جھوٹے مسلمان، جھوٹے پاکستانی! عطا ء الحق قاسمی

ایک عیا لدار شخص ایک حاجی صاحب کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ دو ماہ بعد ان کی بیٹی کی شادی ہے، اس نے تین لاکھ روپے شادی کے لئے جمع کئے ہوئے ہیں یہ رقم اپنے پاس امانت رکھ لیں، وہ دو ماہ بعد ان سے لے جائے گا۔ حاجی نے رقم لی اور کہا’’یہ میرے پاس آپ کی امانت ہے، آپ جب چاہیں واپس لے جائیں‘‘ دو ماہ بعد وہ شخص واپس حاجی صاحب کے پاس آیا اور اپنی رقم واپس مانگی، حاجی صاحب نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا ’’عزیزم! کونسی رقم؟‘‘ اس شخص نے کہا ’’جناب جو میں آپ کے پاس رکھوا کر گیا تھا۔‘‘ حاجی صاحب نے فرمایا ’’عزیزم آپ کو غلطی لگی ہے، آپ نے میرے پاس کوئی رقم نہیں رکھوائی۔ اس شخص نے کہا ’’حاجی صاحب یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں جب میں نے آپ کو تین لاکھ روپے دیئے اس وقت آپ کے یہ تینوں بیٹے بھی آپ کے پاس بیٹھے تھے۔‘‘ حاجی صاحب بولے پھر تو مسئلہ حل ہوگیا، ان سے پوچھ لیتے ہیں اگر یہ کہیں کہ آپ نے رقم دی تھی تو آپ کی امانت آپ کو واپس مل جائے گی، پھر انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کو مخاطب کیا۔

کیوں بھئی حاجی نعیم ان صاحب نے میرے پاس کوئی رقم کھوائی تھی۔

نہیں والد محترم!

کیوں بھی حاجی نسیم تمہارے سامنے ان صاحب نے مجھے کچھ ر قم دی تھی ، حاجی صاحب نے درمیان والے بیٹے سے استفسار کیا۔

نہیں والد محترم میں تو ان کی شکل ہی آج دیکھ رہا ہوں۔

تم بتائو محمد حسن، انہوں نے تین لاکھ روپے مجھے دئیے تھے۔ حاجی صاحب نے آخر میں سب سے چھوٹے بیٹے سے پوچھا۔

جی والد محترم انہوں نے میرے سامنے آپ کو تین لاکھ روپے دئیے تھے۔

اس پر حاجی صاحب نے اپنے تینوں بیٹوں کی طرف دیکھا اور کہا حاجی نعیم حاجی نسیم، ان صاحب کے تین لاکھ روپے انہیں واپس کرو اور محمد حسن کو فوراً حج پر بھجوائو۔

بظاہر یہ لطیفہ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرہ اس وقت اسی قسم کے جعلی اسلام دوستوں کے شکنجے میں پھنسا ہوا ہے جو عبادت اور معاملات کو الگ ا لگ چیزیں سمجھ بیٹھے ہیں، اگر کوئی شخص امانت میں خیانت کرتا ہے، جعلی ادویات کے کاروبار میں ملوث ہے، کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کرتا ہے، اسمگلنگ اور ہیروئن فروشی کا کاروبار کرتا ہے، کسی کے حقوق غصب کرتا ہے، یتیم اور مسکین کا مال کھاتا ہے، پلاٹوں پر قبضے کرتا ہے، ناجائز منافع اور ذخیرہ اندوزی سے دولت کماتا ہے اور ظالم کا ساتھ دیتا ہے اللہ تعالیٰ کو اس شخص کی نمازوں اور روزوں سے کوئی غرض نہیں، ناجائز ذرائع سے کروڑوں روپے ڈکارنے والوں کی دو چار ہزار کی دیگ بھی اللہ تعالیٰ کو قبول نہیں جو وہ داتا صاحب جاکر چڑھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ایسا مخیر بھی پسند نہیں جو لوٹ مار کے مال میں عمرے کرتا ہے اور دینی مدرسوں کو چندے دیتا ہے۔ خدا کے نزدیک وہ آنسو بھی مگرمچھ کے آنسوئوں میں شمار ہوتے ہیں جو اس نوع کے بدکردار لوگ جھوم جھوم کر نعت سننے کے درمیان بہاتے ہیں مگرآپ یقین کریں ہمارا معاشرہ یہ سب باتیں بھول چکا ہے۔ بعض مذہبی پیشوا انہیں یقین دلا چکے ہیں کہ تم سب حرام کاریاں کرو بس ہر گناہ کے بعد نماز پڑھ کر اس گناہ کی معافی مانگ لیا کرو اللہ تعالیٰ تمھیں اپنے دامان رحمت میں جگہ دے گا، حالانکہ یہ معافی صرف عبادات میں ہونے والی کوتاہی میں ممکن ہے، معاملات میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض نیکو کاروں کے علاوہ اول درجے کے ملک دشمنوں اور معاشرے کے روگیوں کی دکانوں اور گھروں میں بھی یہی تختی لگی ہوئی ہے’’یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے‘‘ میرے نزدیک یہ توہین رسالت ہے اور ایسے لوگوں کے خلاف توہین رسالت کے قانون کے تحت کارروائی ہونا چاہئے۔

اسلام کے ان جعلی دوستوں کے علاوہ پاکستان کے جعلی دوست بھی ہمارے ہاں کثیر تعداد میں موجود ہیں بلکہ میرے نزدیک یہ اکثریت میں ہیں۔ہمارے ذاتی مفادات کے سامنے پاکستان کے مفادات کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ سور نے صرف گنے کی گٹھلی کھانا ہوتی ہے مگر اس کے لئے وہ کماد کا سارا کھیت برباد کردیتا ہے۔ ہم 14اگست کو سائیکلوں، موٹر سائیکلوں، کاروں، ویگنوں اور اپنے گھروں پر پاکستان کا جھنڈا لہراتے ہیں۔ پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہیں۔ عام گفتگوئوں میں ملک کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمارے حکمران پرچم کشائیاں کرتے ہیں، قوم کو حب الوطنی کا درس دیتے ہیں اور محب الوطنوں کو غدار قرار دیتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ان کا اپنا کون سا عمل ان کے محب وطن ہونے کی گواہی دیتا ہے، صرف پاکستان زندہ باد، دل دل پاکستان، جیوے جیوے پاکستان کہنا تو بہت آسان ہے، مگر بقول اقبالؔ ؎

زبان سے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل

دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں

اہل سنت کہلوانے والوں میں سے کون ہے جو حضورؐ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مظلوموں کے لئے میدان میں اترتا ہے۔ اہل حدیث کہلوانے والوں میں سے کون ہے جو حضورؐ کی اس حدیث پر عمل کرتا ہے کہ بہترین جہاد جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔ اہل تشیع میں سے کون ہے جو حضرت امام حسینؓ کے رستے پر چلتے ہوئے اپنے عہد کے یزید سے ٹکر لیتا ہے، اسلام سے محبت کے صرف دعوے، پاکستان سے محبت کے بھی صرف دعوے اور اصل محبت صرف اپنے آپ سے؟ ہم سب اسلام اور پاکستان کے جعلی دوست ہیں اگر ہم اسلام دوست ہیں تونقلی مسلمانوں کے ہاتھوں اسلام کی بربادی کا تماشا کیوں دیکھتے ہیں اور اگر ہم پاکستان دوست ہیں تو طالع آزمائوں کے ہاتھوں پاکستان کی بربادی کا تماشا کیوں دیکھتے چلے آرہے ہیں۔ انصاف کی دھجیاں اڑتے کیوں دیکھتے ہیں۔ پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کی آخری پناہ گاہ ہے مگر ہمیں پاکستان سے زیادہ اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات عزیز ہیں۔ اپنا رتبہ اور منصب عزیز ہے۔ حرام ذرائع سے بنایا ہوا مال عزیز ہے۔ میرے مولا یہ رتبہ یہ منصب اور مال اُن سے چھین لے جنہیں یہ رتبہ، منصب اور مال پاکستان سے زیادہ عزیز ہے۔