ملبورن کا ویک اینڈ - افشاں نوید

اپنے حساب سے تو ہم علی الصبح ہی نکلے تھے یعنی دس بجے ۔ کیونکہ بروز اتوار ہماری سڑکوں پر سناٹا ہوتا ہے اسوقت ۔اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے شہر شب بیدار ہوگئے ہیں ۔ یہاں تو پتہ نہیں کب صبح ہوگئ تھی ، اسوقت تو رونق جوبن پر تھی ۔ سائیکلوں کی بہار تھی سائیکل ٹریکس پر ۔

لوگوں کے قافلے چاروں طرف سے برآمد ہورہے تھے۔معلوم ہوا ہر ویک اینڈ پر یہاں میچ ہوتے ہیں اور اتنا ہی رش ہوتا ہے ۔ ہم اسٹیڈیم کے سامنے سے گزر رہے تھے اور ساتھ ہی ریلوے اسٹیشن تھا۔یہ قافلے وہاں سے برآمد ہورھے تھے۔ یہاں ٹرینوں کا شاندار انتظام ہے جسے دیکھنے کے لئے ہم نے کئ گھنٹہ ٹرین کا سفر کیا۔جس کو رقم کرنے کے لئے ایک باب الگ سے درکارہے۔افسوس یہ ہواکہ ہمارے حکمران بھی تو ان ملکوں میں آتے جاتے ہیں۔کیا کچھ نہیں سیکھا کبھی کسی نے یا بیگمات کو شاپنگ کرانے آتے ہیں اور آنکھیں اپنے وطن میں ہی چھوڑ آتے ہیں۔۔ خیر یہ ملبورن کی اتوار کی صبح ہے۔یہ اسٹیڈیم 75ہزار افراد کی گنجائش رکھتا ہے اور ہر ہفتہ کھچاکھچ بھرا ہوتا ہے۔یہ لوگ کھیل کو عبادت سمجھتے ہیں۔ایک جم غفیر تھا ۔ کیا بوڑھے کیا بچے۔ تین چار نسلیں اکٹھی ہوتی ہیں یہاں اسٹیڈیمز میں ہر ویک اینڈ پر۔ آسٹریلیا میں سال میں چھ ماہ کرکٹ ہوتی ہے اور چھ ماہ آسٹریلین فٹ بال جسے فوٹی کہتے ہیں۔ ہزاروں لوگ جرسیاں پہنے کچھ بزرگ (واضح رہے یہاں ساٹھ سال کے نوجوان ہوتے ہیں ٹائٹ جینز اور ٹی شرٹوں میں جوگر پہن کر بھاگتے ہوئے) یہاں اسی سال کے لوگ بزرگ کہے جاسکتے ہیں۔

اس کا اندازہ انکی دھیمی چال، آواز کی لڑکھڑاھٹ اور جھریوں بھرے ہاتھوں سے ہوتا ہے۔ ہمارے سوالوں بھری ٹوکری سے ایک سوال لڑھک کر باہر آگیا۔ کیا سارے ہی ٹرین سے آتے ہیں میچ دیکھنے ۔گاڑیوں سے بھی آتے ہونگے؟ جواب ملا, عموما وہ لوگ جن کے ساتھ چھوٹے بچے ہوں ۔ میچ کے اختتام پر اکثریت بارز (شراب خانوں) کا رخ کرتی ہے اور اٹھارہ برس سے کم عمر بچوں کا وہاں داخلہ ممنوع ہے۔ واضح رہے اسٹیڈیم میں داخلہ مفت نہیں ہے۔ ترقی یافتہ قومیں اپنے مستقبل پر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ 25 ڈالر فی کس میچ کا ٹکٹ ہوتا ہے ۔ پندرہ ڈالر کے لگ بھگ ٹرین کا کرایہ۔پندرہ ڈالر کی شراب اسٹیڈیم کے اندر پیتے ہیں۔باہر سے شراب اسٹیڈیم کے اندر نہیں لے جاسکتے۔ پھر میچ سے سیدھے بار کا رخ۔۔یہاں پھر تیس،چالیس ڈالر کے مشروبات۔ویک اینڈ پر بار پوری رات کھلے رہتے ہیں۔چونکہ نشے کی حالت میں ڈرائیونگ پر یہاں لائسنس منسوخ کردیتے ہیں کچھ عرصہ کے لئے۔سخت جرمانے الگ ۔اس لئے انگور کی بیٹی کے محرم زاد ٹرینوں سے سفر کو ترجیح دیتے ہیں اسٹیڈیم آنے کے لئے۔۔۔ چونکہ شہر بھر کا رخ اسٹیڈیم کی طرف تھا اس لئے ہم بھی اس مقامی میچ کی معلومات لیتے رہے .

آج مقابلہ ملبورن نارتھ اور ویسٹرن بل ڈوگز کے درمیان تھا جسے ان پچھتر ہزار تماشائیوں نے دیکھنا تھا ۔ یہاں لوگ ویک اینڈ دیر تک سو کر نہیں گزارتے ؟ اگلے سوال کے لئے ہماری پوٹلی کا منہ خود ہی کھل گیا۔بھانجے نے جواب دیا یہاں ویک اینڈ پورے ھفتہ سے زیادہ مصروف ہوتا ہے۔یہ سب فجر سے قبل بیدار ہونے والی قوم ہے۔کل سویرے آپ کو جم لے کر چلونگا ۔ کئ جم تو کئ کلومیٹر پر پھیلے ہوئے ہیں ۔ صبح سات بجے تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی ۔ اسی طرح پلے گراؤنڈ جو ہر کلومیٹر پر آپ دیکھیں گی بھرے ہوئے ہوتے ہیں اسکولوں کے بچوں سے۔۔اگر آپ کسی والدین سے ہفتہ کا دن مانگیں اور اس کا بچہ اسکول کا طالب علم ہو تو وہ لازمی معذرت کرے گا کہ میرے بچہ کا پریکٹس ڈے ہے ۔ یہاں کھیل تدریس کا لازمی حصہ ہیں ۔۔میں ویک اینڈ پر سائیکل لے کر روڈ پر ہی آجاتا ہوں کہ جم کی بھیڑ بھاڑ سے بچوں ۔ ہفتہ کے یہ دو آخری دن اس قدر تھکا دیتے ہیں کہ پیر کی صبح جب آفس میں آپ کسی سے سوال کریں کہ تمہارا ویک اینڈ کیسا گزرا تو اس کا ایک ہی جواب ملتا ہے.. I come to work for rest.