چاچُو کے نام - انعام مسعودی

صحیح طرح یاد نہیں پڑتا کہ پہلی بار کسی کوکب چاچُو کہا یا چاچُو سوچا۔ اگرچہ چارسگے چچا موجود تھے لیکن ان کو بچپن سے ہی ان کے نام کے ساتھ چاچا لگا کر پکارتے تھے۔ ذرا بڑے ہوئے اور حروف جوڑ کر لفظ بنانے اور جوڑ کرکے عبارت کو پڑھ لینے کے قابل ہوئے تو اخبار کی سُرخیوں ، دکانوں اور دفاتر کے سائن بورڈز پڑھنے کا شوق پیدا ہوتا گیا، اور پھر جب جملے سمجھنے لگے تو عمرو عیار اور ٹارزن کی کہانیاں پڑھنا شروع کر دیں۔

جلد ہی "جنون شوقِ مطالعہ" کے ہاتھوں مجبور ہو کر نسیم حجازی، التمش اور پھر مظہر کلیم ایم اے کی عمران سیریز، جاسوسی ڈائجسٹ، سسپنس ڈائجسٹ اور نجانے کیا کیا پڑھتے پڑھتے بچوں کے رسالے میں چھپنے والے ایک سلسلے "چچا حُر کے نام " سے ایک نہ ٹوٹنے والا تعلق پیدا کربیٹھے، جو بچوں کی جانب سے سوالات کے مزاحیہ اور طنزیہ جوابات پر مشتمل ہوتا تھا ۔ یوں یہ تعلق پڑھنے سے لکھنے کی جانب ایک سفرکا نکتہ آغاز بنتا گیا۔ اپنے معصوم شرارتی ذہن سے اختراع کیے گئے سوالات اور ان کے جواب پڑھنے کے انتظارمیں ہر ماہ رسالے کے نئے شمارے کا انتظاررہتا۔ شب و روز گذرتے گئے اورہم آٹھویں جماعت میں پہنچ گئے۔ ان ہی دنوں بچوں کی علمی ادبی سرگرمیوں پر کام کرنے والی ایک تنظیم نے "نیکی بنو، نیکی پھیلاؤ" کے سلوگن کے تحت ایک دو روزہ ورکشاپ کا انتظام کیا۔ ورکشاپ راولپنڈی میں جنگ بلڈنگ کے عقب میں واقع اس تنظیم کے دفتر میں ہوئی۔ اسی موقع پر پہلی بار اُس جگہ سے بھی گذرے جہاں جنگ اخبار چھپتا ہے، اپنے تجسس اور شوق پر قابو نہ رکھ سکے اور پہلے دن ہی چھا پہ خانہ دیکھنے کے لیے سیکیورٹی گارڈ سے سلام دعا پیدا کی اور چھاپہ خانہ دیکھ آئے۔ ورکشاپ کے دوران ہی معلوم ہوا کہ چچاحُر کے جس رسالے سے ہماری وابستگی ہے وہ بھی اسی تنظیم سےمنسلک ہے اور یہاں ہی ادارت، طباعت اور اشاعت کے مراحل سے گذرتا ہے۔

ورکشاپ کے دوران اس عمارت کے ایک کمرے میں بہت زیادہ افراد کی آمد و رفت محسوس کی۔ کمرے کے اندر کون ہوتا ہے اوراس رش کی کیا وجوہات ہیں یہ کچھ عرصہ بعد پتہ چلا۔ اور یہ بھی بعد میں ہی معلوم ہوا کہ اسی کمرے کے "صاحبِ کمرہ " اپنی تحاریر کا رُوپ بدلنے کے ماہر ہیں اور کبھی کبھی ان میں ہی چچا حُر کی رُوح حلول کر جاتی ہےاور وہ رسالے کے ذریعے ہم سے ہمکلام ہوتے رہتے ہیں ۔ خیر ورکشاپ ختم ہو گئی، ہم واپس مظفرآباد چلے آئے۔ کشمیر کی تحریک آزادی عروج پر تھی اوراِسی وجہ سے آئے دن سکول سے احتجاجی مظاہرے نکلنا شروع ہو گئے جس کا فائدہ اٹھا کر کبھی ہم دوستوں کے ساتھ اونچے پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنے میں مگن ہو جاتے یا پھر بارش کے دنوں میں گھر بیٹھ کر ایک ہی نشست میں عمران سیریز کی نئی آنے والی کئی کہانیا ں چاٹ جانے لگے۔ میٹرک کے بعد ہمارے مشاغل میں پڑھنے لکھنے والے سلسلے کی جگہ کچھ اور مصروفیات نے قبضہ جما لیا،. جن میں بچوں کی اسی تنظیم کے ساتھ وابستگی بھی شامل تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی اور ہم ابتدا میں مظفرآباد کی سطح تک اس کے صدر بنے اور پھرایف ایس سی کے بعد پورے کشمیر کے صدر بن گئے۔ اس دوران راولپنڈی میں رسالے کے دفتر آنا جانا ہوا، چچا حر سے متعدد بار آمنا سامنا ہوتا رہا، لیکن نہ انھیں یہ معلوم تھا کہ ان سے چُبھتے ہوئے نوکیلے سوال کرنے والا کون ہے اور نہ ہمیں یہ معلوم تھا کہ اصلی چچا حر کون ہے ؟

خیر زندگی کا پہیہ گھومتا رہا، رسالے کے دفتر آمد و رفت کے دوران ایک ایسی شخصیت سے ذہنی وابستگی اور قلبی تعلق استوار ہوگیا جو کشمیر میں علم و ادب، تحریر و ادارت اور سماجی خدمات میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں اور ہم نے انھیں چچا حر کی نسبت سے چاچو سمجھنا اور پکارنا شروع کر دیا، ازراہ کرم انھوں نے بھی ہمیں بھتیجے کے "مقام بُلند" پر قبولیت بخش دی۔ یوں ہم پہلی بار چاچو کے لفظ اور رشتے کی لذت سے آشنا ہوئے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہمارے یہ چاچوہیں کون ؟ کشمیر کی تحریک کے لئے ٹھوس بنیادوں پر صحافتی اور قلمی میدان میں ان کا حصہ ناقابلِ فراموش بھی ہے اور کسی بھی دوسرے صحافی اور ادیب سے کئی گُنا زیادہ ہے۔ بچوں او بڑوں کے رسالوں کی ادارت کر چکے، کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور روزنامہ خبریں میں تسلسل کے ساتھ کالم لکھتے ہیں۔ پاکستان بلکہ دنیا بھر میں تحریکِ آزادی کشمیر سے آگاہ شاید ہی کو ئی فرد ان کے نام سے واقف نہ ہو، جی ہاں یہ ہیں جنا ب صغیر قمر صاحب ۔ ان دنوں اپنے دل کی" بے قراری" کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے بےحال کرنے کی ناکام کوشش کرچکے اور اسے متبادل راستے یعنی" بائی پاس " سے گذار کر ایک بار پھر جوان ہوگئے ہیں ۔

اب کچھ باتیں براہِ راست چاچوسے، چاچو آپ کے بائی پاس کے بارے فیس بک پر اس وقت پتہ چلا کہ جب آپ کا دلِ دانا جراحت کے عمل سے گذر چکا تھا اور آپ ہوش میں آ چکے تھے۔ تاہم "مریضان دل کی کیفیات" اور اس دوران کی "تدابیرِ احتیاط" اور پھر آپ کے وسیع "حلقہ احباب " کے پیشِ نظر ہم نے دانستہ فون نہ کیا۔ اس دوران معلوم ہوا کہ ابھی مزید احتیاط کی ضرورت ہے، اس واسطے ابھی تک حاضری نہیں دی، لیکن یہ غیر حاضری جسمانی تو ہے جذباتی اور روحانی ہر گز نہیں۔ ہر بار ہر خیال کے ساتھ زیرِلب اور بہ آواز بلند، خلوت اور جلوت، گھر، دفتر، مشترکہ حلقہِ احباب اور بیرون ملک کے دوستوں کے ساتھ تبادلہ خیال کے دوران چاچو کے لئے اور ان کے پھر سے نوجوان دل کے لئے ڈھیروں دعائیں نکلتی رہی ہیں۔ اور ہاں چونکہ یہ دل دنیا بھر کے مظلوموں بالخصوص کشمیر کے مجبورلوگوں کے ساتھ دھڑکتا ہے اس لئے اُن کی دعائیں یقیناً مقبولیت کے زیادہ اہم درجے پر ہونگی، اور آپ جلد پہلے سے بھی زیادہ توانا دل کے ساتھ مصروفیاتِ زندگی میں رواں دواں ہونگے، جی ہاں ۔ ۔ ۔ وہی مصروفیاتِ زندگی جنہوں نے مجھے آپ کی عیادت سے محروم رکھا اور احساسِ ندامت نے قلم اُٹھانے پر تحریک دی اور ہم نے چاچو کے نام کئی راز آشکار کر دیے۔

ٹیگز