موت: دائمی زندگی کی ابتداء - ابن بشیر

زندگی کب اور کیسے ختم ہوگی کوئی نہیں جانتا۔ انسان دنیا میں اسی لیے زندگی بسر کر رہا ہے کیونکہ اس کو مرنا ہے۔ انسان کی عمر چاہیے ٥٠ سال ہو، ٦٠ سال ہو، ١٠٠ سال ہو یا زندگی کے کچھ لمحات میسر ہوں، آخر اسے یہ دنیا رخصت ہونا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر ایک نفس کو دنیا سے رخصت ہونا ہے اس سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ یہاں تک کہ فرشتوں کی روح بھی قبض کی جائے گی اور آخر پر حضرت عزرائیلؑ کو بھی موت کا مزا چھکنا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے لیے موت کا وقت مقرر کیا ہے موت سے نہ کوئی بھاگ سکتا ہے اور نہ کوئی بچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔۔ "کہہ دو جس موت سے تم بھاگ رہے ہو وہ تمہیں لاحق ہو کر رہے گی پھر تم حاضر و غائب کو جاننے والے کے پاس لوٹائے جاؤ گے۔پس وہ تم کو خبر کرے گا تمہارے اعمال کی" (سورہ الجمعہ۔آیت نمر ٠٨).

سچ ہے کہ موت سے بھاگا اور موت میں گرا ۔کہاوت ہے کہ جو بچنے والا ہوتا ہے اسے سمندر میں بھی راستہ مل جاتا ہے اور جب قضا آجاۓ تو کوئی بھی چیز موت کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ بات اپنے دل و دماغ میں پیوست کرلو کہ موت کبھی بھی آسکتی ہے ۔موت کا کوئی وقت نہیں۔موت بول کر نہیں آتی۔ موت کے آنے کی کوئی نشانی نہیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ پہلے ہم بوڈھے ہونگیں پھر بیمار اور پھر موت آجاۓ گی، نہیں ہر گز نہیں! موت بچپن میں بھی آسکتی ہے ، موت جوانی میں بھی آسکتی ہے اور موت بوڈھاپے میں بھی آسکتی ہے ۔موت اس وقت بھی آسکتی ہے جب ہم صحتیاب ہوں۔ موت خلوت میں بھی آسکتی ہے اور دن کے اجالے میں بھی۔ صبح ہو یا شام ہر وقت ہم موت کی طرف گامزن ہے۔

الغرض موت کبھی بھی کسی بھی وقت آسکتی ہے اور ہمیں اس موت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ "شیخ علی طنطاوی نے اپنے سماعات و مشاہدات میں لکھا ہے کہ شام کے ایک آدمی کے پاس لاری تھی ۔اس کے ساتھ ایک آدمی گاڑی پر سوار ہوا۔ اس کے اوپری حصہ میں ایمبولینس تھی جس میں ضرورت کی لیے ایک بادبان بھی تھا ۔ بارش ہوگئی پانی بہا یہ سوار کھڑاہوا اور ایمبولینس میں داخل ہوگیا اور اپنے کو بادبان سے ڈھک لیا ۔اتنے میں ایک اور سوار ہوا جو ایمبولینس کی جانب چلا گیا اسے معلوم نہ تھا کہ پہلے سے بھی کوئی آدمی موجود ہے ۔ بارش پڑتی رہی، اچانک پہلے والے نے یہ دیکھنے کے لیے کہ بارش تھمی ہا نہیں اپنا ہاتھ باہر نکالا ؟ دوسرا بے چارہ اس کے چمکتے ہاتھ کو دیکھ کر سمجھا کہ مردہ زندہ ہوگیا ، اس پر گھبراہٹ اور خوف طاری ہوگیا ۔ اپنے آپ کو بھول گیا اور شدید گھبراہٹ میں گاڑی سے نیچے گر پڑا جو اس کے بھیجہ کو پاش پاش کر گئی ۔ اس بےچارے کی موت اس طریقہ پر لکھی تھی وہ آکر رہی ۔" صبح ہوئی تو شام کا انتظار نہ کریں۔ اور شام ہوئی تو صبح کا انتظار نہ کریں ۔

یہ بھی پڑھیں:   دراڑ - حنا نرجس

بس آج اور ابھی پر نظر رکھیں نہ کل پر جو اچھا برا گزر چکا اور نہ آیندہ پر جو ابھی آیا ہی نہیں ۔ اپنے آپ کو اس نظریہ کا عادی بنایں کہ "میرا صرف آج ہے، میں بس آج ہی زندہ رہوں گا ، آج میری موت کا دن ہے" یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے پھر آپ موت کے لیے سامان تیار کرو گے ۔ پھر اپنے آپ کو ہر لغزش سے دور رکھو گے، نیک نیک کام انجام دو گے، نماز پڑھو گے، قرآن کی تلاوت کرو گے، ماں پاب کی خدمت کرو گے، ہمسائیوں کا حق ادا کرو گے، صدقہ کرو گے، اللہ کا خوف دل میں رکھو گے ۔ الغرض آپ موت کو کثرت سے یاد کرو گے اور اپنی اصلی زندگی کے لیے بہترین زادراہ تیار کرو گے۔جس سے آپ کی اصل زندگی کی کی ابتداء ہوگی ۔ اور اگر آپ اپنی موت کو بھول گے اس بات کو ذہن سے نکالا کہ مجھ کو کبھی موت کا مزا چکنا ہے تو ظاہر سی بات ہے آپ کے دل سے اللہ کا خوف ختم ہوگا آپ کے دل کو زنگ لگ جاۓ گا اور ان سب کاموں سے دور رہو گے جس سے ہماری اصل زندگی (یعنی آخرت) اچھی بنے گی۔ اور پھر جب موت آجاۓ گی پھر اپنے آپ پر پچھتاوا کرو گے کہ میں نے اپنی قیمتی زندگی کہاں گزاری ۔

اس وقت کو غنیمت جانو کیونکہ اس وقت آپ حیات ہو۔جب موت آپ کے دروازے پر ہوگی تو پھر آپ اللہ سے وقت کی دخواست مانگو گے مگر وقت نہیں ملے گا، آپ توبہ کرو کے مگر اس کی کنجائش نہ ہوگی ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ''دنیا میں اس طرح رہو، جیسے تم ایک (راہ چلتے) مسافر ہو یا کسی منزل کے راہی‘‘ ۔ حضرت عبداللہ بن عمر کہا کرتے تھے: ''جب شام ہو جائے تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح ہو جائے تو شام کا انتظار نہ کرو اور بیماری سے پہلے صحت کو غنیمت سمجھو اور موت سے پہلے زندگی کو غنیمت سمجھو‘‘ (بخاری:6414) “اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انسان کو جو لمحات میسر آئے ہیں انہی لمحات میں وہ موت کے بعد کے لیے زادراہ تیار کرتا ہے۔اور جب موت لاحق ہوجاتی ہےتو پھر یہ لمحات ختم ہوجاتے ہیں اور کوئی نیک عمل نہیں کیا جاسکتا۔ایک انسان جب ان لمحات کو ضائع کرتا ہے تو موت کے وقت وہ نادم و پشیمان ہو جاتا ہےاور مزید مہلت کی درخواست کرتا ہے”۔(مجموعہ احادیث: پانچ باتیں ، مجاہد شبیر احمد فلاحی صاحب).

یہ بھی پڑھیں:   زندگی کو خوشگوار بنائیں - مریم صدیقی

ہم نے کتابوں سے پڑھا ہے کہ دنیا میں جتنے بھی طاقتور لوگ آئے ہر ایک نے موت کا مزا چکھ لیا۔ دوسروں کو موت کی دھمکی دینے والے خود موت کی آغوش میں چلے گئے۔ بڑی بڑی گاڑیوں میں سفر کرنے والوں نے بھی موت کا مزا چکھا، اونچے اونچے مکانات میں رہنے والوں نے بھی موت کا مزا چکھا، امیر ہو یا غریب، کمزور ہو یا طاقتور ، چھوٹا ہویا بڑا ، کافر ہو یا مسلمان ہر ایک کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے، ہر ایک نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے۔ (القرآن)

اب ذرا اپنے آپ پر نظر ڈالیں کہ ہم نے موت کے لیے کیا سامان تیار کیا ہے۔ دنیاوی زندگی گزارنے کے لیے ہم نے رات دن کو ایک کیا، بڑے بڑے مکانات بنائے، اعلٰی تعلیم حاصل کی، الغرض اپنی دنیاوی زندگی کو آرام دینے کے لیے ہم نے بہت محنت و مشقت کی جو کہ ایک ضرورت بھی ہے مگر یہ ہم اس زندگی کے لیے کر رہے ہیں جو کہ عارضی ہے۔اب یہ دیکھے کہ اس عارضی زندگی میں ہم نے ابدی زندگی(موت کے بعد کی زندگی) کے لیے کیا زاد راہ تیار کیا ہے۔کیا ہم نے اتنا سامان تیار کیا ہے جو ہماری قبر کو روشنی دے؟ کیا اتنا سامان تیار کیا ہے جو ہمیں جنت کی طرف لے جاۓ؟ کیا اتنا سامان تیار کیا ہے جس سے اللہ ہم سے راضی ہے؟ اپنے آپ کاحتساب کریں اور دیکھیں ہم کہاں ہیں۔ اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے بتاۓ ہوے راستے پر زندگی گزاریں۔اسی میں ہماری فلاح ہے۔۔

ٹیگز