عروج وزوال | ترقی کی منزل تنزل کی راہیں - شاہد محی الدین

غلبہ کے دو اقسام ہوتے ہیں: ایک سیاسی غلبہ اوردوسرا ذہنی غلبہ ۔ اگر ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو اُمت مسلمہ دونوں لحاظ سے دنیا کے تمام افکار و نظریات اور تمام اقوام عالم پر حاوی تھی ۔ خدا کی حاکمیت کا تصور لادینیت پر غلبہ پا چکا تھا،آفاقیت قوم پرستی پر حاوی تھا،مذہب کو سیکولرازم پر فوقیت تھی ، علم صداقت اورسائنس خدمت کے دائرے میں رکھ کر فروغ دیا جاتا تھا۔

ان چیزوں سے اللہ تعالیٰ کے وجود کو تسلیم کرنے سے کسی فردبشرکو ہچکچاہٹ محسوس نہ ہوتی تھی ۔ مسلم علما اور کلمہ خوان سائنس دانوں نے انہی بنیادوں پر دنیا پر کرم فر مائیاں کیں کہ ان کے زیر اثر غیر مسلم سائنس دانوں میں بھی کسی نے بھی لادینیت کی راہ اختیار نہ کی۔ان میں نیوٹن اور گلیلیوجیسے عظیم سائنس دان بھی شامل ہیں۔سترہویں صدی تک مذہب اور نیچرل ازم کو یکساں نظریے سے دیکھا جاتا تھالیکن اٹھارویں صدی کے ابتدائی دور سے ہی گویا اللہ تعالیٰ کے وجود کا انکار (atheism) کا ظہور سائنس کے میدان میں بھی دیکھنے کو ملا۔ موجودہ زمانے میں اب جہاں لادینیت نے غلبہ پا لیا ہے ،وہیں معاشرہ میں بے پناہ موذی امراض نے اپنا جال بچھا کے رکھا ہے۔ ان امراض میں عورتوں پر متعدد قسم کے مظالم اور معصوموں کے قتلِ نا حق جیسے عوارض خاص طور پر قابل ذکر ہیں اور یہ اس کا ثمرہ ہے کہ بدکاری کو زیادہ سے زیادہ فروغ مل رہا ہے ، حقوق ِنسواں کے نعروں کی آڑ میں عورتوں کو زینت بازار بناتے ہوئے ان کی توہین ہورہی ہے ، مسلم دنیا میں بے گناہو ں کی نعشیں گرانے کا طوفان بدتمیزی جاری ہے۔ان تمام امراض کے پس منظر میں انسانی دنیا کی مذہب سے دوری اور اخلاق سے بغاوت کارفرما ہے۔

یا یوں کہیں کہ قدرت کے قوانین کو رد کر کے انسان اپنے بنائے ہوے قوانین کے ہاتھوں گمرہی اور بدکاری کےاندھیاروں میں بھٹک رہاہے۔ جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ دنیامیں سب سے زیادہ مہذب و بااخلاق قوم مسلمان ہی تھے۔ ہنر اور فنون کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کو فروغ دینے میں مسلم معاشرہ پیش پیش تھا اورسماجی، معاشی ، تہذیبی ، سیاسی بگاڑ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی صلاحیت بھی صرف مسلمان حکمرانوں میں بخوبی پائی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم امت سائنس کے ساتھ ساتھ تہذیب، تمدن 'ثقافت، معاشرت، معیشت وغیرہ شعبوںمیں سدھار اور ترقی پر یکساں طور پر قدرت رکھتے تھے۔ ان حوالوں سے عصر حاضر کی بہ نسبت مسلمانوں کا ماضی بہت ہی شاندار رہ چکا ہے ۔ آج جس طرح لوگ دور جدید کے ساتھ ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہنے کے لئے مغرب کی طرف رُخ کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، اسی طرح کبھی ایک ایسا وقت بھی ہمارے یہاں پایاجاتا تھا کہ لوگ عرب ممالک کی طرف تعمیردنیا کے امور اور ترقی ٔ آخرت کے لئے رجوع کرتے تھے۔ ہم نے علم و ترقی کی بنیادیں ڈال کر دنیا کو دکھا دیا تھا کہ ہم وہ قوم ہیں کہ جس پر غلبہ پانا کسی کے بس کی بات نہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   ملبورن کا ویک اینڈ - افشاں نوید

بغداد، دمشق اور بہت سارے عرب ملکوں کو علم و تحقیق کا مرکز تصور کیا جاتا تھا۔ چنانچہ دور عباسی میں خلیفہ مامون رشید کا بیت الحکمہ نامی علم و تحقیق کا ادارہ ، عہد اموی کا ابتدائی دور، جس میں ایسے ادارے قائم کئے گئے تھے کہ بڑے بڑے حکماء ' کیمیاداں، فلاسفہ ' اطباع، ریاضی دانوں کا بہت بڑا مجمع ایک جگہ جمع ہوگیا اور زمانہ مسلمانوں کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کر رہاتھا ۔بقول شاعر مشرق علامہ اقبالؒ ؎
دشت تو دشت ہے دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے - بحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے
اگر ہم یہ کہیں کہ مغرب میں سائنسی علوم پر اتنا عبور حاصل کرنے کی وجہ مسلمانوں کی غفلت شعاری کا نتیجہ ہے تو بے جا نہ ہوگا اوروہ کونسا شعبہ ہے جس میں مسلمانوں کا غلبہ نہ پایا جاتا تھا۔ اہل مغرب تو اس طرح خوابیدہ تھی جس طرح آج کے مسلمان فرقہ واریت کی آڑ میں آپسی انتشار اور آپسی منافرت کے شکار ہیں۔ساتویں صدی عیسوی میں ’’الجماری‘‘ جیسے عظیم کیمیا دان کا ظہور ہوا۔ علم فلکیات پر تحقیق کرنے والےابراہم الفزاری کو کیسے بھول سکتے ہیں ۔ جابر بن حیان نے علم کیمیا میں ایسے کارنامے انجام دئے جس کی بنا پر ان کو بابائے کیمیا ( father of chemistry) کے لقب سے نوازا گیا۔ علم فلکیات اور علم ریاضی پر مکمل عبور حاصل کرنے والے محمد الفزاری اور یعقوب بن طارق کے بارے میں جب آگاہی حاصل ہوتی ہے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتی ہیں۔

wright brothers سے ہزار سال قبل ابن فرنیس نے سائنسی طریقے پر ہوائی جہاز اُڑانے کا تجربہ کیا۔ بوعلی سیناکو بابائے ادویات کا لقب حاصل ہے۔اس کے علاوہ الزہراوی 'المسعودی الرازئ اور بہت سارے مسلمان سائنس دانوں کا ظہور ہوا جن کی بنا پر آج بھی سر فخر سے اونچا ہوتا ہے۔ عروج و زوال تو ہر کسی قوم ہرکسی نظریہ کا خاصہ ہے ' لیکن جب کوئی قوم یا نظریہ کسی زوال میں ڈوب کر اور زیادہ تذلیل کا شکار ہوجائے تو ان کو بہت سارے گھناؤنے نتیجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس قوم کا حال ان آزاد مویشیوں کی طرح ہوتا ہے کہ کھاتے پیتے اور آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں ۔
بقول شاعر مشرق علامہ اقبال ؎
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی - ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا
دوسری جانب وہ اقوام جنہوں نے عروج بھی دیکھے اور زوال بھی لیکن انہوں نے ہمیشہ سے ہی اپنے محنت و لگن کو برقرار رکھا۔ لوگوں کے اوپر ذہنی، سیاسی، اخلاقی اور مادی طور پر اپنا قبضہ جمایا ۔اُمت مسلمہ دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام واپس لاسکتی ہے، 'وہی عروج جسے ہم نے اپنے ہی ہاتھوں سے گنوا دیا ہے لیکن اس کے لئے تمام مسلمان ممالک کا اتحاد از حد ضروری ہے۔ امت مسلمہ کو جو مقام حاصل ہے اس کو یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ رسولؐ ،صحابہ کرامؓ ' اور سلف صالحینؒ کے منہج کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور علم و تحقیق کے ایسے ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہے جو کہ ادارے ہماری وراثت کا حصہ ہے جب ہی ہم اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کر سکتے ہیں۔