عمران خان کی بنگلہ دیشی سفیر سے ملاقات کا احوال - صہیب جمال

اسلام آباد میں رات ایک بجے بنگلہ دیش کے سفارخانے میں غیر معمولی آمدورفت دیکھی گئی۔ مرکزی دروازہ کھلا اور وزیراعظم پاکستان اترے جن کا بنگلہ دیش کے سفیر نے استقبال کیا۔ چاروں طرف سیکیورٹی تھی ، موبائل فونز کو وقتی طور پر ناکارہ بنانے کے لیے جیمر لگا دیے گئے تھے، چاروں طرف کیمرہ ڈیڈیکٹر ڈیوائس لگائی جا چکی تھیں۔
وزیراعظم عمران خان کی اور بنگلہ دیش کے سفیر کی ملاقات خفیہ رکھنے کی مکمل کوشش کی گئی۔ شاید پاکستان اور بنگلہ دیش کو یکساں طور پر انڈیا سے خطرہ تھا یا دونوں ملکوں پر دہشت گردی کی کسی کاروائی کا خدشہ تھا، کیونکہ معاشی و سماجی میٹنگز اتنی خفیہ نہیں ہوتی ہیں۔

خان صاحب نے سفارتخانہ کے عملے کے ساتھ سیلفی بنوائی اور سفیر سے ون اون ون ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ دونوں کے کمرے میں جانے سے پہلے ہر طرح کے خفیہ کیمرے اور خفیہ مائیک سرچ کیے گئے، انٹیلیجنس کی کلیئرنس کے بعد دونوں آمنے سامنے بیٹھے۔ خان نے اپنی جادوئی مسکراہٹ کے ساتھ سفیر کو کہا "مجھے ہر حالت میں سیمی فائنل کوالیفائی کرنا ہے۔" سفیر تو مسکراہٹ پر ویسے ہی آدھا بک چکا تھا، خان کے اس پرامید اور پر عزم جملے نے تو اس کو نہ کرنے کی پوزیشن میں رہنے ہی نہ دیا۔ سفیر نے تھوڑا توقف کیا اور لمبی سانس لیتے ہوئے کہا "ام منع کیشے کور سکتا ہے؟" اس نے اس وقت ہی ہاٹ لائن پر بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کو لائن پر لیا اور خان کی خواہش و عزم کا اظہار کیا، فون رکھا اور خان کو گہری سانس لیتے ہوئے کہا "آپ اش کے بودلے دیں گے کیا ؟ میڈم نے فوشا ہے۔" خان نے اپنے مخصوص چھوٹے سے قہقہے کے ساتھ کہا "سب کچھ دوں گا بس دو سال اور دو۔" سفیر نے کہا "اوکے"

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر بھی قصہ پارینہ بن جائے گا - حبیب الرحمن

اسی وقت لندن میں موجود بنگلہ دیش کی ٹیم مینجمنٹ کو کال پر لیا گیا اور ان کو ہدایت دی گئی کہ انہوں نے کیا کرنا ہے۔ معاملات بغیر کسی دستاویزات کے طے پا گئے، خان نے کہا "میری زبان کافی ہے کیونکہ میں جو ایک دفعہ کہہ دوں میں اس سے نہیں پلٹتا۔" بنگلہ دیش کے سفیر نے خان کو مسکرا کر دیکھا اور کہا "ہمیں آپ پور یوقین ہے۔" خان نے ہاتھ ملایا اور سفیر کے ساتھ باہر نکل آیا۔

باہر نکلتے ہی گاڑی میں بیٹھ کر سرفراز احمد کو کال کی اور اس کو کہا کہ سیمی فائنل تک میں پہنچا رہا ہوں، فائنل میرے ذمہ نہیں ہے، تم سب کو یہ ہلکی ہلکی بالز کریں گے، بس تم لوگ اٹھا اٹھا کر باہر پھینکنا اور یہ چار سے پانچ اوورز میں آل آؤٹ ہو جائیں گے۔ وزیراعظم کی فراٹے بھرتی گاڑی پی ایم ہاؤس میں داخل ہوئی جہاں بےچین کابینہ بیٹھی تھی۔ اس کابینہ کو خان نے آنکھ مارتے ہوئے کہا کہ ہماری ڈیل ہوگئی ہے، ان شاءاللہ ورلڈ کپ ہمارا ہے۔

مجھے بالکل یقین نہ تھا۔ میں مراد سعید کو کونے میں لے گیا اور شک کا اظہار کیا، مراد سعید نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا "قسم لے لو، خان کا یہ وعدہ دوسو ارب ڈالر جیسا نہیں ہے، بالکل سچ ہے، خان خریداری اچھی کرتا ہے۔" مراد سعید کی میں نے پپی لی، اس نے مجھے باہر رخصت کیا، میں بہت مطمئن ہوکر جہاز میں بیٹھا، مجھے واپس کراچی آنا تھا کیونکہ مجھے میچ صرف گھر میں دیکھنے میں مزہ آتا ہے۔

اس خبر کے بعد میرے گردے سے نیچے مروڑ سا اٹھنے لگا کہ کس کو بتاؤں، مجھے ایک ائیر ہوسٹس اس قابل لگی کہ میں اس کے سامنے اپنا پیٹ ہلکا کردوں، کاک پٹ سے منسلک میں اس کے سروس پورشن میں آگیا، اس نے مجھے خوش آمدید کہا اور آنے کی وجہ پوچھی، اس کو میں نے بغیر باطل خیالات کے جلدی جلدی سارا معاملہ بیان کردیا، وہ خوشی سے اچھلی، میرا چشمہ گر گیا اور سب کو پتہ ہے جب میرا چشمہ گر جائے تو مجھے کچھ نظر نہیں آتا ہے۔ وہ فرطِ جذبات میں میرے گلے لگنے والی تھی کہ کاک پٹ کا دروازہ کھلا اور اڑتا ہوا شوں کرتا بیلن میرے سر پر لگا اور ایک آواز آئی، "بھول گئے شاید تم، اس پی آئی اے کے جہاز کی پائلٹ تمھاری بیوی ہے۔"

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر، مصالحت نہیں عمران خان دھماکہ کریں - محمد عبداللہ گل

اب پتہ نہیں کب ہوش آئے، مجھے یاد سے اسکور انباکس کرتے رہیے گا تاکہ آنکھ کھلتے ہی مجھے اپ ڈیٹ ملے۔