حج اور عمرہ اللہ کے لیے ہیں - بشارت حمید

عمرہ اور حج دو ایسی عبادتیں ہیں جن کو ادا کرنے کے لیے مملکت سعودی عرب کا سفر اختیار کرنا پڑتا ہے۔ یہ دونوں افعال دنیا میں کسی اور جگہ ادا نہیں کیے جا سکتے۔ دین میں ہر عبادت کے ادا کرنے کا ایک طریقہ مقرر کیا گیا ہے، ایسا نہیں کہ ہر بندہ اپنی مرضی اور خواہش سے جیسے چاہے ادا کرتا رہے۔ دین کا اصل جوہر ہی یہ ہے کہ بندہ اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کے احکامِ کے آگے سرنڈر کر دے۔ چاہے کوئی حکم دل کو پسند ہو چاہے ناپسند۔ اتباع ہر صورت میں کرنی ہو گی یہی تو اسلام کا تقاضا ہے۔

وطن عزیز سے ایک بہت بڑی تعداد ہر سال حرمین کے مبارک سفر پر عمرہ کی ادائیگی کیلئے جاتی ہے۔ لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ اس سلسلے میں بنیادی تعلیم بھی حاصل نہیں کی جاتی۔ اور سب سے پہلے جو کام فرض ہے اور اس کی ادائیگی پر کوئی خرچہ بھی نہیں ہوتا یعنی پنج وقتہ نماز۔ اس کی پابندی نہ کرنے والا کمزور ایمان والا عام مسلمان بھی عمرہ کی ادائیگی کا شوق ضرور رکھتا ہے۔ اچھی بات ہے کہ ایک نیک کام کا شوق رکھا جائے لیکن معاملہ تب گڑبڑ ہوتا ہے جب یہ ایک رسم کے طور پر اور دوسروں کی ہمسری کرنے یا پیسہ پونے کے باوجود عمرہ نہ کرنے کے طعنوں سے بچنے کے لیے کیا جائے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عمرہ زائرین اس نیک عمل کی اصل روح سے غافل رہتے ہوئے بس جہاز کا سفر کرنے، سعودی حکومت کے توسیعی کام سے متاثر ہونے، ہوٹلز میں سہولیات کی کمی کی شکایات، طواف و سعی کرتے ہوئے سیلفیاں بنانے یا پیچھے رہ جانے والوں کو ویڈیو کال میں لائیو دکھانے اور سوشل میڈیا شیئرنگ کے سوا کچھ حاصل نہیں کر پاتے۔ ہاں واپسی پر گلے میں پھولوں کے ہار اور رشتہ داروں کی دعوتیں کھانے کا موقع ضرور مل جاتا ہے۔ ایسے زائرین کی اکثریت واپس جا کر بھی نماز کی باقاعدگی اختیار نہیں کرتی۔

یہ بھی پڑھیں:   امن کا شہر اور سلامتی کا سفر - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

جو عمرہ کرنے آتے بھی ہیں، وہ اس کا پورا طریقہ نہیں جانتے اور اسے جاننے کی اتنی زیادہ کوشش بھی نہیں کرتے۔ کئی لوگ جو ڈائریکٹ فلائٹ سے جدہ آ رہے ہوتے ہیں، وہ بجائے پاکستان سے احرام باندھنے کے میقات سے آگے گزر کر جدہ پہنچ کر احرام باندھتے ہیں، جو ان کا خود ساختہ طریقہ ہے، اس سے عمرہ درست نہیں ہوتا۔ پھر عمرہ کے دوران گروپس کی شکل میں کتابوں سے یا موبائل فون سے دیکھ کر بآواز بلند دعائیں پڑھ کر دوسروں کی توجہ میں خلل ڈالنے والے کا اپنا ہی لیول ہے۔ یہی بنیادی خرابی ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بس کعبہ کے گرد 7 بار چکر لگانا ہے، اور سعی کے بھی 7 چکر پورے کرنے ہیں اس دوران بس عربی کے چند جنتر منتر رٹ کر پڑھ دینے ہیں تو بس عمرہ ہو گیا۔ حالانکہ یہ تو خود کو اپنے خالق و مالک کے حضور دل کی حاضری کے ساتھ پیش کرنے کا نام ہے۔

اللہ پنجابی سرائیکی اور اردو بھی جانتا ہے، اسے ہر زبان میں کی گئی دعا اور مناجات اسی طرح سمجھ آتی ہے جیسے عربی کی۔ اگر عربی دعا مفہوم کی سمجھ کے ساتھ یاد ہو تو بہت اچھی بات ہے کہ عربی دعا مسنون عمل ہے، لیکن اس دعا کو رٹا مار کر پڑھنے کے بجائے زیادہ بہتر یہ ہے کہ اپنے خالق کو اپنی مادری زبان میں پکارا جائے تاکہ دعا دل سے نکلے اور اس فریکوینسی پر اللہ تک پہنچے جو مطلوب و مقصود ہے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.