”ہماری ثقافت اور موجودہ منظرنامہ“ - طاہرہ فاروقی

ثقافت کے معنےطرزِزندگی یا تہذیب کے ہیں ۔لغت کی رو سے ثقافت کسی معاشرے میں موجود رسم ورواج اور اقدار کے مجموعےکو کہا جاتا ہے جس پر عام لوگ مشترکہ طور سے عمل کرتے ہوں۔اس لحاظ سے رقص اور موسیقی کا ثقافت کےدائرے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے الا یہ کہ کسی جگہ کے لوگ اسکو زندگی کا لازمہ سمجھتے ہوں یا عبادت کا درجہ دیتے ہوں ۔ ورنہ اسکی ضرورت زندگی کے کسی شعبے کو نہیں ہے ۔ جس طرح سے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہےکہ جہاں ثقافت کا لفظ آیاموسیقی اور دھمال شروع۔۔۔ یافنون لطیفہ کا لفظ آیا اور بے حیائی جائز ہوگئی ۔۔۔۔۔۔ یا تفریح کو لازماً اباحیت اورعریانیت کے ہم معنیٰ سمجھ لیا جاتا ہے۔۔۔

اب ذرا پاکستان کا منظرنامہ دیکھیے آجکل جس زورشورسے ہر طرف رقص اور موسیقی کی بھرمارکی جارہی ہے، اور ثقافت کے نام پہ یہ سب کچھ ہورہاہے اس پر حیرت ہے !!!!! پاکستانی معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہے یہاں کی آبادی کی غالب اکثریت مسلمان ہے۔ اور اسلام کی اپنی ایک مخصوص تہذیب ہے جسکی بنیاد کلمہ طیبہ پر ہے اور جس کے لازمی مظاہر ہیں وقار اور شائستگی۔۔۔ جسکا پیغام ہے خیرخواہی اور عدم تشدد۔۔۔ اور جسکی شان ہے انفرادیت،،،،،،،،
”ہم جیساکوئی نہیں !! “ جی ہاں یہی سب سے زیادہ قابلِ فخر حقیقت ہے۔۔۔!!
اللہ اور اسکے پیارے رسولﷺ کی خوشی ہی اسی میں ہے کہ مسلمان قوم کے طور طریقے کسی بھی دوسری قوم کے مشابہ نہ ہوں ،،،،، عبادت تو دور کی بات ہےاگرفرد سامنے آ ۓ تو اسکی نظر ، اسکی چال ڈھال، لباس وانداز، نشست وبرخاست حتیٰ کہ خوشی اورافسوس کے جذبات بھی الگ ہوں ۔ کھانےکی اشیا ٕ تو دور کی بات کھانے کا طریقہ تک جدا ہونا چاہیے۔ باذوق لوگوں کی تمنا ہوتی ہے کہ منفرد نظر آئیں۔اورمعزز شخص چاہتاہے کہ دوسروں پر اسکی عزت قائم ہو۔ مالکِ ذوق وجمال بزرگ وبرتر کی رضا اس میں ہے کہ اسکے محبوب کی امت کا ایک ایک فرد جہاں جاۓ پہچانا جاۓ کہ یہ کس قوم کا نماٸندہ ہے۔۔۔۔ !!
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کوایسی ہی عظیم الشان تہذیب عطا فرمائی جوزندگی کےھر شعبے میں نہ صرف منفرد بالذّات تھی بلکہ منافعات و مناقبات اور ایجادات سے بھی مالامال تھی .. یہی وجہ ہے کہ آج ڈیڑھ ھزار سال گزرنے کے باوجود نہ تو یہ متروک ہوئی ناہی فرسودہ!!!

اگرچہ مسلمانوں نے اپنے شاندار ورثے سے روگردانی کرتے ہوے غیروں کی تھوکی ہوئی ہڈیاں نچوڑنی شروع کردی ہیں۔ مگر اسی کےعلی الرغم غیرمسلموں نے اسےمفید دیکھ کر اپنانا اور اسکے ذریعے سے بلندی کے زینوں پہ چڑھنا شروع کردیا ہے!! تہذیب ہمیشہ مذہب کی مرہونِ منت ہوتی ہےاور اسی کی آئینہ داربھی۔۔۔۔۔کیونکہ مذہب راستے کو کہتے ہیں اور تہذیب اس پر چلنے کے طریقے کو۔۔۔ اور ثقافت اسکے مظاہر کو۔۔۔!!!!! یہی وجہ ہے کہ غیرمسلم اقوام جب بھی اسلام کےاصولوں پرعمل کرتی ہیں انھیں اسلام کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔ایسی معرکة الآرا اور لافانی تہذیب کا حامل ہوتے ہوۓ بھی آج ہم دوسروں کے ان اطوار کی نقل کرتے ہیں جنکی ہلاکت انگیزی کے سبب وہ قومیں خود ان سے جان چھڑانا چاہتی ہیں۔۔۔۔
واۓ افسوس۔۔۔ جدھر بھی نظراٹھاو دل خون ہی ٹپکاتا ہے!!! وطنِ عزیز اس وقت عمائدینِ سلطنت کی لامحدودسرکشی اورطغیان کی کالی آندھیوں کی زد میں ہے۔ ھر روز ایک نہ ایک نیافتنہ نمودارھوتا ہے۔۔۔۔۔ اور سب ثقافت کے نام پر۔۔۔ !!! سب سےپہلےحکومتی ایوانوں سے آواز آئی کہ سنسر بورڈ ختم کردیا جائیگا اور جو کچھ حیاباختہ مواد فلمایاگیا ہوگا جوں کا توں دکھایا جائیگا۔ کیونکہ اس پر پیسے خرچ ہوے ہیں۔۔۔ پھر کہاگیا کہ شراب اور چرس پرکوئی پابندی نہیں ہوگی جو چاہے بیچے یا خریدے رکھے یا پیے پولیس بازپرس نہیں کرےگی۔۔۔

پھر کہاگیا کہ بارہ سو نئے سینیما گھرکھولے جائینگے۔۔۔۔۔ !! یعنی کہ اب کوئی مہذب یا جنونی ، حیادار یا بےحیا ، محبِ وطن یا دشمنِ وطن ، دیندار یادین بیزار اپنے مسموم مقاصد یا مذموم مقاصد کے لیۓ جیسی بھی فلم چاہے بنا کر بےدھڑک عوام میں جاری کرسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔دوسری طرف عوام کو باآسانی شراب اور چرس اور دوسرے مہلک نشےمہیاکیے جائینگے تاکہ وہ ہوش وخرد سے بیگانہ ہو کر ایسی فلمیں دیکھیں جوانکی زندگی کے لیےبھی زہرِقاتل ہو اور دوسروں کے لیے بھی انکو بلا بنا دے۔۔۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسا کیوں کیا جارہا ہے ؟ پہلے تو اسطرح کی جسارتیں پرائیویٹ سیکٹر میں کی جاتی تھیں ۔ یا NGO کی سطح پر نظرآتی تھیں تو حکومت سے شکایت کی جاتی تھی اور پھر حکومت نوٹس لیتی تھی ۔ برا یا بھلا مگر کچھ نہ کچھ مداوا ضرور ہوتا تھا۔ اور کچھ نہیں تو کم ازکم طغیانی کی رفتار ہی کنٹرول ہوجاتی تھی۔۔۔۔۔مگر اب تو حکومت کے کارپرداز ہی اس ملک کی جڑیں کاٹنے اورآئین کی دھجیاں بکھیرنے پر تل گۓ ہیں۔۔۔۔۔۔۔!!! اور یہ سب ثقافت کے نام پر ہورہاہے۔ آخر کونسی ثقافت ہم اپنے اسلامی معاشرے میں راٸج کرناچاہتے ہیں ؟؟؟؟؟؟