کالج یونیورسٹی طالبات کو بھٹکنے سے کیسے بچائیں - عاصمہ شفیع

اللہ تعالیٰ نے مخلوقات میں سے حضرت انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کیا۔ انسان کو عقل سلیم سے نوازنے کے بعد اس کے سینے کے اندر ’’دل‘‘ نام کی ایک ایسی چیز عطا کی جس کے دھڑکنے سے نہ صرف وہ زندہ جاوید ہستی کی صورت میں کارِ حیات انجام دیتا پھرتاہے بلکہ اس دل کو جذبات سے مزّین کرکے ایک انسان کو دوسرے انسان کے لیے کار آمد بنانے کے ساتھ ساتھ اُن کے درمیان آپسی تعلقات کی راہیں بھی پیدا کی ہیں۔ یہ انسانی شعور اور جذبات ہی ہیں جو اُسے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے، ایک دوسرے کے کام آنے نیز ایک دوسرے سے وابستہ ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اگر فہم و شعور اور قلبی جذبات مٹی کے اس مجسمے کے اندر نہ ہوتے تو انسانوں اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں رہتا، پھر انسان اشرف المخلوقات نہیں کہلاتا۔

رب کائنات کی حکمت کا یہ حسین پہلو ہے کہ اس نے انسانوں میں بھی افزائش نسل کی خاطر مرد اور عورت کو اپنے الگ الگ حدود اور دائرہ کار کے ساتھ پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فطری طور پرمرد کے مقابلے میں خاتون کے دل میں رحم کی سطح کچھ زیادہ ہی رکھی ہے۔ اُس کے دل میں جذبات ، احساسات اور چیزوں کو پرکھنے اور اُن پر فوراً جذباتی ردعمل دکھانے کے لیے مرد کی نسبت کچھ زیادہ ہی لچک پیدا کررکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناانصافیوں، محرومیوں اور زیادتیوں کو سہنے کی طاقت اگر چہ اُس میں زیادہ ہے لیکن ہر ناانصافی اور زیادتی کو دیکھنے کے بعد جذباتی انداز میں ردعمل دکھانے میں بھی وہ کچھ زیادہ ہی جلد باز ثابت ہوتی ہے۔ بنت حوّاکے سینے میں اگرچہ آج یعنی اکیسویں صدی میں بھی وہی دل دھڑکتا ہے جس میں رحم اور الفت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے لیکن مادیت، خود عرضی، دیکھا دیکھی اور اپنے ہی دھن میں سوار حرص و طمع کے مہیب پردوں نے اُن کے قلب کی اصلیت کو چھپاکر رکھا ہوا ہے، حالانکہ اگر سماجی سطح پر خواتین اپنی رحمدلی اور فطری جذباتیت کو پہچان کر اس صفت کا مثبت استعمال کرتی تو ان گنت مسائل خود بخود حل ہوجاتے۔سماج میں پچاس فیصد مسائل کا تعلق حوّا کی بیٹی کے اِسی دل سے تعلق رکھتے ہیں، وہ اپنی ان ازلی صفات سے گھر، اہل و عیال ، والدین ، رشتہ داروں اور سماج کے دیگراہم اور بنیادی کڑیوں کو مضبوطی کے ساتھ نہ صرف جوڑ سکتی ہیں بلکہ اِس سب میں محبت اور اخلاص کا رنگ بھرکر سماجی رابطوں کو قرآنی تعلیمات کی بنیاد پر استوار کرنے میں اپنا داعیانہ کردار بھی ادا کرسکتی ہیں۔

یہاں ان سطور میں، میں جس معاملے میں خواتین بالخصوص طالبات کے کردارکا ذکر کرنا چاہتی ہوں، وہ کتابی کہانیوں سے ماخوذ کوئی افسانوی کردار نہیں ہے بلکہ ہائر سکینڈری سطح سے لے کر کالج اور پھر یونیورسٹی میں پڑھائی کے دوران میرے عینی مشاہدے کا ایک ایسا سبق ہے جس نے مجھے ہمیشہ بے چینی اور اضطراب میں مبتلا کیے رکھا۔ اور جس پر کافی سوچنے اور غور کرنے کے بعد جو کچھ میں نے اخذ کیا، وہ اپنی عزیز بہنوں کے سامنے اس امید کے ساتھ رکھنے کی جسارت کرتی ہوں کہ اگر کوئی ایک ہی رحم دل بہن میری بات سے متاثر ہوکر عملی طور اپنا مثبت کردار ادا کرے تو میں اِسے اپنے نامہ ٔ اعمال کا روشن ترین پہلو سمجھ لوں گی۔

یہ بھی پڑھیں:   فیمنزم کا آشیاں اور مسلم خواتین - ڈاکٹر رضوان اسد خان

ہائر اسکینڈری سے لے کر یونیورسٹی تک میں نے اپنے ساتھ اور اپنے آس پاس بہت ساری ایسی قابل، ذہن اور صلاحیتوں سے مالا مال بہنوں کو دیکھا ہے جو غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں، اُن کی قابلیت، ذہانت، محنت اور لگن پر ہر کوئی داد دیے بغیر نہیں رہتا لیکن یہی لڑکیاں اکثر و بیشتر اپنے والدین کی پتلی مالی حالت کی وجہ سے نہ صرف ہر وقت احساس کمتری کا شکار رہتی ہیں بلکہ بعض اوقات تعلیم کو ہی خیرباد کہہ کر تمام تر صلاحیتوں کے باوجود ہمت ہار بیٹھتی ہیں۔ اِن معصوم بچیوں کی رحمدلی دلی اُنہیں یہ گوارا ہی نہیں کرنے دیتی کہ وہ اپنے غریب والدین پر بوجھ بن جائیں۔ ایسا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ سماج میں موجود بیمار ذہنیت اور شیطانی خصائل کے حاملین لوگ ایسی لڑکیوں کی بے بسی اور غربت کا ناجائز فائدہ اُٹھانے کی تاک میں لگے رہتے ہیں۔اس طرح اُمت کی ان بیٹیوں کے تمام خواب چکنا چور ہوجاتے ہیں، اُن کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے، احساس کمتری کی بیماری مستقل طور اُن کی پوری زندگی کو اپنی آغوش میں لیتی ہے اور یوں یہ نہ چاہتے ہوئے بھی گھٹن اور اذیت کے دن گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔غربت اور مجبوری کے مہیب سائیے زندگی کے ہر موڑ پر اِن کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، یہ نہ اُنہیں اچھی تعلیم حاصل کرنے دیتے ہیں اور نہ اُن کا اچھی جگہ رشتہ طے ہونے کی کوئی اُمید باقی رہتی ہے۔ ناامیدی اور مایوسی کو پھر یہ اپنی زندگی میں سانسوں کی طرح شامل کرلیتی ہیں اور یوں اِن کی پوری زندگی وبال بن جاتی ہے۔

سماجی سطح پر اُمت کے ذی حس اور باشعور لوگوں کو اس طرح کے مسائل پر اگر چہ توجہ دینے کی بےحد ضرورت ہے تاہم یہاں میں اُن اسکول اور کالج جانے والی ہزاروں لڑکیوں سے مخاطب ہونے کی گستاخی کرنا چاہتی ہوں جو اچھے اور کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں کہ وہ اپنے سینوں میں دھڑکنے والے دلوں کو ٹٹول کر رحمت کی اپنی فطری خصلت کو پہچانیں۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ امیر اور کھاتے پیتے گھرانوں کی لڑکیاں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنی فرینڈ لسٹ میں کم از کم ایک ایک ایسی سہیلی کا ڈھونڈ ڈھونڈ کر انتخاب کریں جو غریب اور مجبور گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں، پھر دوران تعلیم اپنے والدین کو اعتماد میں لے یا کم از کم اپنے جیب خرچے میں بچت کرکے وقت وقت پر اُنہیں تحائف کی صورت میں ضرورت کی چیزیں فراہم کریں، اُن کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنا دل کھولیں، اُن کی دیگر ضروریات کو احسن طریقے سے اور نہایت ہی حکمت کے ساتھ پورا کرکے نہ صرف اللہ کی رضا حاصل کرسکتی ہیں بلکہ کسی باصلاحیت لیکن مجبور لڑکی کی مدد کرکے اُن کی زندگی کو بھی صحیح ڈگر پر لگانے میں اپنا رول ادا کریں۔ اس طرح سے جو سکون اُنہیں حاصل ہوگا، دنیا کی کسی اور چیز میں اُن کے لیے شاید ہی ایسا ممکن ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں:   تعلیم کی ضرورت اور اہمیت - محمد مبین جوئیہ

آج کے دور میں اُمت کی بیٹیوں کو مختلف ’’ازموں‘‘ اور مختلف نعروں کے ذریعے سے لبھانے اور بھٹکانے کی ہزار ہا کوششیں ہورہی ہیں۔ ہماری تعلیم یافتہ بہنوں تک رسائی حاصل کرکے اُنہیں مسادات مردو زن کے دروس دیے جاتے ہیں، اُن سے کہا جارہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مردوں کی’’غلامی‘‘ سے آزاد کرکے اپنی زندگی اپنی مرضی سے جیئں، اُن کے معصوم ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جاتی ہے کہ اسلام اور دینی تعلیمات نے اُن کے گلے میں’’غلامی‘‘ کا ’’طوق‘‘ پہنایا ہے۔ لیکن کوئی بھی لبرل اور کوئی بھی نام نہاد فیمنسٹ اُن کے اصل مسائل کی جانب دھیان دینا گوارا نہیں کرتا ہے۔ بلکہ جدید جاہلیت کے یہ نعرے ہی اصل میں بنت حوّا کی کسمپرسی کے لیے ذمہ دار ہیں۔ یہ افکار اسلام کی بیٹیوں کو اپنے منصب اور مقام سے گرا کراُن کے استحصال کے لیے راہیں کھولنا چاہتے ہیں۔ اس لیے اسلام کی بیٹیوں بالخصوص تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طالبات کو اپنا مقام پہچان کر نہ صرف اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے کمربستہ ہونا چاہیے بلکہ اُنہیں اپنے سینوں کے اندر دھڑکنے والے دل کی رحمتوں کا فیض بھی اپنے سماج بالخصوص دوسرے طالبات تک پہنچانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اگر اُمت کی بیٹیاں ایک دوسرے کی مدد کرنے پر ذہنی اور فکری طور تیار ہوجائیں گی تو سماج میں نہ بیٹیاں والدین پر بوجھ بن جائیں گی نہ ہی بیٹیاں اعلیٰ تعلیم سے محروم رہیں گی۔ نہ بنت حوّا استحصالی عناصر کی بھینٹ چڑھیں گی اور نہ ہی کسی غریب باپ کی بیٹی کے خواب اور ارمان اُدھورے رہ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا مقام پہنچانے کی توفیق عطا کرے۔ آمین۔