آج کی بیٹیاں کل کی مائیں ! عمارہ بنت یونس

مغرب نے کچھ ایسے ہم پہ وار کیا ہے ، کہ ہم اس کے وار سے بچنے کیلئے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ کب کیسے وہ اپنی چالیں چل جاتا ہے اور ہمارے ذہنوں کو اپنا غلام بنا لیتا ہے۔ مغرب کی ایک چال کا میں یہاں ذکر کرنا چاہوں گی جس نے ہمارے معاشرے کے نظام کو درہم برہم کردیا ہے ۔ہماری بیٹیوں کو نشانہ بنا کے کس مہارت سے وہ ان کی ذہن سازی کرتا ہے کہ میں اور آپ اگر سوچنے بیٹھیں تو روح کانپ جائے۔

اسے خوف ہے ہماری بیٹیوں سے، کیوں کے وہ جانتا ہے یہ بیٹیاں اگر اپنے اسلاف کی روش پہ چل نکلیں تو یہ حضرت خولہ اور ام عمارہ بن کے میدان میں اتر سکتی ہیں، وہ خوفزدہ ہے کے کہیں یہ بیٹیاں خالد بن ولید اور محمد بن قاسم جیسے مجاھد نہ جن دیں ، کہیں وہ ایسی نسل نہ پروان چڑھادیں جو باطل قوتوں کی راہ میں رکاوٹ بنے ۔ یہ تمام باتیں مغرب کو بے انتہا بےچین رکھتی ہیں کہ اس کی راتوں کی نیندیں حرام ہو جاتیں ہیں اسی لیئے اس نے بہت مہارت سے ہماری بیٹیوں کی ذہن سازی کا منصوبہ بنایا ، میڈیا کے زریعے لڑکیوں کو باہر کی دنیا سے متعارف کروایا، اسکے ذہن میں بٹھایا کے عورت کسی کی غلام نہیں اسکو آزادی کے سبق پڑھا کر گھر کی محفوظ چار دیواری سے باہر قدم نکالنے سکھائے ، اسکو یہ بتایا کے گھر میں رہنا اسکے لیئے ایک داغ سے کم نہیں ، اسکی چادر کو اسکی آزادی کی راہ میں رکاوٹ کا زریعہ بتایا، اسے گھر کے محرم رشتوں سے دور خونخوار بھیڑیوں کے بیچ لا کھڑا کیا ، اور پھر اس نے سب سے اہم کھیل کھیلا اور ٹی وی، ڈراموں اور اشتہارات کے زریعے لڑکیوں کے ذہنوں کو اپنے شکنجے میں کر لیا اور لڑکیوں کی بڑی اکثریت کی زبان پر مندرجہ ذیل جملے آگئے کہ مجھے شادی نہیں کرنی کیوں کے میں قید میں نہیں رہ سکتی ، مجھے کیریر بنانا ہے ، یہ بچے وغیرہ میں نہیں پال سکتی ، میں زمہ داری نہیں اٹھا سکتی کسی کی، میں زندگی کو انجوائے کرنا چاہتی ہوں ۔

یہ بھی پڑھیں:   لڑکیاں قبرستان نہیں جاتیں - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

یہ وہ جملے ہیں جو آئے دن آپ اپنے اطراف کی لڑکیوں سے سنتے رہتے ہیں ۔ دل مغرب کی چالوں کو کامیاب ہوتا دیکھ کے خون کے آنسوں روتا ہے ۔ یہ تو ٹارگٹ تھا اسکا ، سر سے چادر اتروا کے غیر مردوں کی توجہ کا مرکز بنوانا ، شادی کو قید کا نام دلوانا ۔ بے حیائی کو آزادی کہلوانا ۔

وہ بخوبی جانتا ہے کہ یہ بیٹیاں اگر اچھی مائیں بن گئیں تو پوری نسل سنور جائے گی ، دلیر و جانباز مجاھد تیار ہونگے جو اسکے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکاریں گے ۔ اسی لیے اس نے یہ گھنونی سازش رچائی جس میں اسکا بھرپور ساتھ دیا ہمارے میڈیا نے ، کبھی اشتہاروں کے زریعے بیٹیوں کو باپ کی عزت روند کے بھاگنے پر اکسایا تو کبھی ڈراموں میں پردے اور دین کا مزاق بنا دیا ، کبھی چار دیواری میں رہنے کو داغ کہہ ڈالا تو کبھی فحاشی عریانی کو آرٹ کا نام دے دیا ۔ اس موضوع پر قلم اٹھانا نہایت ضروری ہوگیا تھا کیوں کے یہ ہماری آئیندہ آنے والی نسل کا سوال ہے ، انہیں بہترین مائیں دینا ہمارا کام ہے اور اسکے لیئے ہمیں مغرب کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانا ہے ، ہمیں اپنی بیٹیوں کو یہ بات سکھانی ہے کہ اس نسل کو اب انہیں ہی پروان چڑھانا ہے ، انہیں باحیا بیٹی ، باوفا بیوی اور باشعور ماں بننا ہے، انہیں میڈیا کے چنگل سے آزاد کروانا ہے۔ کیوں کے یہ لڑکیاں آج کی بیٹیاں اور کل کی مائیں ہیں ۔
انہی سے گلستاں میں آنی ہے بہار ،
انہی سے جنیں گے مجاھد بے شمار!!