اسقاط حمل کا بڑھتا ہوا خطرناک رجحان - ڈاکٹر رضوان اسد خان

کنواری لڑکیوں کا تو اب کیا کہنا، شادی شدہ جوڑوں میں بھی "ناپسندیدہ" یا غیر ارادی حمل کو ساقط کروانے کا رجحان تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ فیمن ازم کی تحریک کا ایک بنیادی جزو عورت کے لیے اسقاط حمل کا حق چھین کر لینا بھی ہے. "میرا جسم، میری مرضی" ایجنڈے کا یہ نہایت بنیادی نکتہ ہے۔ قطع نظر اس سے کہ معاملہ محض عورت کے اپنے جسم کا نہیں بلکہ بچے کے جسم کا ہے، جسے تباہ کرنے اور قتل کرنے کا اسے عقلی طور پر بھی کوئی حق نہیں پہنچتا۔

الحمدللہ، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں (فی الحال) یہ قانوناً جرم ہے۔ یعنی بغیر کسی ٹھوس طبی وجہ کے، حمل ضائع کروانا قتل ہے اور اس پر حد و تعذیر لاگو ہوتی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے بہت سی این جی اوز منظم طریقے اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ اس قبیح فعل کو معاشرے میں عام کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ڈاکٹرز کے لیے باقاعدہ تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں انہیں ابارشن کے طریقے سکھائے جاتے ہیں اور تربیت دی جاتی ہے۔ اگر کوئی پوچھے تو بہانہ یہ بنایا جاتا ہے کہ ہم تو طبی ابارشنز سکھا رہے ہیں تاکہ خواتین غیر تربیت یافتہ عملے سے یہ کام نہ کروائیں اور ان کی جان خطرے میں نہ پڑے۔ جبکہ حقیقی مقصد معاشرے میں زنا کو محفوظ تر بنانا ہے۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ بہت سے گائناکالوجسٹس نام نہاد "انسانیت" (ہیومن ازم کا فتنہ) یہ کام کر رہے ہیں کہ کہیں غیر تربیت یافتہ لوگوں سے "حادثاتی" حمل کا اسقاط کرواتے ہوئے (شادی شدہ اور کنواری) خواتین پیچیدگیوں کا شکار نہ ہوں۔ گائناکالوجسٹس کے ایمان اور قانون پسندی کو جج کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ان کے پاس فرضی مریضہ لے جائیں اور ابارشن کی فرمائش کریں اور پھر دیکھیں وہ کیا جواب دیتے ہیں اور کتنی قیمت لگاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں - محمد شافع صابر

حقیقتاً اگر ہمارے شعبے میں کوئی قصائی کہلوانے کے قابل ہے تو وہ یہ طبقہ ہے، کیونکہ جس بے دردی سے بچے کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اسے نکالا جاتا ہے، اس کے لیے کسی قصائی نہیں بلکہ جلاد کا دل چاہیے.... بلکہ اس سے بھی سخت۔ اس جرم کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہ ہونے کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ کوئی اس کو رپورٹ ہی نہیں کرتا۔

میری آپ لوگوں سے درخواست ہے کہ اپنے عزیزوں یا رشتے داروں میں سے کسی کے بارے میں بھی یہ علم ہو کہ وہ زیادہ بچوں یا غربت یا کسی بھی اور بہانے سے ایک قتل اور گناہ عظیم پر آمادہ ہو رہے ہیں تو خدارا انہیں دعوت پر بلائیں اور پیار محبت سے سمجھائیں اور "قصائیوں" سے بچائیں۔

Comments

رضوان اسد خان

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.