوئی سرکاری تعلیمی ادارہ نہ تھا، بادشاہوں کو اپنے اور اپنی بیگمات کے لیے شالامار باغ، تاج محل اور بارہ دریاں بنوانے سے فرصت نہ تھی۔ اس صورت حال میں عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگئی تھی، انھیں چمن کی ویرانی یاگل فشانی سے کوئی غرض نہ تھی، کیونکہ ان کا شمار نہ تو کھلنے والوں میں ہوتا تھا نہ مرجھانے والوں میں۔ نفسانفسی کے اس عالم میں ان کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہ تھا۔ مالی زبوں حالی کے اس عہد میں ایک شاعر دوربین لگا کرحالات کی مشاہدہ بینی کر رہا تھا۔ محمد تقی میر کی غزلیات کے زیادہ شعر نہیں بل کہ ایک شعر پیش کروں گا، جس سے حالات کی منظرکشی ہوتی ہے:

یہ بھی پڑھیں:   ایک بار پھر تبادلہ آبادی، ایک اور ریڈ کلف - اوریا مقبول جان


راس آئی نہ تیری چال ہمیں
یوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں


اردو کے عظیم نقاد محمد حسن عسکری کے مطابق اس شعر میں کارل مارکس کی جدلیات کا فلسفہ اپنے پورے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ کاش عسکری صاحب کی توجہ میر کی ایک مثنوی کی طرف بھی منعطف ہوجاتی۔ ”مثنوی در ہجو خانہء خود“کے منتخب اشعار پیش کر رہا ہوں:


کیا لکھوں میں اپنے گھر کا حال
اس خرابے میں، میں ہوا پامال
گھر کہ تاریک و تیرہ زنداں ہے
سخت دل تنگ یوسف جاں ہے
کیا تھمے مینھ سقف چھلنی تمام
چھت سے آنکھیں لگی رہے ہیں مدام
ایک حجرہ جو گھر میں ہے واثق
سو شکستہ تر از دل عاشق
کہیں سوراخ ہے کہیں ہے چاک
کہیں جھڑ جھڑ کے ڈھیر سی ہے خاک
کہیں گھر ہے کسو چھچھوندر کا
شور ہر کونے میں ہے مچھر کا
کہیں مکڑی کے لٹکے ہیں جالے
کہیں جھینگر کے بے مزہ نالے
کبھو کوئی سنپولیا ہے پھرے
کبھی چھت سے ہزار پائے گرے
پوچھ مت زندگانی کیسی ہے
ایسے چھپر کی ایسی تیسی ہے
یہ جو بارش ہوئی تو آخر کار
اس میں سی سالہ وہ گری دیوار
دو طرف سے تھا کتوں کا رستا
کاش جنگل میں جاکے میں بستا
ہو گھڑی دوگھڑی تو دھتکاروں
ایک دو کتے ہوں تومیں ماروں
چار جاتے ہیں چار آتے ہیں
چار عف عف سے مغز کھاتے ہیں
کس سے کہتا پھروں یہ صحبت نغز
کتوں کا سا کہاں سے لاؤں مغز
دن کو ہے دھوپ رات کوہے اوس
خواب راحت ہے یاں سے سوسوکوس
نہ اثر بام کا نہ کچھ در کا
گھر ہے کاہے کا، نام ہے گھر کا


اس مثنوی میں چھچھوندر، مچھر، کھٹمل، سنپولیا اور کتا جیسے الفاظ کی نئے انداز سے تشکیل دی جائے تو یہ نااہل سیاست دان، موقع پرست تاجر، اور عاقبت نا اندیش عمائدین حکومت ہیں۔جو چار کتے آتے ہیں، ان کے جاتے چار اور آجاتے ہیں۔اس عف عف نے تو شرفا کا مغز ہی کھا لیا ہے۔ بادی النظر میں سکھ، مرہٹے، جاٹ اور افغان ہیں جنھوں نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیا تھا۔ اس مثنوی کے مطالعے کے بعد جب ہم آج کے پاکستانی معاشرے کو دیکھتے ہیں تو ہمارے حالات سے اس کی مماثلت کہاں تک محسوس ہوتی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے، اڑوس پڑوس کے ممالک کی مداخلت (چاہے وہ ہمارے کسی عمل کا ردعمل ہی کیوں نہ ہو)، داخلی انتشار، ایسا تو نہیں کہ ”میرکی رات ہماری رات سے کچھ زیادہ ہی آن ملی ہے“۔