موسم گرما کی تعطیلات اور والدین - محمد سلیم جباری

تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کے باعث ہمارے بچے ہمہ وقت گھروں میں موجود ہیں۔ چھٹیوں میں نظام الاوقات کی ترتیب نہ دینے والے والدین بچوں کی شرارتوں اور فرصت سے نالاں و خفا یوں اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ’’تم سکولوں میں ہی قابو رہتے ہو‘‘۔ اس کے برعکس سمجھدار والدین فرصت کے ان دنوں کو غنیمت جانتے ہوئے انہیں قیمتی بنانے میں کوشاں ہیں۔ہمارے محلے میں ایک بزرگ دکاندار ہیں، وہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب بچوں کو سکولوں سے چھٹیاں ہوں۔ چھٹیاں ہوتے ہی وہ بچوں کو دکان میں ہی بٹھاکر سکول کا کام کرواتے ہیں، دعائیں یاد کرواتے اور اچھی اچھی کہانیاں سناتے ہیں۔

یقینا بچے کی اولین درسگاہ اس کا گھر اور ماں کی گود ہوتی ہے جہاں سے وہ تعلیم، تربیت، زندگی گزارنے کے گر، رشتوں ناطوں سے نبھاؤ اور بہت کچھ سیکھتا ہے مگر افسوس کہ ہم نے یہ ساری ذمہ داریاں بھی سکول اور اساتذہ پر چھوڑ رکھی ہیں۔ سکول یا کالج میں ایک کلاس کے بچوں کی تعداد پچاس ساٹھ سے کم نہیں ہوتی، خود سوچئے ایک استاد اتنے بچوں پر خصوصی توجہ کیونکر دے سکتا ہے۔ بچے کے صرف 5گھنٹے سکول یا کالج میں جبکہ 19گھنٹے گھر میں گزرتے ہیں۔ ان میں سے 8گھنٹے نیند کے نکال لیے جائیں تو بقیہ 11 گھنٹے وہ لمبا دورانیہ ہے جو بچے گھروں میں گزارتے ہیں ۔چھٹیوں میں فرصت کا یہ دورانیہ 17/16گھنٹوں تک جاپہنچتا ہے جسے عدم دلچسپی کے باعث اکثر والدین ضائع کردیتے ہیں ۔ ان قیمتی لمحات کو مفید بنانے کے لیے چند تجاویز پیش خدمت ہیں۔

٭ جو معمولات والدین کے ہوتے ہیں بچے بھی عموماً انہی کو اختیار کرتے ہیں لہٰذا والدین کو چاہیے کہ خود اور بچوں کو جلدی سونے اور صبح جلدی بیدار ہونے کا عادی بنائیں تاکہ نمازفجر اور تلاوت قرآن کا اہتمام ہوسکے۔ باپ کو چاہیے کہ نماز باجماعت کے لیے مسجد جاتے وقت بچوں کو بھی ساتھ لے کر جائے۔ بچپن کی یہ عادت ان شاء اللہ زندگی بھر کام آئے گی۔

٭ باجماعت نماز اور جمعہ کے ساتھ بچوں کو نماز کا ترجمہ اور روزمرہ کی دعائیں سکھائیں اور پڑھنے کا عادی بنائیں…نماز اور تلاوت کے بعد بچوں کو ساتھ لے کر کچھ دیر ہلکی ورزش اور چہل قدمی کریں۔ اس سے آپ کی صحت اور بچوں کی نشوونما پر نہایت اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ بچے دن بھر چاک وچوبند اور ہشاش بشاش رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہمارے دور کا اسکول - محمدوجاہت

٭ (Vacation Work) چھٹیوں کے کام کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں میں ان کی دلچسپی پیدا کریں۔ بچوں کی سطح کی اچھی کتابیں پڑھنے کو دیں۔ پھر اس کتاب کے بارے میں ان کی رائے معلوم کریں،چھوٹے چھوٹے سوالات کریں۔ اس سے ان کی معلومات میں اضافہ بھی ہوگا، ذہنی سطح بلند ہوگی اور مطالعے کا ذوق بھی پروان چڑھے گا۔

٭ اگر ممکن ہوتو سیر وتفریح کے لیے لے کر جائیں۔ عجائبات قدرت سے آگاہی دیتے ہوئے دنیا وآخرت کی حقیقت سمجھائیں اور غوروفکر کی عادت ڈالیں، اس سے بچوں کی نفسیات اور سوچ و فکر میں نکھار پیدا ہوگا۔

٭ بچوں کو اپنے کاروبار، مشکلات، ڈیوٹی اور ملازمت کے متعلق بھی کچھ نہ کچھ آگاہ کریں۔ اس سے انہیں اپنے مستقبل کی راہیں استوار کرنے میں مدد ملے گی، روزگار اور روپے پیسے کی حیثیت اور اہمیت سمجھ آئے گی۔

٭ بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دینے کی کوشش کریں، خاص کر مائیں تاکہ آپ کوبچوں کی عادات اور ترجیحات کا پتہ چل سکے اور آپ ان کے ذہنی میلانات کے مطابق ان کی عملی فیلڈ کا انتخاب کرنے میں رہنمائی کرسکیں ورنہ آپ کے اوربچوں کے درمیان ذہنی دوری بڑھتی چلے جائے گی۔

٭ پڑھائی کے دنوں میں مصروفیت کے باعث بچیاں عموماً گھر کے کام کاج میں شریک نہیں ہوتیں۔ ماؤں کو چاہیے کہ ان دنوں کو غنیمت جانتے ہوئے انہیں صفائی ستھرائی، کھانا پکانا اور دیگر امور خانہ داری سکھائیں۔ جو مائیں اپنی بچیوں کو لاڈ پیار میں رکھتی ہیں انہیں پھر اگلے گھروں میں جاکر بھگتنا پڑتا ہے۔

٭ وقت نکال کر بچوں کو رشتہ داروں سے ملوانے کے لیے لے کر جائیں، اس سے انہیں رشتوں، ناطوں کی پہچان اور اہمیت کا احساس ہوگا۔ ہمارے ہاں عموماً یہ ہوتا ہے کہ چھٹیاں گزارنے کے لیے بچوں کو رشتہ داروں کے ہاں بھیج دیا جاتا ہے، مگر اس حوالے سے ایک تلخ حقیقت کا ادراک بھی ضروری ہے کہ بچوں کو ننھیال یا دیگر قریبی رشتہ داروں کے ہاں چھٹیاں گزارنے کے لیے ہفتہ ،پندرہ دن یا مہینہ چھوڑ کر نہ آئیں۔ یاد رہے! جہاں آپ کے بچے چھٹیاں گزارنے گئے ہیں وہاں بھی انہی کی عمر کے بچے موجود ہوتے ہیں، کھیل کود کے دوران وہاںانہیں تنہائی میسر آتی ہے جس کے نتیجے میں بہت سی خرابیاں ، بگاڑ اور برائیاں جنم لیتی ہیں لہٰذا بچوں کو رشتہ داروں سے ملوانے کے لیے ضرور لے کر جائیں مگر وہاں چھوڑ کر نہ آئیں، ساتھ لے کر جائیں اور ساتھ ہی واپس لے آئیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہمارے دور کا اسکول - محمدوجاہت

٭ بارہ چودہ برس کی عمر میں بچوں میں جینیاتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، پاکی پلیدی کے حوالے سے انہیں راہنمائی کی اشد ضرورت ہوتی ہے، جس کے لیے ہم عموماً بچوں کے دوستوں کا سہارا لیتے ہیں کہ اسے یہ یہ بتانا اور سمجھانا۔ دوستوں کی غلط اورنامکمل راہنمائی کے نتیجے میں بچے اکثر غلط طرز عمل اپنا لیتے ہیں جس کا خمیازہ ہمیں ہی بھگتنا پڑتا ہے، آج کے دور میں بچوں کو ان اخلاقیات کی رہنمائی نہایت آسان ہے، آپ انھیں جو بتانا یا سمجھانا چاہتے ہیں، ایک کاغذ پر لکھ کر یا موبائل میں ریکار ڈ کرکے ان کے حوالے کریں، اور خود ایک طرف ہو جائیں تاکہ وہ تسلی سے پڑھ یا سن سکیں، یوں انہیں درست راہنمائی بھی میسر آئے گی اور باپ بیٹے اور ماں بیٹی کے درمیان شرم وحیا کا حجاب بھی برقرار رہے گا۔

٭ بچوں کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے خود کو بچپن میں لے جائیں اور پھر سوچیں کہ اس عمر میں ہم اپنے والدین سے کیسی توقعات وابستہ کیا کرتے تھے، کن رویوں کا اظہار چاہتے تھے، آنکھیں بند کرکے بچپن میں کھو جائیں اورکچھ دیر غورو فکر کریں، یوں بچوں کو سمجھنے اور سمجھانے میں بڑی سہولت رہے گی۔

یادرکھیں! آپ اپنے بچوں کی دنیاوی ضروریات تو بخوبی پوری کر رہے ہیں، اگر ان کی اخلاقی اور دینی ضروریات پر توجہ نہ دی، ان کی تربیت کی طرف دھیان نہ دیا تو اللہ نہ کرے کل یہ بچے کسی غلط سوسائٹی کا شکار ہوکر آپ کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اپنی دنیاو آخرت پرسکون بنانے کے لیے آج انہیں وقت دیں، چھٹیوں کے ان دنوں کو قیمتی جانیں ان شاء اللہ کل یہ آپ کے کام آئے گا۔