حج اور عمرہ اللہ کے لیے ہیں (حصہ دوم) - بشارت حمید

جو لوگ بھی عمرہ یا حج کا ارادہ کریں انہیں مناسک کی ادائیگی کی تربیت ضرور حاصل کرنی چاہیے اکثر لوگ بس دیکھا دیکھی بنا ضروری تربیت کے اس سفر پر نکل آتے ہیں اور پھر منزل پر پہنچ کر بھی منزل کا سراغ ڈھونڈ نہیں پاتے۔ کئی لوگوں کیلئے یہ سفر بس ایک سیروتفریح ہی بن کر رہ جاتا ہے اور کئی تو یہاں جیسے پکنک منانے آتے ہیں۔

ہر قدم ہر پوز کی سیلفی ۔۔ کبھی غلاف کعبہ کو ہاتھ لگاتے ہوئے۔۔ کبھی طواف کرتے ہوئے۔۔ کبھی سعی کرتے ہوئے۔۔ انہیں یہی فکر لگی رہتی ہے کہ سیلفی اچھی سے اچھی آئے اور کئی تو لائیو ٹیلی کاسٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ کس قدر بے حرمتی ہے اس مبارک مقام کی کہ ہم یہاں پہنچ کر ندامت کے آنسو بہا کر اپنی بخشش کی دعائیں مانگنے کی بجائے اسے ایک پکنک پوائنٹ سمجھ کر تصویریں اور ویڈیوز بنانے کی جگہ بنا چکے ہیں۔ نیت کا حال رب ہی جانتا ہے لیکن جو سامنے نظر آتا ہے اسے نظر انداز کیسے کیا جائے۔۔ ایک صاحب خانہ خدا کی طرف پیٹھ کرکے کھڑے تھے اور دوسرے صاحب انکی دعا مانگتے ہوئے تصویر بنا رہے تھے۔ لیکن جس کی تصویر بنائی جا رہی تھی اسے اطمینان حاصل نہیں ہو رہا تھا باربار مختلف زاویوں سے تصاویر کھنچوا کر پھر کچھ تسلی ہوئی۔۔ اسی طرح چند بزرگ لوگ لائن بنا کر کعبہ کی طرف پشت کئے ہاتھ اٹھا کر دعا کے انداز میں تصاویر بنوا رہے تھے۔۔ ایک برقعہ پوش لڑکی ایک ہاتھ میں موبائل پر ویڈیو بناتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے غلاف کعبہ کو چھو رہی تھی۔

انسان اپنا سر پیٹ لے ۔۔ کسی دیوار میں ٹکر مارے۔۔ کس طرح ان جہلاء کو سمجھائے کہ اللہ کے بندو یہ مقام سیلفیاں ویڈیوز بنانے کا نہیں ہے اگر اللہ نے یہاں پہنچنے کا موقع فراہم کر دیا ہے تو اپنے آپ کو اپنے گناہوں سمیت سرنڈر کرو۔۔ اپنی آخرت کی فکر کرو جہاں کوئی سیلفی کسی کام نہیں آئے گی۔ کتنی ایسی تصاویر ہم روز مرہ زندگی میں بناتے ہیں جو کہیں پڑی کی پڑی رہ جاتی ہیں دو چار بار دیکھ کر پھر یاد بھی نہیں رہتیں۔ تو یہاں حاضری کے موقع کو پکنک نہ بناو اس گھر کی بے حرمتی مت کرو جس کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے رکھی جو ہمارا قبلہ ہے جس کی طرف رخ کرکے ہم اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں۔ ٹھیک ہے یاد آوری کیلئے چند تصاویر بنا لینے میں حرج نہیں لیکن دوران طواف و سعی تصاویر کی کیا مصیبت پڑی ہوتی ہے۔۔

جو لوگ بوڑھے بزرگوں کو اکیلے یا کسی گروپ کے ساتھ عمرہ پر بھیج دیتے ہیں ان کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ یہاں عربی زبان بولی جاتی ہے اور عربوں کی اکثریت کوئی دوسری زبان نہیں جانتی۔۔ بس کا ڈرائیور بھی عربی کے سوا کچھ نہیں جانتا اگر بابا جی کہیں گم ہو گئے تو انکی تلاش بذات خود ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔

جو بزرگ پہلی بار جہاز کا سفر کر رہے ہوں انہیں دوران سفر کھانا پینا بہت کم رکھنا چاہیئے تاکہ باربار واش روم کی حاجت نہ ہو۔۔ پھر انکو کموڈ پر بیٹھنے کی تربیت ضرور دینی چاہیئے کیونکہ جہاز میں بھی اور حرمین کے ہوٹلز میں اکثر کموڈ ہی لگائے جاتے ہیں۔ انجان لوگ کموڈ کے اوپر دونوں پاوں رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں زیادہ وزن کی وجہ سے کموڈ ٹوٹ بھی جاتا ہے جو کسی چوٹ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ پھر کئی لوگ کموڈ پر بیٹھنے کی بجائے شاور ایریا میں جالی پر گندگی پھیلا دیتے ہیں جو کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ سفر میں کھانا پینا کم سے کم رکھا جائے یہ نہ ہو کہ بندہ جہاز میں اپنی سیٹ کی بجائے زیادہ وقت باتھ روم میں ہی گزارے۔ ابھی چند روز قبل مانچسٹر سے اسلام آباد آنے والی پی آئی اے کی پرواز جو ٹیک آف سے چند منٹ قبل ائرپورٹ پر تیار کھڑی تھی کہ ایک مسافر خاتون نے باتھ روم جانے کیلئے جہاز کا ایمرجنسی گیٹ باتھ روم کا دروازہ سمجھ کر کھول دیا جس کے نتیجے میں ایمرجنسی سلائیڈنگ کا سسٹم آن ہو گیا اور سلائیڈز اوپن ہو گئیں۔ اس کے نتیجے میں پرواز خاصی تاخیر کا شکار ہو گئی۔۔ سب مسافروں کو خاصی کوفت کا سامنا کرنا پڑا۔۔ اس طرح کے بزرگوں کو اکیلے دوسرے ملک کے سفر پر بھیجنا خود انکے ساتھ ساتھ دوسروں کیلئے بھی پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.