پاکستان میں ٹیکس نظام کا جہاز اور ہم - محمد سلیم

میرا ایک افغانی دوست پچھلے دو مہینے سے اپنے مشترکہ کاروبار کی دیکھ بھال کے لیے ماسکو گیا ہوا تھا۔ خیر سے کل واپس پہنچا ہے۔ حال احوال پوچھا تو بتانے لگا: ماسکو میں حکومت نے ہر دکان میں موجود کیش کاؤنٹر (کمپیوٹر کیش رجسٹر) پر ایک نظام انسٹال کرنے کے لیے کہا ہے جس کی مدد سے ہر بکنے والی چیز پر خود کار طریقے سے چھ فیصد کٹ کر سیدھا حکومت کے پاس چلا جائے گا۔ جس کی دکان پر یہ نظام نہیں لگا، اس دکان کو بند کیا جا رہا ہے۔

جدہ میں ایک دوست کی دکان پر بیٹھنے کا اتفاق ہوا۔ گاہک چیز پوچھتے تو بتاتے ایک سو ریال کی ہے، ٹیکس کے ساتھ ایک پانچ دے دیجیے۔ جبکہ عام زندگی میں سات ریال والی سگریٹ کی ڈبی اکیس ریال کی ہوگئی ہے۔ ایک ریال والی بوتل اب ڈھائی ریال کی ملتی ہے۔ پاکستانیوں کے دلوں کا دھڑکن البیک بروسٹ دس سے بڑھ کر بارہ کا ہو گیا ہے۔ اور ایک اندازے کے مطابق ہر چیز کی قیمت میں پچاس فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔ پٹرول کا منتج ملک ہونے کے باوجود سعودیہ نے پٹرول کی قیمت میں دوگنا کا اضافہ کیا ہے۔

ترکی میں ایک دوست نے نیا کاروبار شروع کیا۔ ایجنٹ نے دھوکے سے کہا کہ مال ایران کی بندرگاہ تک پہنچوا دو، ادھر سے ہم اندر لے جائیں گے اور اتنے پیسے لے لیں گے۔ اب دوست کہتا ہے کاش ایسا نہ کرتا۔ جو مال قانونی طریقے سے امپورٹ نہیں ہوتا، اس کا بل نہیں کاٹا جا سکتا۔ گودام میں نہیں رکھا جا سکتا۔ بک جائے تو پیسوں کی واپسی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی اور گاہک کو اگر پتہ چل جائے کہ یہ غیرقانونی درآمد ہے تو وہ بلیک میلنگ کر کے مفت لینے کی کوشش کرتا ہے۔

دوست نے فون کر کے بتایا کہ مبارک ہو تیری بھتیجی انجینئر بن گئی ہے۔ بہت بہت مبارک دی۔ تنخواہ پوچھی تو کہنے لگے دو لاکھ ڈالر سالانہ ہے، ٹیکس وغیر دے کر ایک لاکھ بیس ہزار بچے گی۔ کہا کہ اتنا ٹیکس تو ظلم ہے۔ بچی کا دل بہت برا ہوا ہوگاَ! کہنے لگے: نہیں یہاں ایسا نہیں ہوتا، شروع سے ہی ذہن بن جاتا ہے کہ بس اتنی ہی ہماری تنخواہ ہے۔ (اعداد و شمار کچھ بھول رہا ہوں، اس پر گرفت نہ کیجیئے)۔

ایک دوست جرمنی گئے تو کھانا کھانے کے لیے اپنا پہلے والا پسندیدہ ایرانی ہوٹل تلاش کیا، ہوٹل تو نہ ملا مگر اس کا مالک مل گیا جو اب ایک چھوٹی سی دکان میں کھانا بنا کر بیچ رہا تھا۔ پوچھا یہ کیسے ہوا تو کہنے لگا: پہلا ہوٹل (ریسٹورنٹ) بیچ کر اور پیسے ادھر بنک میں رکھ کر چھٹیاں گزارنے ایران چلا گیا تھا۔ ارادہ تھا کہ واپس آ کر بنک میں رکھی جمع پونجی سے آرام دہ ریٹائرڈ زندگی گزاروں گا۔ ادھر آ کر پتہ چلا ہے کہ ٹیکس والوں نے اکاؤنٹ بلاک کر رکھا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک سال میں اتنا نمک خریدا تو کھانے کتنے پکائے ہوں گے، ٹیکس کیوں نہیں دیا۔ کہتے ہیں کہ لاکھ سمجھایا ہے کہ نمک برف والے فٹ پاتھ پر بھی ڈالتا تھا تاکہ لوگ نہ پھسلیں مگر نہیں مانے اور پیسے ضبط کیے بیٹھے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مودی نے جو جھنڈے گاڑے ہیں، ترنگا ان کی تعبیر نہیں لگتا - اشوک لال

کار لے لی ہے اور پٹرول ڈلوانا روز کا کام ٹھہرا ہے، کل چھ یوان کا لیٹر تھا تو آج چھ اعشاریہ اسی یوان کا ہے۔ مسئلہ ہی کیا ہے، ڈالر سے مربوط ہے تو ڈالر اوپر نیچے ہوگا تو قیمت بھی ایڈجسٹ ہوگی۔ اب اس تبدیلی کا اخبارات میں ذکر آنے کا تعلق؟ ایئرکنڈیشنڈ ملتا ہی کتنے کا ہے، دو لے لو۔ بات ایئرکنڈیشنڈ کی ہے اور نہ ایئرکنڈیشنڈ لینے کی، بجلی کا بل کون دے گا جو ہر مہینے ہزار یوان آیا پڑا ہوتا ہے؟

دوست آیا ہے، ستر ہزار کی یکطرفہ ٹکٹ لیکر آیا ہے۔ رو رہا تھا کہ قیمتیں اتنی بڑھ گئی ہیں، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ پوچھا کہ ٹکٹ کی قیمت یوان میں بتاؤ تو ہنستے ہوئے کہنے لگا، اتنے ہی بنتے ہیں جتنے پچھلے پانچ سالوں سے بن رہے تھے۔

****

** بیٹے کو اس کے محلے دار نے بتایا کہ عمرہ پر آیا ہوا ہوں، مل لو۔ مکہ ٹاورز میں رہ رہا تھا، پاکستان میں پوش علاقے میں گھر ہے، اور نئی ہنڈا کار بھی۔ کام پر تو بس کام کے کپڑے ہی پہن کر جاتا ہے، اب دہی بھلے والا تھری پیس سوٹ پہن کر تو کام پر جانے سے رہا۔

** کچھ چھوٹے درجہ پر کباب وغیرہ لگانے والے بہت محنت کرتے ہیں بےچارے۔ رات کو تب پھٹہ بند کرتے ہیں جب میٹیریل ختم ہو جائے۔ ساری کمائی تو کام والے پانچ چھ لڑکے اور ایک استاد لے جاتا ہے۔ یہ بےچارہ کیا کرتا ہوگا؟ اچھی خاصی غربت کی امیج بنی ہوئی ہے، بنی رہے، لوگ تو ویسے بھی حسد کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

** بیوٹی پارلر سے اگر دو دن پہلے پیسے دے کر اپائنٹمنٹ لینی پڑے۔ پسند کے شادی ہال میں اپنی تاریخ کے حساب سے بکنگ کے لیے سفارش لیکر جانا پڑے، دلہن کا غرارہ تین لاکھ کا ملے، جگراتے میں سو سو والی گڈیاں میراثنیوں پر لٹ رہی ہوں، مہندی کا کھانا دس لاکھ میں پڑ رہا ہو، تو یقین رکھیے کہ آپ غریب ملک پاکستان میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کی بے بسی - افتخار گیلانی

** نرسری کے بچے کی فیس ستر ہزار روپے مہینہ، پچیس ہزار روپے فیس عام سی بات، میرٹ نہ بنے تو دو لاکھ روپے مہینہ کی فیس دے کر میڈیکل میں داخلہ؛ تسلی رکھیے آپ غریب ملک پاکستان میں ہیں۔

** پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا تو عوام بھڑک اٹھے گی۔ آئی ایم ایف سے جو قسط مل رہی ہے، اس سے سبسڈی دے دیتے ہیں، ووٹ بنک نہیں ٹوٹے گا۔ بس کی ٹکٹ سبسڈی پر، چینی سبسڈی پر، آٹا سبسڈی پر۔ چلے گا، بس ووٹ نہیں ٹوٹنا چاہیے۔

** اچھا تو یہ ٹیلی ویژن چینل عوام کی ذہن سازی بھی کرتے ہیں؟ انہیں مشکلات میں تعاون کے لیے آمادہ بھی کرتے ہیں؟ سماجی مسائل کا حل بھی پیش کرتے ہیں؟ بیماریوں کی روک تھام، صحت مند غذاء، خود اعتمادی، خود انحصاری، ماحول دوست کام کرنا، ماحول کے لیے ممد و معاون بننا، اچھے شہری بننا، قانون سے آگاہی دینے، عوام کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے، حقوق حاصل کرنے، سستے انصاف کے لیے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا کام بھی کرتے ہیں؟ عوام تو یہی سمجھتی ہے کہ یہ بس دو مخالف جماعتوں کے نمائندے بلا کر حکومت کس طرح گرائی جائے، رخنہ اندازی کس طرح ڈالی جائے، نفرت کی دیوار کیسے کھڑی جائے اور فسادات کے لیے کیسے ماحول بنایا جائے کا ہی کام کرتے ہیں۔

** یہ جو ہمارے پاکستانی دوہری شہریت لے چکے ہیں یا دوسرے ملکوں میں باعزت زندگی گزار رہے ہیں، کیا ان پر یہ قرض نہیں بنتا کہ وہ ہمیں بتائیں کہ باہر شہریوں کو کیسے کیسے حکومتی ٹیکسوں سے پالا پڑتا ہے؟ حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے کیسی کیسی پابندیاں جھیلنی پڑتی ہیں، اپوزیشن پانچ سال کرسی ہی نہیں کھینچتی، ملک کو بھی چلائے رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے!!

** ایسے ملک، جس میں حکومتی لوگ سڑکوں اور نالیوں کو بنوا کر دینے کے وعدے پر ووٹ دیتے ہوں، انھیں ٹیکس کے دھارے میں لانا، قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سمجھانا، ڈالر اور ہنڈی کے نکتے سمجھانا بہت مشکل ہوگا۔

*** کنکلوژن *** ہم سب اب اسی جہاز پر سوار ہیں۔ چاہیں تو اسے چلائے رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں یا پھر ان چوہوں کا کردار ادا کریں جو جہاز کے پیندے کو کتر کر ڈبونے میں لگے رہتے ہیں۔