بھارت فری لانسنگ میں سب سے آگے کیسے ہے ؟ سہیل بلخی

بھارت میں فری لانسرز کے کام کا انداز بڑا دلچسپ ہے۔ وہ لوگ دو دو چار چار کے گروپ بناتے ہیں‘ دو جوڑے کپڑے اور لیپ ٹاپ پکڑ کر کسی پہاڑی تفریحی مقام کو نکل جاتے ہیں۔ وہاں دو ہفتے کے لئے کمرہ لیتے ہیں اور کام اور آرام دونوں کے ساتھ جی بھر کے انصاف کرتے ہیں۔ دو ہفتوں میں جی بھر کے کام بھی کرتے ہیں اور تفریح بھی -شام کے وقت فضائوں میں تیرتے آزاد پرندوں کی اڑانوں کو بھی دیکھتے ہیں، خوب کھاتے پیتے اور آپس میں ہنسی مذاق، گپ شپ بھی کرتے ہیں۔۔ اور مختلف موضوعات پر ایک دوسرے سے نالج بھی شیئر کرتے ہیں۔

یہ ایسی زندگی ہے جو شاید کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے سی ای او یا وزیر اعظم تک کو بھی نصیب نہ ہو گی ‘ لیکن آج کے دور میں فری لانسرز یہ زندگی جی رہے ہیں ۔ یہ اپنی مرضی سے کام کرتے ہیں، جب چاہے اور جتنا چاہیں کرتے ہیں ۔ انہیں کام کی کمی کا بھی اندیشہ نہیں۔ فری لانسنگ میں اتنا کام میسر ہے کہ یہ چوبیس گھنٹے بھی کریں تو ختم نہیں ہوتا اور صرف بھارت ہی نہیں امریکہ ‘ برطانیہ ‘ پاکستان ‘ بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر کے ممالک میں فری لانسنگ کی طرف لوگ رجوع کر رہے ہیں ۔۔۔۔ دنیا میں فری لانسنگ کی بڑھتی مقبولیت کی ایک وجہ لائف سٹائل بھی ہے۔ امریکہ اور بھارت میں تو ایسے کئی پوائنٹس بن چکے ہیں جہاں فری لانسرز کے لئے فائیو سٹار ہوٹلز کی لابی جیسا ریلیکس ماحول ‘ تیز ترین انٹرنیٹ اور پرائیویسی میسر ہوتی ہے۔ آپ کے گھر میں بجلی نہیں‘ آپ لیپ ٹاپ اٹھاتے ہیں ایسی جگہوں پر جاتے ہیں اور کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ فری لانسنگ میں آپ دفاتر میں ہونے والی سازشوں اور ٹانگیں کھینچنے والوں سے بھی بچے رہتے ہیں ۔ آپ ہوتے ہیں اور آپ کا کلائنٹ ہوتا ہے ۔ آپ کام کرتے ہیں تو پیسے آپ کے اکائونٹ میں آ جاتے ہیں ۔

آپ دنیا کے کسی بھی کونے سے اے ٹی ایم کارڈ سے پیسے نکال سکتے ہیں۔ فری لانسنگ کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ اس کی تقریباً زیرو انویسٹمنٹ بھی ہے۔ آپ کو کام شروع کرنے کیلئے صرف تین چیزیں درکار ہوتی ہیں ۔ لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر‘ اچھا انٹرنیٹ کنکشن اور کسی کام میں مہارت۔ کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ آپ کو دس سے بیس ہزار اور انٹرنیٹ ماہانہ پندرہ سو میں مل جاتا ہے ‘ تیسری چیز کام کی مہارت ہے جو آپ کو سیکھنے اور تجربے سے آتی ہے ۔ کوئی چیز سئکھیئے ، کسی جگہ کسی کی نگرانی میں ایک دو سال کام کیجئیے اور جب آزادانہ کام کرنے کے قابل ہوں تو شروع کر دیجیئے ۔ عام چھوٹے موٹے کاروبار حتیٰ کہ چھوٹی سی برگر شاپ کھولنے کے لئے بھی آپ کو سینکڑوں جتن کرنے پڑتے ہیں ۔ کرایہ پر دکان، چھ مہینے کا ایڈوانس کرایہ‘ دکان کی سجاوٹ‘ سامان ‘ بجلی کا کمرشل بل ‘ مختلف ٹیکس‘ یو پی ایس ‘ تشہیر کا خرچ ‘ لوڈ شیڈنگ کا عذاب‘ ملازموں کی تنخواہ وغیرہ وغیرہ ۔ اس کے بعد بھی کام چلے نہ چلے‘ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جبکہ فری لانسنگ میں آپ جیسے ہی پانچ ڈالر کا ایک آرڈر مکمل کر لیتے ہیں ‘ آپ کا اعتماد پچاس گنا بڑھ جاتا ہے ۔ مشکل صرف پہلے آرڈر تک ہوتی ہے ‘ پہلا آرڈر ملتے ہی آپ کا اعتماد بحال ہو جاتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت سے جنگ اور گھر کا محاذ - عظمی ظفر

جہاں تک جاب مارکیٹ کی بات ہے تو صورت حال بھارت میں بھی مختلف نہیں۔ وہاں بھی انجینئر‘ اکائونٹنٹس‘ ڈاکٹر اور ایم بی اے پاس نوکریوں کی تلاش میں دربدر ہیں؛ تاہم ان کی زیادہ تعداد اب فری لانسنگ کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ پڑھے لکھے لوگوں کو جو اپنے ملک اور اپنے معاشرے میں بہتری چاہتے ہیں ، سکھانے اور بتانے میں کنجوسی نہیں کرتے ۔۔۔مگر گوگل لاکھوں صفحات اور یو ٹیوب پر اسکی رہنمائ کے لیئے ھزاروں وڈیوز موجود ہیں ۔۔۔آپ ڈھونڈ کر تو دیکھیں ۔۔۔پرانے فری لانسر کو نئے افراد سے کوئ خطرہ نہیں۔۔۔ ذرا فری لانسنگ کی فائیور ویب سائٹ یا فری لانسر اور اپ ورک یا کسی اور ویب سائٹ پر جا کر دیکھیں روزانہ لاکھوں کلائنٹس مختلف کاموں کے لئے جاب پوسٹ کرتے نظر آئیں گے‘ کسی کو سوشل میڈیا مارکیٹنگ‘ بلاگز رائٹنگ تو کسی کو ویب سائٹ ڈیزائننگ درکار ہو گی‘ کوئی مختلف زبانوں میں تراجم کا خواہاں ہو گا ، کوئی وڈیو ایڈیٹر ڈھونڈ رہا یے اور کوئی ٹایپسٹ۔۔ بھارت میں خواتین اور معذور افراد خاص طور پر اس جانب راغب ہو رہے ہیں۔ ان میں سیکھنے کی لگن ہے اس لئے وہ آن لائن کام سیکھ جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں لوگ محنت کرنے اور وقت دینے کو تیار نہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ بس کوئی شارٹ کٹ مل جائے ، چار چھ مہینے صبر نہیں کرسکتے نہ لگ کر کچھ سیکھنا چاہتے ہیں۔ مجھے سوشل میڈیا پر لوگ سوال کرتے ہیں کہ بتائیں ہم کیسے کام کریں کیسے پیسے کمائیں۔ میں اپنی کیپیسیٹی میں بتانا چاہتا ہوں مگر کام چھوڑ کر زیرو سے نہیں بتا پاتا۔۔۔اپ لوگ ابتدائی چیزیں خود محنت کرکے انٹرنیٹ پر پڑھ لیں اور کوئی سوال ہو تو پوچھیئے ۔۔مجھے کسی نے صرف ایک لائن میں بتایا تھا اور باقی میں نے انٹر نیٹ پر پڑھ کر سمجھ لیا تھا۔۔لاکھوں لوگ صرف فری لانس ویب سائٹس 'انٹرنیٹ بلاگز اور یو ٹیوب ویڈیوز کی مدد سے کام سیکھ کر لاکھوں روپے ماہانہ کما رہے ہیں۔ بھارت میں بھی اب کہیں جا کر ڈیجیٹل انڈیا پلیٹ فارم کے نام سے ایک منصوبہ شروع ہوا ہے۔ اس سے قبل نوجوان خود سے ہی سیکھ کر کام کر رہے ہیں۔ مستند اعداد و۔شمار تو سرکار کے پاس ہونگے مگر پاکستان بھر میں ہزاروں فری لانسر کام کر رہے ہیں اور دو سے ڈھائی نہیں ڈالرز کما رہے ہیں۔۔ بھارت فری لانسنگ میں پہلے امریکہ دوسرے بنگلہ دیش تیسرے اور پاکستان چوتھے نمبر پر یے۔۔۔بہت کم ممالک میں انگریزی بولی اور سمجھی جاتی یے ۔۔

یہ بھی پڑھیں:   ’ہندوتوا‘ کے انتہاپسندوں کا مسلم نسل کش ایجنڈا - قادر خان یوسف زئی

چینی جاپانی کورین انگریزی نہیں سمجھتے اور انگریزی ہی اس میدان کی زبان ہے ۔۔ ایک کمپنی ہے جو پیمنٹ اور اے ٹی ایم میں فنڈ ٹرا نسفر کی سہولیات دیے یے اسکا نام Payoneer یے ،کمپنی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فری لانسنگ سے چار سو ارب سالانہ ملک میں لا رہے ہیں۔ انٹرنیٹ سے پیسے ٹرانسفر کرنے کی سہولت دینے والی کمپنی پے پال نے پانچ سو بھارتی فری لانسرز کا سروے کیا جس کے مطابق ان میں سے تئیس فیصد ماہانہ سوا کروڑ روپے سے زائد کما رہے ہیں‘ جبکہ ایک اوسط بھارتی فری لانسر کی سالانہ آمدن چالیس لاکھ روپے ہے۔ ان میں سے اکتالیس فیصد کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک سال پہلے کام شروع کیا اور اب وہ خوش حال ہو چکے ہیں‘ لیکن اس کے لئے انہیں ابتدا میں بہت زیادہ محنت کرنا پڑی اور اب بھی معیار برقرار رکھنے کیلئے وہ تگ و دو کر رہے ہیں؛ تاہم انہیںخوشی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کام کرتے ہیں اور انہیں اپنی جاب سکیورٹی کی بھی کوئی فکر نہیں۔۔۔ اب بھی اگر اپ کا کوئی سوال ہے اور آپ بالمشافہ کرنا چاہیں تو ہمارے سنڈے اوپن ھاوس میں تشریف لائیں ۔۔۔
اتوار 7 جولائی دو تا چار بجے .... بیت المکرم مسجد کے پاس کوئٹہ چائے کے برابر میں دفتر جماعت اسلامی گلشن اقبال میں ملاقات کیجیئے۔۔۔
(اس پیغام کی تیاری انٹر نیٹ کے کچھ مضامین سے کی گئ اور مفاد عامہ کے مقاصد کے تحت اسے پاکستان بھر کے نوجونوں سے شئیر کیجیئے ۔۔شکریہ)