ایغور مسلمانوں بچوں کو انکی نسلی اور مذہبی شناخت سے کاٹنے کے لیے والدین سے الگ کیا جارہا ہے۔ مہتاب عزیز

سنکیانگ (مقبوضہ مشرقی ترکستان) میں جہاں چینی حکومت مسلمانوں کی شناخت تبدیل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ وہیں کئی شواہد سے انکشاف ہوا ہے کہ ایغور مسلمانوں بچوں کو انکی نسلی اور مذہبی شناخت سے کاٹنے کے لیے والدین سے الگ کیا جارہا ہے۔

سنکیانگ میں بورڈنگ سکولوں کے بڑے کیمپ بنائے گئے ہیں جن میں رہائش کے لیے بڑے کمرے ہیں اور ان میں بڑی تعداد میں طلبہ کے رہنے کی گنجائش ہے۔ بڑوں کے لیے حراستی مراکز کی طرز پر ہی بچوں کے لیے سکول تعمیر کیے گئے ہیں۔ ان مراکز یا سکولوں میں اب تک ہزاروں مسلمان بچے منتقل کیے جا چکے ہیں۔
ایغور مسلمانوں کے خلاف مظالم کو منظر عام پر لانے والے جرمن محقق ڈاکٹر ایڈریان زینز کے مطابق صرف 2017 میں سنکیانگ میں کنڈرگارٹن سکولوں میں داخل ہونے والے بچوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ بڑھ گئی تھی۔ اس میں 90 فیصد سے زائد تعداد اویغور اور دوسرے مسلمان بچوں کی تھی۔
ڈاکٹر زینز کا ماننا ہے کہ سنکیانگ کی تعلیم پھیلاؤ مہم کے پیچھے بھی وہی سوچ ہے جو بڑوں کی بڑی تعداد میں جیلوں میں بند کرنے کے پیچھے تھی۔ ان سکولوں میں اویغور اور دیگر ایسے مسلمان بچوں کو بھی منتقل کیا جا رہا ہے جن کے والدیں حراستی مراکز میں قید نہیں ہوئے۔

چینی حکومت نے ایسے سکولوں کے قیام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے ’’ان بورڈنگ سکولز کی افادیت بہت زیادہ ہے اور 'ان کی مدد سے معاشرے میں استحکام اور امن' لانے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ 'یہ سکول چھوٹے بچوں کی تربیت انکے اپنے والدین کے متبادل کے طور پر کرتے ہیں۔‘‘
جبکہ ڈاکٹر زینز کا کہنا ہے کہ ’’یہ بورڈنگ سکول بچوں کی تہذیب و ثقافت کو یکسر تبدیل کرنے کے لیے ماحول فراہم کرتے ہیں۔‘‘