خان صاحب! عمران خان بنو- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

یہ جملہ شیخ رشید کا ہے۔ وزیراعظم تو بہت ہیں۔ مگر عمران خان ایک ہے۔ اس ملک میں وزرائے اعظم کچھ نہ کر سکے۔ پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان اور اہم خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو لیاقت باغ راولپنڈی میں قتل کر دیا گیا۔ نامور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ اس میں کچھ اور بھی معاملات ہونگے مگر خود سیاستدان بھی پوری طرح شریک ہیں۔ اب بھی کچھ لوگ بھٹو صاحب کی پھانسی کو جائز قرار دیتے ہیں۔ ان کی جانشین بیٹی کو قتل کر دیا گیا۔ وہ بھی وزیراعظم تھیں اس کی شہادت زرداری صاحب کے لیے بہت مفید اور ساز گار رہی۔ وہ صدر بنے اور سیاستدان ۔

وزیراعظم عمران خان کی کارکردگی سے کچھ لوگ مطمئن نہیں ہیں۔ شیخ رشید عمران خان کے مکمل طور پر خیرخواہ ہیں مگر وہ بھی کچھ کچھ مایوس دکھائی دیتے ہیں۔ اُن کے جیسی زبردست بات کوئی سیاستدان کر نہیں سکتا۔ نہیں کرنا چاہتا…شیخ صاحب ایک غریب آدمی کا بیٹا ہے۔ اس کی ماں غریبی کو بدنصیبی نہیں سمجھتی تھی۔ شیخ صاحب ہمیشہ اپنی ماں کی بات کرتا ہے۔ وہ لوگ جو اپنی ماں کی نسبت سے آگے آئے وہ اپنے مخالفین پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔
بلاول کو سیاست والد صاحب نے سکھائی مگر وہ اپنی ماں سے نسبت کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ بھٹو کا خواب ہے اور بے نظیر بھٹو کا جانشین ہے۔ یہ بات بلاول کے مستقبل کو موروثی امید سے جوڑتی ہے۔

میرا خیال ہے کہ مریم نواز اپنی ماں کلثوم نواز کے ہر فیصلے اور ہر معاملے میں یاد رکھیں۔ کلثوم نواز میری کلاس فیلو تھیں۔ بعد میں بھی اُن سے ملتا جلتا رہا۔ وہ کہتی تھیں کہ آپ میرے لیے نہ صحافی ہوئے ہیں اور نہ آپ کے لیے کوئی لیڈر ہوں۔ مگر اُن سے رابطہ نہ رکھ سکا۔
عمران خان کی ماں سے میں ملا ہوں۔ یہ میرا افتخار ہے۔ میری ملاقات عمران کے والد اکرام اللہ خان سے بھی ہوئی۔ وہ بہت محبت کرنے والے انسان تھے مگر عمران خان کی ماں ایک بڑی اور سچی عورت تھی۔

عمران خان سے کوئی پوچھے کہ یہ فیصلے اُن سے کون کرواتا ہے۔ فیاض الحسن نے جنگلات کی وزارت کا حلف اٹھایا، صرف 24 گھنٹے کے بعد ان کا محکمہ تبدیل کر دیا۔ اب انہیں کالونیز کا محکمہ دے دیا گیا ہے۔ برادرم کامران شاہد کے پروگرام میں نبیل گبول نے کہا کہ میں دسمبر کے بعد عمران خان کو وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھا ہوا نہیں دیکھ رہا۔ وہاں ایک صحافی نے کہا کہ آپ عمران خان کو لیٹے ہوئے تو دیکھ رہے ہیں۔ اس جملے کے بعد نبیل گبول صرف مسکرا کے رہ گئے۔ وہ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری پر تبصرہ کر رہے تھے۔ رانا صاحب کی گرفتاری سے عمران خان کا کیا لینا دینا

عمران نے کہا تھا کہ میں رانا ثنا اللہ کو مونچھوں سے پکڑ کر جیل میں لے جائوں گا۔ اس جملے کی کیا ضرورت تھی۔ رانا صاحب نے ڈر کے مونچھیں تو نہیں کٹوائیں ویسے وہ کلین شیوڈ اچھے لگیں گے۔
میرے خیال میں یہ چھوٹی بات ہے۔ عمران خان وہ کرے جس کی امید لوگ ان سے رکھتے ہیں۔ وہ ا س سے بڑھ کر کچھ کرے ۔ عمران خان اپنی زندگی میں کبھی ناکام نہیں ہوا۔ امید ہے اب بھی وہ ناکام نہ ہو گا۔ ڈاکٹر بابر اعوان تحریک انصاف میں باقاعدہ شریک ہوئے ہیں تو وہ بھی عمران خان کی کامیابی کے لیے کوشش کریں۔ یہ کہ عام لوگوں کو انصاف ملے۔ انصاف اور خوشحالی میں کوئی فر ق نہیں رہنا چاہئے۔ ہر آدمی برابر کا پاکستانی ہے۔ عمران خان نے اپنی پارٹی کے لیے تحریک انصاف کا نام رکھا تھا تو انصاف کا بول بالا ہونا چاہئے۔

عمر ایوب خان نے اپنے دادا صدر ایوب خان کی تعریف کی ہے تو ٹھیک کیا ہے۔ کسی حکمران نے اگر کچھ پاکستان کے لیے کیا تو وہ صرف ایوب خان ہے۔ حیرت ہے کہ اس کے بعد کوئی فوجی حکمران بھی نہیںکر سکا۔ کوئی سویلین حکمران تو بالکل کچھ نہیں کر سکا۔ لوگ پریشان ہیں کہ عمران خان بھی کچھ نہ کر سکا تو پھر ہمارا کیا ہو گا۔ کوئی تو ہو جو صدر ایوب خان کی یاد تازہ کر دے۔
میری ایک سرسری سی ملاقات صدر ایوب خان سے ہوئی تھی۔ جب وہ صدر نہ تھے مگر ہم انہیں صدر ایوب خان ہی کہتے تھے۔ سمجھتے بھی تھے۔

صدر ایوب خان کے مارشل لاء سے پہلے ’’جمہوری‘‘ سیاستدانوں نے جو کچھ کیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ بہت سے لوگوں نے صدر ایوب کو خوش آمدید کہا پھر ایسے ہی لوگوں نے صدر ایوب کے خلاف تحریک چلائی پنڈت نہرو نے کہا تھا کہ پاکستان میں اتنی حکومتیں بدلتی ہیں جتنی میں دھوتیاں نہیں بدلتا۔ کیا بعید اس کے پاس دھوتیاں ہی ایک دو ہوں۔اب پھر سیاستدانوں نے جو صورتحال بنائی ہے۔ وہ کیا ہے شکر ہے کہ اب بھارت میں مودی وزیر اعظم ہے۔ پنڈت نہرو نہیں ہے۔ اس کی بیٹی وزیراعظم اندرا گاندھی کو بھارت میں قتل کر د یا گیا۔ حتیٰ کہ اپنے لیڈر اور روحانی شخصیت جسے وہ باپو جی کہتے تھے۔ قتل کر دیا گیا تو اس خطے کی قسمت میں یہ جمہوری بدنصیبی ایک سانجھ ہے۔ مگر بھارت میں کبھی مارشل لاء نہیں لگا جبکہ وہاں بھی بھارتی فوج کو بہت طاقت حاصل ہے۔ بھٹوایک سویلین جمہوریت لیڈر تھا بھٹو صاحب جو کچھ بھی کرنا چاہتے تو کر سکتا تھے تو پھر وہ کیوں نہ کر سکے۔ اب عمران خان بھی کسی نامعلوم بے بسی کا شکار ہے۔ مگر مجھے یوں لگتا ہے کہ عمران خان کچھ نہ کچھ کرے گا جبکہ عمران خان مجھ سے خفا رہتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ وہ ناکام نہیں ہو گا؟