راجہ داہر کا مجسمہ اور " نئے تاریخ دانوں" سے چند سوالات - محمد عاصم حفیظ

بی بی سی ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں اس مطالبے پر زور دیا گیا ہے کہ لاہور میں رنجیت سنگھ کے مجسمے کے بعد اب سندھ میں راجہ داہر کا مجمسمہ نصب کرنا چاہیے بلکہ پوری تاریخ کو ہی بدلنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ راجہ داہر کو ایک منصب ، سندھ کا بیٹا اور کامیاب حکمران کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔

اپنی مرضی کے تاریخ دانوں کے حوالوں کے ذریعے ایسے تمام واقعات کو ہی جھوٹا قرار دیا گیا ہے جن میں راجہ داہر کے بارے منفی تاثر پیدا ہو ۔ اس دور میں لکھی گئی کتابوں جن میں راجہ داہر کی جانب سے عرب جانیوالے ایک قافلے کی لڑکیوں کو یرغمال بنانے ، اپنی بہن سے شادی رچانے اور عوام پر ظلم و ستم کے واقعات درج ہیں ان سب کو مسترد کرکے موجودہ دور کے ایسے من پسند تاریخ دانوں کے حوالے دئیے گئے ہیں جن میں جی ایم سید وغیرہ شامل ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ عالمی میڈیا اور کچھ این جی اوز اب یہ مطالبہ شروع کرانے کی کوشش میں ہیں کہ سندھ میں اسلام کے فروغ کا باعث بننے والے محمد بن قاسم کو ولن اور راجہ داہر کو ہیرو بنا کر پیش کیا جائے ۔ اس حوالے سے تقریبات کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے جس کی تصویر بھی اس میڈیا رپورٹ میں لگائی گئی ہے ۔ کمال تو یہ بھی ہے کہ راجہ داہر کے تاثر کو مثبت ثابت کرنے اور اسے منصف و رحمدل ثابت کرنے کے لئے تاریخی حوالوں کا تو انکار کیا گیا ہے لیکن محمد بن قاسم اور اس وقت کےمسلمان حکمرانوں کو عیاش اور لالچی پیش کیا جا رہاہے ۔ سندھ پر حملوں کو بھی لالچ اور باہمی چپقلش قرار دیا گیا ہے ۔ ایک پیرا پڑھ کر آپ تعصب اور بغض و عناد کا اندازہ کر سکتے ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق " پنجاب دہائیوں تک اپنی حقیقی تاریخ کو جھٹلاتا رہا ہے اور ایک ایسی مصنوعی تاریخ گھڑنے کی کوشش میں جتا رہا جس میں وہ راجہ پورس اور رنجیت سنگھ سمیت حقیقی قومی ہیروز اور سینکڑوں کرداروں کی جگہ غوری ، غزنوی ، سوری اور ابدالی جیسے نئے ہیروز بناتا اور پیش کرتا رہا جو کہ پنجاب سمیت پورے برصغیر کا سینہ چاک کر کے یہاں کے وسائل لوٹتے رہے۔ " اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مسلمان حکمرانوں کے بارے کس قسم کی سوچ پیدا کی جا رہی ہے ۔ یہ سب لبرل اور سیکولر لکھاری مسلمان حکمرانوں پر تو تنقید کرتے ہیں لیکن راجہ داہر کی جانب سے اپنے ہی خاندان پر ظلم و ستم ، رعایا کے قتل و غارت اور قافلوں کی لوٹ مار اور خواتین کی بے حرمتی کے یکسر جھٹلا دیتے ہیں ۔ ان سب تاریخی کتابوں سے ہی انکار کر دیتے ہیں ۔ ان " نئے تاریخ دانوں" سے چند سوالات کے جوابات چاہیں اگر کوئی دے ؟ سوال یہ ہے کہ اگر آٹھ نو سو سال پہلے کے راجہ داہر ، رنجیت سنگھ ہیرو بنائے جا رہے ہیں تو صدیوں ان دھرتیوں پر حکمرانی کرتے مسلمان کیونکر ہیرو نہیں ہو سکتے ؟؟ کیا آٹھ نو سو سال سے یہاں مقیم مسلمان اتنے عرصے کے بعد بھی " مقامی" نہیں بن سکے ۔ یا کبھی بھی نہیں بن سکیں گے ۔ ان نئے تاریخ دانوں کا مطالبہ ہے کہ ہزار سال پرانے غیر مسلم حکمرانوں کو ہیرو تسلیم کیا جائے جن کے بارے مصدقہ تاریخ تک موجود نہیں ۔ ان راجوں کے ظلم و ستم کی داستانوں کو مسترد کرکے بغیر حوالوں سے ہی نئی تاریخ بنانے پر تلے ہوئے ہیں لیکن ان کے بعد آنیوالے مسلم حکمران ہیرو کی پیمانے میں فٹ نہیں ہو سکتے۔

کتنی عجیب منطق ہے کہ راجہ داہر کو ہیرو مانا جائے ، لیکن اس کے بعد کے سینکڑوں سالوں کی تاریخ کو مسترد کر دیا جائے؟؟ اس نفساتی مرض کے بارے آپ کیا کہہ سکتے ہیں ؟ اگر پرتھوی راج ، راجہ پورس ، رنجیت سنگھ ، راجہ داہر اتنے ہی منصف اور عوام دوست حکمران تھے تو کیونکر عوام تیزی سے مسلمان بھی ہوئی اور آئندہ صدیوں تک مسلمانوں کو نہ صرف حکمران تسلیم کیا، ان کے ساتھی بنے اور ان کیساتھ رشتہ داریاں کیں اور ان کی آنیوالی نسلیں مسلمان رہیں ، اس اجنبی دیس میں آج بھی کروڑوں لوگ مسلمان ہیں ۔ ظاہر ہے یہ سب عرب سے تو نہیں آئے ۔ ایک بار مسلمان ہونے کے بعد ان لوگوں نے کئی ادوار میں ہندو و سکھ ریاستوں کے باوجود ، انگریزوں کے ظلم و ستم ، مراعات کے لالچ اور بہت سے مواقع کہ جب مسلمانوں کی گرفت انتہائی کمزور بھی ہوئی ۔ لیکن ان لوگوں نے اپنا دین نہیں بدلا ۔ کبھی بھی تاریخ میں راجہ داہر اور رنجیت سنگھ کو ہیرو بنانے کی تحریک نہیں چلی ۔ لبرل و سیکولر لکھاریوں کی دلیل کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے کہ تاریخ میں عوام نے کبھی بھی مسلمان حکمرانوں کو غیر اور بیگانہ نہیں سمجھا بلکہ ان سے متاثر ہو کر مسلمانو ہوئے اور پھر صدیوں تک مسلمان ہی رہے ۔

اگر تو عرب ، افغان اور مغل و ایرانی حملہ آور صرف لوٹ مار کرنے آتے تھے تو پھر یقینا مقامی افراد میں ان کے خلاف شدید نفرت ہونی چاہیے تھی ۔ ؟؟ لوگوں نے کیونکر ان حملہ آوروں کا دین قبول کر لیا ۔ ان کے واپس جانے اور حکمرانی کی گرفت کمزور پڑنے کے باوجود دین نہیں بدلا ۔اگر کوئی یہ کہے کہ جبری مسلمان کیا گیا تو پھر کروڑوں لوگ ہندو ، سکھ یا بدھ مت کیسے رہ گئے ؟؟ یہ کیسے بچ گئے ؟؟ ہندوستانی فلموں تک میں تسلیم کیا گیا کہ مغلوں اور کئی دیگر ادوار میں متعدد ہندو ، سکھ ریاستیں بھی موجود تھیں ۔ لوگوں نے ان ریاستوں میں پناہ کیوں نہ لی ؟؟ بلکہ نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ اس پر سختی سے عمل پیرا بھی رہے ؟؟ انگریزوں کا دور مسلمانوں کے لئے مشکلات کا دور تھا ۔ اس میں بھی کبھی راجہ داہر اور رنجیت سنگھ کو ہیرو بنانے اور ان کے مجسمے لگانے کی مہم نہیں چلی ۔ اس وقت تو کوئی رکاوٹ بھی نہ تھی ۔ اس سے بڑھ کر منافقت اور کیا ہو گی کہ ہیرو ماننے کے معیار میں سب سے پہلی شرط ہی " غیر مسلم " ہونا ہے کیونکہ اگر یہ نہ ہوتی تو ایک ہزار سال پرانے راجہ داہر تک پہنچتے پہنچتے کوئی ایک دو مسلمان حکمران یا نامور شخصیات بھی مل ہی جاتیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا ؟

اور اگر واقعی سارے مسلمان حکمران ظالم ، لٹیرے اور عیاش تھے تو پھر کس طرح اتنی بڑی آبادی ان کے دین پر رہی ، نہ صرف مسلمان رہے بلکہ اچھے علماء کرام بنے ، عرب ممالک تک برصغیر کے علماء ، علوم قرآن و حدیث کے ماہرین کو تسلیم کیا جاتا تھا ۔ یہ چند سوالات ہیں جن کا لبرل و سیکولر لکھاریوں کو جواب دینا چاہیے ؟؟ ۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر رنجیت سنگھ ، راجہ داہر ہی ہیرو بنانے ہیں تو پھر برصغیر میں ایک الگ وطن کی ضرورت کیا تھی ؟؟ اگر زمین ، علاقہ اور زبان کی بنیاد پر ہی ہیرو بنانے ہیں ، دین کے تعلق کو تسلیم نہیں کرنا تو پھر پاکستان بنانے کی وجہ ہی ختم ہو جائے گی ۔ اہل دانش کو اس بارے غور کرنا چاہیے کہ اگر وہ سب بنیادیں ہی ختم کر دی جائیں جن پر اس ارض پاک کی بنیاد ہے تو پھر قومی وحدت ، اتفاق و اتحاد کا تصور ہی کہاں رہ جائے گا ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نوجوان نسل کو من گھڑت قصوں اور ایک نئی تاریخ کے ذریعے قومی اساس سے دور کیا جا رہا ہے ۔ اگر یہی روش چل نکلی تو پھر ریاست بہاولپور کا ہیرو کوئی اور ہو گا، بلوچ اپنے سرداروں کو ڈھونڈیں گے ؟ موہنجو داڑو والے ہزاروں سال پیچھے چلے جائیں گے ؟ دراصل یہ دین کے نام پر جڑی قومی وحدت میں دراڑ ڈالنے کی کاوش ہی ہیں ۔ قومی اداروں کو ان اقدامات کا نوٹس لینا چاہیے یہ نہ ہوکہ دیر ہوئے اور ارض پاک کسی نئی آزمائش سے گزرے ۔