کال بلیندی؛ کھرل کے معدوم ہوتے ڈھولے اور اے ڈی اعجاز - محمد افتخار شفیع

دنیا کی متمول اور طاقت ور اقوام کے معاشی حالات دگرگوں ہوئے تو انھوں نے کم زور قوموں کو اپنا غلام بنالیا، نہ صرف ان سے جبری مشقت لی گئی بل کہ ان کے وسائل پر قبضہ بھی کر لیا گیا۔ حاکم اور محکوم کے درمیان جب ایک بنیادی تفریق پیدا ہوئی تو یہیں سے استعمار کی اصطلاح بھی سامنے آئی۔ نوآبادیات اور استعماریت دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ نوآبادیات کی بہت سی شکلیں ہیں۔ یہ اصطلاح سب سے پہلے کب استعمال ہوئی، اس بارے میں کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔ شروع میں اس کے آثار قدیم مصریوں، فونیقیوں اور یونانیوں کے ہاں ملتے ہیں۔ ان قوموں نے جبر و تسلط کے زیر اثر اپنے عہد کی پرامن اور ضعیف اقوام پر تسلط جمایا، اس کے بعد عثمانی، روسی اور آسٹریائی نسلیں نوآبادیاتی قوت کی شکل میں سامنے آئیں۔ قریب کے دور میں برطانوی، فرانسیسی، اطالوی، پرتگالی اور ولندیزی اقوام نے صنعتی و مشینی ترقی کے بعد دنیا فتح کرنے کا خواب دیکھا اور بڑی حد تک اس کی تعبیر بھی پا لی۔ عالمی سطح پر روسی ادیبوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے مغربی اقوام کے مذموم مقاصد کا پردہ فاش کیا ہے۔ اسی قسم کے ادیبوں کی وجہ سے فی الوقت نوآبادیات اور اس کے متعلقات عالمی ادب کا پسندیدہ موضوع ہیں۔

پاک و ہند میں انگریزوں کی آمد سے پہلے یہاں کا مذہبی اور معاشرتی ماحول خاصا معتدل تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندستانی سماج میں مغلیہ سلطنت کے متعارف کردہ جاگیردارانہ نظام کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ کمپنی نے اس کے مقابلے میں ریاست اور مزدور کا تصور دیا، مگر ایک عام آدمی کی زندگی میں موجود غربت و افلاس جوں کی توں موجود رہی۔ علم و دانش کے جدید تصورات بھی محض مقتدر طبقے تک ہی پہنچ سکے۔ نوآبادیاتی نظام کی ضرورتوں کے پیش نظر برصغیر میں مختلف قسم کے بودے اور ریت سے تعمیر شدہ ابوالہول متعارف کروائے گئے۔ مغربی قوتوں نے ہندستان کے کثیر القومی معاشرے میں موجود اختلافات سے فائدہ اٹھایا اور انھیں اپنے ناجائز مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ ۱۸۵۷ء کی تحریک آزادی کی ابتدا تو بہ ظاہر میرٹھ چھاؤنی سے ہوئی لیکن اس کے اثرات برصغیر کے سیاسی مراکز کے دور دراز علاقوں تک محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ پنجاب اور اہل پنجاب پر ہمیشہ برطانوی نوآبادیاتی قوتوں کا مددگار ہونے کا الزام لگا یا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہاں آزادی کی جدوجہد کے نقوش بھی محض چند اضلاع میں دکھائی دیتے ہیں۔ انگریزوں نے پنجاب سے کثیر تعداد میں فوجیں بھرتی کیں، یہاں کے طبقہ اشرافیہ کی وفاداریاں بھی خریدیں، لیکن یہ کہنا بھی شاید مکمل طورپر درست نہ ہوگا کہ پنجاب نے کسی سطح پر بھی سہی، وطن کی آزادی کی تحریک میں اپنا باقاعدہ کردار ادا نہیں کیا۔

مغلیہ خاندان کے زوال کے دوران پنجاب بھی دیگر صوبوں کی طرح علامتی طور پر دہلی کی سلطنت کا باج گزار تھا۔ ۱۷۳۰ء میں یہ صوبہ جزوی طور پر اور ۱۷۹۹ء میں مکمل طور پر اس وقت خودمختار ہوا، جب مہاراجہ رنجیت سنگھ پنجاب کا حکم ران بنا۔ یہاں یہ بات خاصی حیران کن ہے کہ رنجیت سنگھ نے بہ طور حاکم پنجاب اپنے تقرر کا پروانہ اور خلعت برصغیر کے مغل فرماں روا کے بجائے افغانستان کے بادشاہ شاہ زمان درانی سے حاصل کیا۔ ۱۸۳۹ء میں مہاراجہ کی وفات کے بعد پنجاب میں خاصی انارکی پھیلی اور رنجیت سنگھ کے جانشینوں کی نااہلی کے سبب انگریزوں نے حکومتی معاملات میں مداخلت شروع کر دی۔ ۱۸۵۷ء سے ایک دہائی پہلے پنجاب نے نوآبادیاتی نظام کے خلاف اپنی پہلی جنگ کی ابتدا کر دی تھی۔ یہ جنگ ۱۸۴۵ء سے ۱۸۴۹ء تک پانچ سال جاری رہی۔ افسوس کہ تاریخ کے یہ روشن واقعات تاحال سخن ہائے ناگفتی ہیں۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے دوران اگر پنجاب نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی غلامی قبول کر لی ہوتی تو یہاں آزادی کے متوالوں کو اذیت ناک سزائیں نہ دی جاتیں۔ تاج برطانیہ کے دور میں حکومت پنجاب کی شائع شدہ پنجاب ایڈمنسٹریشن رپورٹ کے مطابق حکومت برطانیہ نے تاج کے خلاف بغاوت کے الزام میں صرف سال ۱۵۸۷ء کے دوران میں۵۶۲۸ افراد پر مقدمات چلائے۔ ان میں سے ۲۳۸۴ حریت پسندوں کو موت کی سزا سنائی گئی ،۱۴۷۱ لوگوں کوعمر قید ہوئی، ۱۵۰۱ شہریوں کو کوڑے مارے گئے جب کہ ۲۷۲ کو سخت جرمانہ ادا کرنا پڑا۔

جنگ آزادی میں پنجاب کے عام طور پرخاموش رہنے کی ایک وجہ وہ زرعی اصلاحات بھی تھیں، جن کے باعث ۱۸۴۹ء سے ۱۸۵۷ء تک کاشت کاری کی دنیا میں ایک نیا انقلاب آگیا، جس کے باعث عام آدمی کی معاشی زندگی میں بہتری آئی۔ پنجاب کی مختلف قوموں کی باہمی مخالفت نے بھی ماحول کو معتدل رکھا۔ پنجاب کے کسی علاقے میں جب کوئی انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرتا تو اس کے مخالفین انگریزوں کی حمایت کا اعلان کر دیتے۔ ۱۸۵۷ء میں پنجاب کے حالات مرکز سے مختلف تھے، دہلی اور میرٹھ میں چند وجوہات کی بنا پر صورت حال اچانک تبدیل ہوئی، انگریز اس کا مقابلہ کرنے کے لیے قطعی طور پر تیار نہ تھے۔ پنجاب میں حکومتی عناصر کو ٹیلی گرام کے ذریعے تمام صورت حال سے آگاہ کردیا گیا تھا، اس لیے انھوں نے ہر قسم کی مشکل کا سامنا کرنے کی تیاری کرلی تھی، اس کے باوجود پنجاب میں ایک عام آدمی برطانوی سامراج کو ناپسند کرتا تھا۔ متعدد علاقوں میں برطانوی حکومت کے خلاف آواز اٹھی، مری، سیال کوٹ، جہلم، لاہور، جھجھر، لدھیانہ اور ساہیوال میں شجاعت اور بہادری کی داستانیں رقم ہوئیں۔ پنجاب میں آزادی کے حصول کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والوں میں ہریانہ میں راؤ تلا رام، جھجھر کے نواب عبدالرحمان، فرخ نگر کے نواب احمد علی خان، مری سے رسول بخش، امیر علی اور سید کرم علی، بہادر نگر سے نواب بہادر جنگ خان اور ساہیوال اور فیصل آباد کے درمیان سے گزرنے والے دریائے راوی کے دونوں کناروں پر آباد قبائل میں رائے احمد خان کھرل، سارنگ خان، بہاول فتیانہ، مراد فتیانہ، ولی داد مردانہ، موکھا ویہنیوال، سوجا بھدرو، جلھا ترہانہ، مامد کاٹھیا اور نادر شاہ قریشی کی برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت عوامی حافظے کا حصہ ہیں۔

رائے احمد خان اور ان کے ساتھیوں کی جدوجہد کے بارے میں چیف کمشنر پنجاب سر جان لارنس نے اپنے ایک خط میں ان آزادی پسندوں کی کہانی کچھ یوں بیان کی ہے: ''اس ضلعے کے تین قبیلوں نے اتحاد کر کے احمد خان کو سردار بنا لیا، انھوں نے بغاوت کر دی، لیفٹنٹ انفسٹن کے پاس اطلاع پہنچی کہ فلاں قبیلے والے بگڑ گئے ہیں، اس نے فوجیں بھیجیں، راوی کے کنارے پر جھڑپیں ہوئیں، اس کے بعد انھوں نے گوگیرہ پر سخت حملہ کیا اور شدید نقصان پہنچایا، ادھر سے مسٹر برکلے مارا گیا، ادھر سے خود احمد خان کام گیا، لیکن یہ سلسلہ جاری رہا، باغیوں نے ہڑپا اور چیچہ وطنی پر قبضہ کر لیا اور چیمبر لین اور اس کی فوج کا محاصرہ کر لیا، مزید برطانوی فوجیں لاہور، ملتان اور گورداس پور سے پہنچیں اور صاحب کو بہ حفاظت نکال لیا، اس کے بعد میجر چیمبر لین نے جلھی پر حملہ کیا، یہاں بھی گھمسان کا رن پڑا، باغیوں نے قلعے سے باہر نکل کر شدید حملے کیے۔ آخرکار ہم نے حالات کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔''

اس جدوجہد کے نتیجے میں انگریزوں نے بہت سے حریت پسندوں کو شہید کر دیا، جو بچ گئے انھیں ملک بدر کر کے جزائر انڈیمان میں بھیج دیا گیا۔ یہ علاقہ مقامی زبان میں کالا پانی کے نام سے مشہور ہے۔ رائے احمد خان کھرل اور ان کے ساتھیوں کی مسلح جدوجہدآزادی کے اثرات پنجابی لوک ادب پر بھی مرتب ہوئے۔گنجی بار، ساندل بار اور نیلی بار کے یہ علاقے قدیم تہذیبوں کے امین ہیں۔ اس علاقے میں پنجابی شاعری کا مواج سمندر لہریں مارتا ہے۔ رشد و ہدایت کی بزمیں ہوں کہ حسن و عشق کی رمزیں، یہاں کے قدیم مویشی پال تمدن کے جلو میں متعدد کہانیاں ابھی تک ان کہی ہیں۔ پنجابی زبان کے عظیم شاعر اور چشتیہ سلسلے کے بزرگ حضرت فرید الدین مسعود گنج شکر نے اسی خطے میں پاک پتن کو اپنی قیام گاہ بنایا، یہیں ملکہ ہانس کے مقام پر عہد ساز شاعر سید وارث شاہ نے پنجابی زبان و ادب کی نمایندہ شعری داستان ''ہیر رانجھا'' تخلیق کی، حافظ برخوددار کی شہرہ آفاق لوک داستان ''مرزا صاحباں'' میں اسی تہذیب کے نقوش ملتے ہیں۔ یہاں پنجابی زبان کی ایک شعری صنف ''ڈھولا'' میں برطانوی نوآبادیات کے ردعمل میں انگریز ی استعماریت کے خلاف احمد خان کھرل اور ان کے ساتھیوں کی بےمثال قربانیوں کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔ ان سورماؤں کی بہادری کے قصوں کو بےدردی کے ساتھ فراموش کر دیا گیا۔ جن علاقوں میں یہ تحریک اٹھی اس کو شعوری طور پر علم و آگہی سے دور رکھا گیا۔ یہ علاقہ اور اس کے مقامی باشندے آج بھی سرخ ہندیوں (Red Indians) کی طرح اپنی فراموش کردہ تہذیب کی نوحہ گری کرتے ہیں۔ ان سورمائوں کی انگریز استعمار سے معرکہ آرائی کی کہانیاں آج بھی زبان زدعام ہیں۔

رائے احمد خان کھرل کی قیادت میں آغاز ہونے والی اس تحریک کو بہ ظاہر برطانوی سامراج نے بےرحمی سے کچل دیا، لیکن عوامی سطح پر اس کا شدید ردعمل سامنے آیا۔ مسلح تحریک کئی دہائیوں تک جاری رہی۔ احمد خان کھرل کے ڈھولے ہماری زبانی تاریخ (oral history) کا حصہ ہیں۔ انگریز عہد میں احمد خان کھرل، مراد فتیانے اور برکلی کے ڈھولے کہنے والوں کو گرفتار کر لیا جاتا تھا۔ ان حالات میں ان کو شائع کرنا کیسے ممکن تھا؟ سب سے پہلے ان کی اشاعت ساہیوال (تب منٹگمری) سے منظرعام پر آنے والے شعرا کے تذکرے ''شہر غزل'' میں ہوئی۔ ازاں بعد ساہیوال کی ضلعی انتظامیہ کے زیراہتمام شایع ہونے والے رسالے ''فردا'' میں بھی ان کا کچھ حصہ شائع ہوا، کھرل کے ڈھولے کا جامع اور مستندانتخاب اے ڈی اعجاز نے ''کال بلیندی'' کے عنوان سے مرتب کیا جسے پنجابی ادبی بورڈ نے طباعت سے آراستہ کیا۔ اس انتخاب کا جدید ایڈیشن پنجاب لوک لہر کے قسور مبارک بٹ نے شائع کیا۔ کال بلیندی نوآبادیاتی نظام کے ردعمل میں ابھرنے والی اس تحریک کومختلف زاویوں سے متعارف کرواتی ہے۔ ابھی بہت سے ڈھولے غیر مطبوعہ ہیں۔ ان ڈھولوں کی ابتدا اللہ اور اس کے رسول کی تعریف و توصیف سے ہوتی ہے۔ کھرل کے ڈھولے میں احمد خاں کھرل ایک پرعزم رہ نما کی صورت میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ احمد خان کی شہادت کوئی عام واقعہ نہیں بل کہ اس کے پس منظر میں میدان کربلا میں نواسہء رسول صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والہانہ وابستگی بھی ہے۔ واضح ہو کہ رائے احمد خان کی شہادت کا واقعہ بہت سارے حوالوں سے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی سے مماثلت رکھتا ہے:


راء احمد آہندا اے، لیو ناں رب دا،بھرو کلمہ محمد دا منودین اسلام نوں

اگے ڈھئی اے شہادت ساڈے پیر حسن حسین امام نوں

پوند تیغ اٹھائی اے شاہ علی،سیدھیا ہیس کل کفران نوں

الیاس تے بیگے جیڈے راء ہینیں وت سارنگ تے راء غلام نوں

جیڈے بھیڑ کھادے نال کوفیاں دے ایڈے جس دے گانے
رائے نتھو دے احمد خان نوں


۔۔۔۔۔۔۔


ہک سو ویہہ ورھیاں دی گل اے وطن مرے دی شان

انگریز ولیت اچ بیٹھے سوچن،ہوئے بڑے حیران

آکھن ہک گوگیرہ وچ پنجاب دے جتھے وسدے شیر جوان

جتھے احمد خان ہا گجیا رکھن کان بار دی آن
۔۔۔۔۔۔۔
[poetry]
او ہناں نوں دین مذہب دی خبر نانہہ کائی،حلال پئے رلیندے وچ حرام دے

اوہ کلمہ نبی دا نیونہہ بھردے،نالے سونہیں ناہیں رام دے

اینہاں نوں رگ جلہوڑیاں دی اے،شکل باندراں دی ،مڈھوں ہیں پتر شیطان دے

کاٹھ دے وچوں ددھ چوویندے،لوہا بھجا چھڈیانے وچ مدان دے

پوہ مانگھ دے وچ ہکا وردی لا کے تڑدے جپھناں وچ جپان دے

ارے گنگا تے پرے جمنا،کوہ قاف توں پرانہہ گھر اوہناں دے

لندن ہیں وچ نکران دے


۔۔۔۔۔۔۔


برکلی آہندا اے :رائے احمد خان دیویں گھوڑیاں تیری لندنوں لکھ لیاوساں نیک نامی

رائے احمد خان آہندا اے:رناں،بھویں تے گھوڑیاں ونڈ کسے نا ں دتیاں ہوندیاں بت دے وچ ساہ سلامی


۔۔۔۔۔۔۔


چڑھدے انگریز نوں ماں متیں دیوے ،آکھے

اوتھے راء احمد خان ہئی تے سمھل کے ورتیں ،اوہ مڈھوں دے نی راٹھ سترانے

انگریز برکلی آکھیا :جتھے ساڈے پھیرے

عاقی رہن نانہہ دینے ہائیں جیویں پانی لیندا پٹ اڈانے

اگے بہادر شاہ مغلیہ تخت توں لاہ لیا،قیدی کیتا،کول کٹھے بال ایانے

پنچھی اوہ مردے نی جیہناں دے دیگر تونبے توں جاکے پھل کرمانے

رائے احمد خان سنیاں ایہہ وارداتاں اوہنوں کدوں ایہہ سخن سمانے

آکھے لڑیے نال انگریز دے مدد حسین کریسی پاک جیہناں دے تند پیٹے تے تانے


۔۔۔۔۔۔۔


سدھی سڑ ک جلھی نوں کڈھیندا کراڑ لیندا نپ ونگاری

چارے پہر کار کریندا ،نماشیں دیندا ترے آنے دیہاڑی

اس راٹھاں تے دتے منھ کڑیالے اتے کیتی چڑھ اسواری

ہکناں نوں مار گھتیا ،ہکناں دے نک وچ کئی گھت مہاری


۔۔۔۔۔۔۔


ڈھکاں یاد کریندیاں ہین ہک واریں مڑوی آویں ہا

رائے نتھو دیا احمد خاناں


۔۔۔۔۔۔۔


کال بلیندی نارد النبے لے کے اٹھیا ڈھانڈھ دے

میں مصر نوں جھاتیاں گھتیاں، ملک جا ڈٹھے ہین شام دے

جیہناں آل نبی نال ظلم کیتا اے میں دوزخی ٹولے ڈٹھے ہین کافر بے ایمان دے

میں دلی نوں جا کے وڑیاں بھیڑچوغطے باتشاہ تے نادر شاہ دے

ہتھ پئے ڈٹھے ہائن خان دوراں پٹھان دے


۔۔۔۔۔۔۔


برکلی دا گھوڑا ہنکے وچ مدان دے کنڈوں گیا ہو الانا

میماں اچے وین کرکے روندیاں ہن مارگھتیونے برکلی نوں

کوئی سنیدا اے مراد فتیانہ

مراد ورگا راٹھ نانہہ کوئی ہے

لکھاں کیتی ودے ہن بگا بانا


۔۔۔۔۔۔۔


جیہڑی جگ تے ورتی میر سچ الائے

بنھ منصوبے ویر انگریز دے میں سر بیڑے چائے

برکلی صاحب آہندا ،اساں لہور ملتان دیاں ڈھاہ کے توفاں کوٹ پکے نی ڈھائے

اساں پھدہ کے راجے تے رانے لندن چا توڑ پچائے

بہاول توں منگ لئے ٹکے، حکم انگریز دا کون ہٹائے


۔۔۔۔۔۔۔


موئے برکلی دیاں لندن خبراں ادے حشر حمام دے گئے تپ

کئی لتھے آن جہازاں توں کئی آئے دھروڑ پھٹک

اوہ ظالم ظلم اوہناں دے وس

آکے رنی ماں برکلی دی بیٹ تے بہہ کے، کرکے لماں ہتھ


۔۔۔۔۔۔۔


مسلم گبھرو رل کے ہوئے گھوڑیاں تے اسوار

مردانے، فتیانے تے بھدرو جنہاں دا احمد خاں سردار

جنہاں اپنا فرض سنجاتا انھاں دے نال غفار

پنجاب دے جٹ نہ موت توں ڈردے سراں دا کرن وپار


۔۔۔۔۔۔۔


انگریزاں کول توپاں بندوکڑیاں تے ساڈے کول سپہن

اساں لے کے نام رسول دا حملہ کیتا تے دشمن کیوں بچ رہن

سدھ رہی نانہہ ولایتی میماں تے کیتے کیہڑے وین

گاڈ گاڈ پیاں کردیاں نیں تے سمجھ نانہہ ساڈی پین


۔۔۔۔
ٓبار کے علاقے میں احمدخان کھرل اور ان کے ساتھیوں کی یاد میں تخلیق کردہ یہ ڈھولے مقامی بھاٹوں اور لچھوں کی یادداشت کا حصہ تھے۔ ان کو ڈیڑھ صدی کے بعد ہڑپا کے ایک بوریا نشیں اے ڈی اعجاز نے مرتب کرکے نئے سرے سے زندہ کیا۔ شاید اس علاقے میں اب کوئی نیا اے ڈی اعجاز بہت دیر بعد پیدا ہوگا۔