ائر کنڈیشنر استعمال کے بارے چند ٹپس - بشارت حمید

پاکستان کے اکثر علاقے موسم گرما میں شدید گرمی کا سامنا کرتے ہیں جس کے توڑ کیلئے ائر کنڈیشنر کا استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ اپنی افادیت کے ساتھ ساتھ یہ ایک مہنگی سہولت ہے جو ماہانہ بجلی کے بل میں ہزاروں روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیتی ہے۔ اس کے استعمال کیلئے چند پوائنٹس ذہن میں رہیں تو ہم بہتر طریقے سے اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔۔

ائر کنڈیشنر خریدتے وقت کمرے کا سائز دیکھیں اور جو اے سی اس روم سائز کیلئے کمپنی کی جانب سے ریکمینڈ کیا گیا ہو وہی خریدیں۔ آج کل انورٹر ٹیکنالوجی کے اے سی بہت عام ہو رہے ہیں اگر بجٹ اجازت دے تو عام اے سی کی نسبت قدرے مہنگا انورٹر اے سی لینا بہتر ہے۔ عام اے سی اور انورٹر میں بجلی کی کھپت کے لحاظ سے فرق ہوتا ہے لیکن اگر لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو تو پھر دونوں قسم کے اے سی ایک جیسی بجلی ہی خرچ کرتے ہیں۔
اگر ڈیڑھ ٹن کا اے سی تجویز کیا گیا ہو اور وہاں ایک ٹن کا لگایا جائے تو تھوڑی کپیسٹی کے اے سی کو درجہ حرارت کم کرنے کیلئے زیادہ زور لگانا پڑے گا جو بجلی کے بل میں اضافے کا باعث بنے گا اور مطلوبہ ٹھنڈک بھی کافی دیر بعد مل پائے گی۔۔ اگر اسی دوران بجلی بند ہو گئی تو بجلی آنے پر اے سی کو نئے سرے سے پورا کام کرنا پڑے گا جو آپکی جیب پر بھاری پڑے گا۔ جس کمرے میں اے سی لگوانا ہو اس کے دروازے کھڑکیاں اور باقی تمام سوراخ حتی الامکان ائر ٹائٹ کئے جائیں تاکہ کولنگ باہر نہ نکل سکے۔ ونڈوز پر بھاری کپڑے کے پردے لگائے جائیں تاکہ باہر سے سورج کی تپش کم سے کم اثر انداز ہو۔

کمرے کا دروازہ باربار کھولنے سے گریز کیا جائے کیونکہ جب اندرونی ٹمپریچر کم ہو گیا ہو اور دروازہ باربار کھلتا رہے تو باہر کی گرم ہوا اندر داخل ہو کر درجہ حرارت میں پھر سے اضافہ کر دیتی ہے جس کو کم کرنے کیلئے اے سی کمپریسر کو زیادہ دیر تک چلنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں بجلی کا خرچ بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح کئی لوگ کمرے میں آتے جاتے وقت کمرے کا دروازہ فوری بند نہیں کرتے اور دروازے میں کھڑے ہو کر باتیں کرتے رہتے ہیں یا پھر کچھ لوگ اسے کھلا ہی چھوڑ دیتے ہیں اور اگر بیڈروم اٹیچ باتھ کے ساتھ ہو تو اس کا دروازہ بھی پورا بند نہیں کرتے اس سے بھی اے سی کی ورکنگ میں غیر ضروری اضافہ ہو جاتا ہے اور نتیجہ بجلی کے خرچ میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اگر اللہ نے وسائل دیئے ہیں تو پھر بھی بلاوجہ کے پیسے ضائع کرنے کی بجائے ان باتوں کی طرف ذرا سی توجہ کریں اور بچت کو اللہ کی راہ میں صدقہ کریں۔۔ اس بجلی پر صرف آپکا ہی حق نہیں ہے۔ جتنا ممکن ہو سکے بجلی بچانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو سکے

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.