ہمار ا مسئلہ کیا ہے - محمد عرفان ندیم

ترجیحات کا غلط تعین افراد کی زندگی میں ہو یا اس کا ظہورقوموں اور ریاستوں کے طرز عمل میںہو ،ہمیشہ غلط نتائج پر منتج ہوتا ہے۔ ایک طرف یہ غلط جگہ پر محنت،وقت اور سرمائے کے ضیاع کے باعث بنتا ہے تو دوسری طرف اصل مسائل نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ ہم من حیث القوم اس مرض کا شکار ہیں ،کوئی رجل رشید دکھائی نہیں دیتا جواس مرض کی تشخیص کرے ، جب مرض کی نشاندہی نہیں تو علاج کیسا اور شفا کیسی۔ اس ملک کا سب سے بڑا اور اہم مسئلہ کیا ہے، کرپشن کا ناسور، کشتی جمہوریت کا نت نئے طوفانوں سے ٹکراؤ، سیاسی عدم استحکام، دم توڑتی معیشت، بےلگام میڈیا، تعلیمی پسماندگی، سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں سرد مہری، مذہبی و سیاسی عدم برداشت یا کچھ اور۔ یہ سب مسائل اہم سہی مگران کے حل کا طریقہ کیا ہے، ہماری ترجیحات کیا ہونی چاہییں، ہمیں کس نہج پر کام کرنے کی ضرورت ہے، ان پہلوؤں پر البتہ کوئی غور نہیں کرتا۔

ان مسائل کے حل کا وہ ماڈل جو موجودہ حکومت نے اپنا رکھا ہے کیا اس طرح یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں، اس کا جواب سوائے مایوسی کے اور کیا ہو سکتا ہے، ہاں اس سے البتہ کچھ لوگوں کا کاروبار ضرور چلتا ہے اور اس کاروبارسے لوگ لال حویلی تعمیر کرتے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے وزیر اطلاعات بنتے ہیں جیسے شیخ رشید اور فواد فتنہ باز۔
اگر ہماری ترجیحات کا تعین درست ہوتا تو ہمیں بتایا جاتا کہ کرپشن، جمہوریت، معیشت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں غفلت اصل مسائل نہیں بلکہ یہ مسائل کا علامتی اظہار ہیں، اصل مسئلہ فکر ی و نظریاتی سطح پر ہے، جب تک فکری سطح پر کرپشن، جمہوریت اور معیشت کے بارے میں درست فکر عام نہیں کی جاتی تب تک مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ جب تک فکری و نظریاتی سطح پر عوامی شعور کو اس حد تک بلند نہیں کیا جائے گا کہ وہ ان مسائل کو جرم سمجھیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہم ان مسائل کی صرف کونپلیں کاٹ رہے ہیں جو کچھ ہی عرصے کے بعد بشدت تمام دوبارہ ہری ہو جاتی ہیں، جب تک ان کو جڑ سے نہیں اکھیڑا جائے گا، یہ کھیل اسی طرح چلتا رہے گا، کھوکھلے نعرے اور سطحی اقدام محض وقتی پیوند ثابت ہوتے ہیں اور کچھ ہی عرصے بعد پیٹ پہلے کی طرح ننگا دکھائی دیتا ہے۔ جب نیب بنا، تب کرپشن ہزاروں اور لاکھوں میں تھی اب کروڑوں اور اربوں تک پہنچ گئی، معلوم ہوا کرپشن کرپشن کھیلنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، ہاں اس سے اقتدار البتہ ضرور مل جاتا ہے اور کسی زبان دراز کو کوئی وزارت بھی جیسے چوہان صاحب اور اعوان صاحبہ۔

یہ بھی پڑھیں:   ترک قومی اسمبلی کشمیر پر قرارداد منظور کرے گی - اسپیکر مصطفیٰ شنَ توپ

ترجیحات کے غلط تعین کی بلیغ ترین مثال مذہبی وسیاسی انتشار ہے، کرپشن کرپشن کھیلتے ہوئے ہم نے اس انتشار کی خوب پرورش کی، اب یہ انتشار جوان ہو چکا ہے بلکہ بچے جن چکا ہے، پہلے یہ صرف سیاسی مباحث میں ظہور کرتا تھا اب مذہبی مباحث میں بھی لازم ٹھہرا۔ اس انتشار نے جو گل کھلائے انسان لرز اٹھتا ہے، ایک گھر میں بسنے والے باپ بیٹا اور بھائی بھائی کو آپس میں لڑا دیا، یہ لڑائی کبھی مذہب کی بنیاد پر ہوتی ہے تو کبھی سیاست کے عنوان سے، جب ایک گھر میں فکری انتشار کا یہ عالم ہے اور سگے رشتوں میں اس کو برداشت نہیں کیا جا رہا تو کوئی اندازہ کر سکتا ہے کہ بازار اور گلی کوچے میں اس برداشت کی کیا اوقات ہوگی۔ سوشل میڈیا اور سیاسی جلسے جلوسوں میں لڑائی جھگڑے اس انتشار کی چندعلامات ہیں ورنہ اس کے مظاہر جا بجا بکھرے پڑے ہیں، شرط مگر یہ ہے کہ کوئی عبرت کی آنکھ سے اسے دیکھنا چاہے۔ مذہبی انتشار اس سے بھی دو قدم آگے بڑھ چکا ہے، ایک دوسرے پر فتوے لگائے جاتے ہیں اور کئی بد نصیب تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، یہ شہید کہلاتے ہیں، یہ اسی انتشار کی برکات ہیں کہ ہر کسی کا اپنا شہید اوراپنا فلسفہ شہادت ہے۔

مذہبی انتشار نے دانشوروں کے ایک نئے طبقے کو جنم دیا، نیم خواندہ طبقہ، کچھ سرپھرے اور جذباتی نوجوان جنھیں مذہب و الہیات پر دسترس حاصل ہے نہ عصری تقاضوں سے باخبر، عصری مطالعے نے تو شاید ان کو چھوا تک نہیں، اس پر مستزاد مزاج کی درشتی، یہ سب عناصر مل کر انتشار و افتراق کی وہ کیفیت پیدا کرتے ہیں کہ الامان والحفیظ۔ ہر کسی کے اپنی اپنی صداقتیں اور سچائیاں ہیں، دلیل و تہذیب یا افہام و تفہیم قصہ پارینہ ہوئے، اس لیے یہ بات سننے اور سمجھنے کے قائل نہیں صرف اپنی سنانے کے پابند ہیں۔ فکری کج روی کا عالم یہ ہے کہ کسی بھی عصری واقعے کے لیے ماضی سے کوئی تطبیق ڈھونڈ نکالتے ہیں، استثنائی مسئلے کو سیاسی مسائل کی بنیاد بنا لیتے ہیں۔ شاذ اور مردود اقوال کا سہارا لے کر اپنا کھٹا دہی میٹھا کر کے بیچتے ہیں۔ سوشل میڈیا اس طبقے کی آماجگاہیں ہیں اور انہوں نے یہاں پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں، یہاں بیٹھ کر اندھا دھند فائرنگ کرتے ہیں قطع نظر اس کے کہ اس فائرنگ کی زد میں کون آر ہا ہے اور اس کا فائدہ کسے اور نقصان کس کو پہنچ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت کو بڑی سفارتی شکست

اس ملک و قوم کی اس بڑی بدقسمتی کیا ہو سکتی ہے کہ ہم فکری و نظریاتی انتشار کا شکار اور ہمارا ہمسایہ اتحاد و یگانگت کاعملی مظہر بن چکا ہے۔ مودی کی فتح کے پیچھے ہندوتوا کے سوا اور کیا فیکٹر ہو سکتا ہے، ٹرمپ کی جیت کو نسل پرستی کے سوا اور کیا عنوان دیا جاسکتا ہے۔ ٹرمپ اور مودی کی اپنے معاشروں میں فکری و نظریاتی ہم آہنگی نے دنیا بھر کے تھینک ٹینکس کے اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ، سارے تجزیئے اور مفروضے غلط ثابت ہوئے اور ہندو توا اور نسل پرستی جیت گئی ۔ میرے دیس میں ٹرمپ اور مودی جیسی فکری و نظریاتی ہم آہنگی کا عشر عشیر بھی نہیں، ہاں انتشار میں ہم یکتا ہیں یہ انتشار مذہب کے نام پر ہو یاسیاست کے نام پر۔ہماری بے حسی کا عالم یہ ہے کہ وہ الفاظ جنہیں بولتے ہوئے دس بار سوچنا پڑتا تھا انہیں بے اثر کر دیا ، کسی کو بھی چور ،ڈاکو، لٹیرااور ایجنٹ قرار دے دیتے ہیں ، ان الفاظ سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہماری حساسیت کس حد تک دم توڑ چکی ہے ، ہم یہ الفاظ سن سن کر اتنے مانوس اور ڈھیٹ ہو چکے ہیں کہ ان الفاظ کی وحشت تو دور ہمیں ان سے اپنائیت محسوس ہونے لگی ہے، آج کوئی سیاسی بیٹھک ایسی نہیں جہاں ان الفاظ کابے دریغ استعمال نہ ہوتا ہو۔

جہاں پارلیمنٹ اورمنتخب نمائندگان میں غیر مہذب اور غیر سنجیدہ زبان کو دوسروں پر سبقت کا باعث سمجھا جاتا ہو اور جہاں زبان کی لمبائی دیکھ کر وزارت اطلاعات کے قلمدان سونپے جاتے ہوں وہاں ولیل وتہذیب اور فکر و نظر کی ہم آہنگی کا سوال پیدائش سے پہلے ہی دم توڑ دیتا ہے۔ کسی بھی سیاسی بیٹھک میں سوائے فکری و نظریاتی انتشار اور سیاسی افکار کی پراگندگی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ترجیحات کا غلط تعین افراد کی زندگی میں ہو یا اس کا ظہورقوموں اور ریاستوں کے طرز عمل میں ہو، ہمیشہ غلط نتائج پر منتج ہوتا ہے۔ حیف کہ ہم آج یہی نتائج بگھت رہے ہیں۔

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.