یونہی آسان نہیں یہ تکبیرات بولنا - انس اسلام

اللہ اکبر، اللہ اکبر ... اللہ سب سے بڑا ہے، وطنوں و علاقوں، مال و زر و سرمائے و عہدے و مادّیت، ذات پات و رنگ و نسل و زبان ، شخصیات و پارٹیوں و گروہوں و اسمبلیوں و پارلیمنٹوں و عدالتوں و کچہریوں، جاگیر داروں و سرمایہ داروں و کمپنیوں، آئی ایم ایفوں و وائٹ ہاؤسوں، بوٹوں و جھنڈوں، ہر چیز سے بڑا ہے۔

وہ خالق ہے اونٹوں و گھوڑوں و ہاتھیوں، پہاڑوں و سمندروں و دریاؤں، آگ و ہواؤں و فضاؤں و صحراؤں و جنگلوں، آسمانوں و زمینوں، جانوروں و انسانوں و جنوں و فرشتوں، کائنات کی ہر شے کا پالنے والا چلانے والا، اُس نے یہ کائنات ایک خاص و عظیم مقصد کے لیے تخلیق و ترتیب دی۔ خصوصاً انسان اُس کی عبدیت و غلامی و بندگی و پوجا و فرماں برداری و اطاعت کے لیے پیدا کیا گیا! ایک دن وہ ساری کائنات کو لپیٹ دے گا، سب کچھ ریزہ ریزہ اور پاش پاش کرے گا! پھر وہ ہر ہر شے کا مقصدِ تخلیق کی بابت حساب لے گا، لا الہ الا اللہ کہ مسلمان ؛ اپنی انفرادی و اجتماعی ، زندگی کے ہر ہر امر و معاملے میں، وطنوں و علاقوں ، مال و زر و سرمائے و عہدے و مادّے ، ذات پات و رنگ و نسل و زبان، شخصیات و پارٹیوں و گروہوں و اسمبلیوں و پارلیمنٹوں و عدالتوں و کچہریوں، جاگیر داروں و سرمایہ داروں و کمپنیوں، آئی ایم ایفوں و وائٹ ہاؤسوں ، بوٹوں و جھنڈوں، غرض مخلوق میں سے کسی بھی شے کو معیارِ حق و باطل تسلیم نہیں کرتا۔ بلکہ رائج الوقت تمام معیاراتِ خیر و شر کا انکار و ابطال و ردّ کرکے، واحد و احد و یکتا خدا، ربُّ العالمین کے ''الہ'' و معبود ہونے پر ایمانِ رکھتا ہے۔

اس کے ہاں؛ علم وہ کہلاتا ہے، جو خالق السماوات و الارض کے ہاں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل ہوا ہو۔ اور اس کا ثبوت و استحقاق اسے ''بذریعہ صحابہ'' معلوم ہو۔ کامیابی و ناکامی؛ وہ چیز کہلاتی ہے، جسے خدائے واحد کامیابی و ناکامی قرار دے۔ اس کے نزدیک خدا کی رضا و خوشنودی عروج کہلاتا ہے اور خدا کی نافرمانی زوال۔ اس کے لیے ہر وہ چیز صحیح و غلط ہے جسے خالقِ کائنات صحیح و غلط کہے۔ حلال و حرام، جائز و ناجائز، قانونی و غیر قانونی؛ اس کے لیے صرف وہ اشیاء و امور ہوں گے۔ جنھیں اللہ تعالٰی حلال و حرام، جائز و ناجائز ، قانونی و غیر قانونی بول دے !! دوستی و دشمنی، پیار و محبت ، نفرت و بغض کے مسائل میں اُس کے جذبات و احساسات پر ربّ تعالٰی غالب و حاکم ہو۔
واللہ اکبر، اللہ اکبر، کیونکہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کو بڑا نہیں مانتا! وللہ الحمد کہ مسلمان ؛ اپنی زندگی کے ہر موڑ پر، ہمہ وقت اور ہر پل؛ اپنی ہر ہر سانس میں؛ اپنے دین و نبی ایسی سب سے عظیم نعمت پر خدا کا احسان مند و متبع ہو ! اسے زندگی میں کچھ بھی حاصل ہو۔ یا وہ جو بھی محنت سے پالے، تو وہ خدا کے سوا کسی مغرب، کسی مشرق، کسی شمال و جنوب، کسی مادّے، کسی شخصیت، کسی پارٹی، کسی ڈنڈے، کسی بوٹ اور کسی ادارے کی تعریفوں میں ہلکان نہ رہے! بلکہ ہر صورت، ہر لمحہ، ہر لحظہ صرف ''اللہ رب العالمین'' کا مشکور و ممنون و احسان مند و ضرورت مند و حاجت مند رہے۔ خدا کے سوا؛ مخلوق میں سے کسی کو بھی نفع و نقصان کا مالک و مختار و مقتدر نہ سمجھے۔ پھر ؛ اللہ اکبر کبیرا ولحمدللہ کثیرا، سبحان اللہ بکرۃ و اصیلاً، کہ مسلمان خدا کے سوا کسی ادارے و شخصیت کو بے عیب و لاریب و معصوم و مقدس نہیں مانتا، بلکہ صبح و شام فقط اللہ جل جلالہ کی شان و پاکیزگی بیان کرتا ہے۔

حضرات! کیوں چار دن لگاتار و مسلسل، باآوازِ بلند ، آتے جاتے، اٹھتے بیٹھتے تکبیرات بولتے رہنے کا حکم ہے؟ کیا یونہی تکبیرات کہنا اتنا ہی آسان ہے، جتنا ہم سمجھتے ہیں؟ یا خدا ہمیں کوئی سب سے اہم و اساسی سبق ازبر کروانا چاہتا ہے؟

ٹیگز