میرے سجنا کِتھے ویں توں- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

میری طرف ایک ادبی میگزین ’’ارژنگ‘‘ باقاعدگی سے آتا ہے۔ مدیر اعلیٰ عامر بن علی ہے اور مدیر حسن عباسی ہے۔ عامر بن علی کے ساتھ کچھ دن پہلے کھانا کھایا تھا۔ یہ دعوت معروف شاعرہ اور بھرپور خاتون ادیبہ ناز بٹ کی طرف سے تھی اور اب پتہ چلا کہ عامر بن علی مہمان خصوصی تھے۔ دعوتوں میں مہمان خصوصی وہی ہوتا ہے جو سب سے زیادہ کھائے مگر اُس نے بہت کم کھایا اور میں نے تو بہت ہی کم کھایا۔ پھر میں تو مہمان خصوصی نہ تھا ۔ البتہ مہمانِ عزیز تو ضرور تھا۔

پہلے شاید عزیزم ابرار ندیم ارژنگ کے مدیر اعلیٰ تھے اس کالم میں اس رسالے کا ذکر کیا کہ نوائے وقت کے انچارج ایڈیٹوریل معروف ادیب و شاعر اور نامور صحافی سعید آسی کا خوبصورت انٹرویو شامل ہے۔ یہ انٹرویو معروف شاعرہ اور کالم نویس لنبیٰ صفدر نے کیا ہے۔ لبنیٰ صفدر حسن عباسی کی اہلیہ ہیں۔ وہ بھی مجلس ادارت میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر صغرا صدف اور ابرار ند یم بھی اُن کے ساتھ ہیں۔ نامور ادیب شاعر کالم نگار اعتبار ساجد کے ساتھ عامر بن علی کی گفتگو بھی شمارے میں موجود ہے۔ ایک اچھا مزاحیہ مضمون ’’موٹے لوگ‘‘ کے نام سے عطا الحق قاسمی نے لکھا ہے۔ شکر ہے کہ ہم موٹے نہیں ہیں۔ ایک زبردست مضمون میں اکرم کنجاہی نے نامور شاعرہ اور ادیبہ ناز بٹ کے شعری مجموعہ ’’وارفتگی‘‘ کو ’’گنبدِ ذات کی بازگشت‘‘ قرار دیا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آئی کے وارفتگی وابستگی سے پہلے ہوتی ہے یا بعد میں ہوتی ہے۔ مجھے یہ د ونوں تجربے محسوس ہوئے ہیں مگر اس کے آگے صرف ناقابل بیان ہی لکھا جا سکتا ہے۔ محترمہ ناز بٹ کے نزدیک لفظ تلواریں ہیں مگر پھر بھی وہ کہتی ہے مجھے خاموش رہنے دو۔ مجھے کچھ بھی نہیں کہنا۔ ساری عمر خاموشی میں کٹ جاتی ہے۔ آہ چھپانی پڑ جاتی ہے آنکھوں میں۔

تم نے لمس معتبر سے بخش دی وہ روشنی

مجھ کو میری آرزئوں کی سحر لگتے ہو تم

ساتھ ہوتے ہو تو لگتے ہیں زمانے اپنے

ایک رشتے میں سمٹ آتی ہے دنیا ساری

اے امیر وصل برس اور کھل کے مجھ پہ برس

میں بھیگی بھیگی ہوا کی شرارتوں میں رہوں

وہ اک چراغ جو اس لمس نے جلایا تھا

میرے بدن میں سدا اُس کی روشنی ہی رہی

تجھ کو سوچوں میں سو بہ سو ہو کر

میں تو بس رہ گئی ہوں تو ہو کر

لنبیٰ صفدر کے ساتھ گفتگو میں سعید آسی نے کہا ’’ایوارڈ کا مجھے کبھی لالچ نہیں رہا۔ نوائے وقت ایک اخبار ہی نہیں ا یک پلیٹ فارم ہے ا یک تحریک ہے‘‘

نجانے ان جملوں کے لیے لبنیٰ صفدر کا سوال کیا تھا۔

سوال اچھا ہو تو جواب بھی اچھا ہوتا ہے…

دوسرا رسالہ پنجابی شعر و ادب کے لیے ہے’’لہراں‘‘۔ مجھے پنجابی میں لکھنے کی تحریک اس رسالے سے ملی۔ پنجابی میں رسالے نکلتے رہے اور بند ہوتے رہے۔ ایک ’’لہراں‘‘ ہے جو جاری ہے بلکہ جاری و ساری ہے۔ ’’لہراں‘‘ کے بانی ڈاکٹر سید اختر حسین اختر تھے۔ وہ بہت استقامت والے آدمی تھے۔ اب ان کے بیٹے سید علی عرفان اختر ایڈیٹر ہیں اور وراثت میں ایک جذبہ لیے ہوئے ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ یہ ا یک عجیب افتخار ہے کہ 1965ء لہراں کے اجرا کا سال ہے۔ ’’لہراں‘‘ ہر اُس جگہ پر پہنچا ہے جہاں پنجابی بولی جاتی ہے اور پڑھی جاتی ہے۔

یورپ برطانیہ ، کینیڈا ، مڈل ایسٹ امریکہ بھارت اور دنیا کے ہر خطے تک اس کی رسائی ہے۔

ڈاکٹر صغرا صدف کی نظم ’’انکھی راجہ‘‘ دیکھئے۔

اکھاں اندر سجی ہوئی اے

ھُن تیکر اوہدی مسکان

وچھڑ یا اے پر بُھلیاتے نہیں

جیون نگری دا سلطان

اوہنے جین دا ڈھنگ سکھایا

اوہدا ناں اے میری شان

میرا بابل انکھی راجہ

میں اوہدے شملے دا مان

جو وی اوہدے مَن وچ ہے سن

پورے کراں گی میں ارمان

ڈاکٹر فوزیہ صوفی تبسم کی ایک نظم بھی شامل اشاعت ہے۔ وہ پروفیسر صوفی تبسم کی پوتی ہیں۔ خود بھی پروفیسر رہی ہیں۔

میں جب طالب علم کی حیثیت سے گورنمنٹ کالج لاہور پہنچا تو وہ جا چکے تھے مگر ان کی موجودگی کی آسودگی اور اُن کی شخصیت کی خوشبو وہاں موجود تھی۔ وہ پنجابی کے بہت بڑے شاعر تھے۔ پاک بھارت 65 ء کی جنگ میں ان کے گیت اور ترانے آج بھی زباں زدِعام ہیں۔ ان سے بڑا استادِ محترم میں نے نہیں دیکھا۔ اُن کے گھر بہت ادبی محفلیں سجی تھی۔ وہ ہر بڑے چھوٹے کے لیے استاد کے درجے پر فائز تھے۔ نامور شاعرہ کشور ناہید کا بڑا تعلق ان کے ساتھ تھا اور ادبی سرگرمیاں بھی جاری رہتی تھیں۔ ان کے بیٹے صوفی نثار میانوالی گورنمنٹ کالج میں پرنسپل تھے۔ وہاں ہم نے ان کی صحبت سے فائدہ اٹھایا۔ وہاں فوزیہ بھی گئی تھی۔ اُن کی فیملی وہاں رہتی تھی۔ گورنمنٹ کالج میانوالی میں مجھے بھیجا گیا تھا اور صوفی نثار بھی یہی سمجھتے تھے مگر ہم نے انہیں اجنبیت کا احساس وہاں نہیں ہونے دیا۔

وہاں بھی میں نے فوزیہ سے کہا تھا کہ تم اپنا پورا نام لکھا کرو۔ فوزیہ صوفی تبسم ، فوزیہ تبسم تو بہت ہونگی مگر کوئی فوزیہ صوفی تبسم نہیں ہو سکتی۔ آج بھی اس نے میرے مشورے کو نظرانداز کیا ہوا ہے۔ اس کے گھر میں کبھی کبھی بہت ادبی محفلیں ہوتی ہیں اور وہاں میں اُسے فوزیہ صوفی تبسم کہتا ہوں۔ اب تو وہ ڈاکٹر فوزیہ صوفی تبسم ہیں۔ ان کی نظم جو ’’لہراں‘‘ میں شائع ہوئی ہے اس کا عنوان ہے۔

میرا مَن اداس جہیا اے

تیرے باہجوں جی نہ لگے

کوئی رُت نہ چنگی لگے

دل میرا ہن کلم کلا

تینوں چیتے کردا رہندا

میرے سجنا کِتھے ویں توں

دس وے مینوں

میں جھلی مجبور مسافر

میرا مَن اداس جہیا اے

کِتھے ویں توں

دس دے مینوں

میں چھلی دا پاگل ڈھولا

کاں کرلا وے چیتے آوے

تیرا رہنا رل مل بہنا