اخلاقی زوال اور اس کا تدارک - علی اعظمی

’’پاکستانی معاشرہ اخلاقی انحطاط کا شکار ہے، معاشرے سے اخلاقی اقدار ناپید ہوتی جا رہی ہیں، ہمارا اصل مسئلہ معاشیات کا نہیں اخلاقیات کا ہے۔‘‘ مندرجہ بالا جملے اور اسی طرح کے بےتحاشا جملے ہمیں روزانہ کسی دانشور کی زبانی، کسی لکھاری کی تحریر میں یا کسی واعظ کے بیان میں پڑھنے سننے کو ملتے ہیں۔ کوئی بھی شخص جو معاشرے اور اس کی مختلف جہتوں کو بغور دیکھتا ہو، وہ اس بات کا ہر گز انکار نہیں کر سکتا کہ واقعی ہمارا معاشرہ اخلاقی لحاظ سے رو بہ زوال ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اخلاقی پستی کا فقط رونا رونا اور اس پر نوحہ کناں ہونا ہی کافی ہے یا پھر اس کی وجوہات کو ڈھونڈنا اور اس کا حل نکالنا بھی بحیثیت معاشرہ ہمارے لیے ضروری ہے۔

اگر ہم معاشرے کے اندر اخلاقیات لانا چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں افراد کے اندر اخلاقی قدروں کو پیدا کرنا ہوگا کیونکہ افراد ہی تو ہیں جو کسی بھی معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں۔ تو لامحالہ ہمیں یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ ہمیں معاشرے کو اخلاقی طور پر بہتر بنانے کے لیے معاشرے کی بنیاد یعنی انسان کی اخلاقی تربیت کی طرف بھرپور توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔

اگلا سوال جو کہ نہایت اہم ہے، وہ یہ ہے کہ انسان یا فرد کی تربیت کیسے کی جائے کہ وہ بعد ازاں اخلاقی طور پر توانا معاشرہ تشکیل دے سکیں، اگر بنظر ِغائر دیکھیں کہ وہ کون سے ذرائع ہیں جن کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم افراد کی اخلاقی تربیت کر سکتے ہیں تو یقینا ان ذرائع کو ہم کئی درجات یا مراحل میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

چونکہ انسان کے پیدا ہوتے ہی یہ ضروری ہو جاتا ہے کے اس کی بہترین تربیت کا آغاز کیا جائے کہ چھوٹی عمر میں سیکھی گئی عادات انسان کی شخصیت کا مستقل حصہ بن جایا کرتی ہیں۔ تو اس ضمن میں سب سے پہلی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے۔ بچہ اپنے ماں باپ کو دیکھتا ہے، اس کی شخصیت میں انھی کا عکس جھلکنے لگتا ہے۔ اگر اسی پہلو کو تھوڑا وسیع کر کے دیکھیں تو یہ گھر کا ماحول ہے، جو بچے کی عادات و اطوار اور اس کے کردار پر واضح اور بڑے نمایاں اثرات مرتب کرتا ہے۔ اگر گھر کے ماحول میں اخلاقی اقدار کی فراوانی ہو اور اخلاقی طور پر بہتر رویوں کو اہمیت دی جاتی ہو تو یقینی طور پر بچے کے قلب و ذہن پر اخلاقی اقدار نقش ہو جاتی ہیں اور وہ اخلاقی رویوں کو اپنانے لگتے ہیں، اور اس کے بر خلاف اگر گھر کے اندر جھوٹ، غیبت، چغلی، لڑائی جھگڑے، وعدہ خلافی،گالم گلوچ جیسی اخلاقی قباحتیں عام ہوں تو بچوں پر بھی منفی اثرات ڈالتی ہیں اور انھیں بھی ان چیزوں سے کراہت محسوس نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام آباد میں بین الاقوامی کشمیر کانفرنس - میر افسر امان

گھر کے بعد دوسری جگہ جس سے بچے کو پالا پڑتا ہے وہ سکول یا مدرسہ۔ اگر سکول میں بچے کو اخلاقی تربیت نہیں دی جاتی تو معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کا آغاز اسی وقت سے ہونے لگتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو علیحدہ کر کے رکھ دیا۔ ہمارے تعلیمی اداروں کا تمام تر فوکس تعلیمی شعبوں پر ہوتا ہے اور اخلاقی تربیت کا پہلو یکسر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان ہوتا تو ڈگری یافتہ ہے لیکن کوڑا کرکٹ سڑک اور گلیوں میں پھینکتا ہے۔ انگریزی تو فرفر بول لیتا ہے مگر بڑوں کا ادب جیسی کوئی چیز اس کی زندگی میں نہیں ہوتی۔ کرپشن، سفارش، دھوکہ دہی، بےایمانی کو ہرگز قابلِ نفرت نہیں سمجھتا۔ نتیجتاََ معاشرے میں اخلاقی بیماریاں پھوٹنے لگتی ہیں اور پھر یہ بیماریاں اچھوت کی طرح ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے تک پہنچتی ہیں اور ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

ایک اور بڑی وجہ جو اخلاقی زوال کا سبب ہے، وہ اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ ہونا ہے، کیونکہ وہ تمام تر اخلاقی اقدار جنھیں دنیا بھر میں ستائش کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، وہ اسلامی تعلیمات کا ایک روشن باب ہے۔ قرآن پاک کی تعلیمات اور صاحبِ قرآن ﷺ کی سیرت پاک اخلاقی اقدار کا شاندار نمونہ ہے کہ جس سے خیرات لے کر اپنی زندگیوں اور معاشرے میں اخلاقیات کو پیدا کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ سیرتِ رسول ﷺ کا مطالعہ کرنا چاہیے اور سیرت کے مختلف پہلوئوں کو اپنانا چاہیے تا کہ انسانی زندگیاں اخلاق و کردار کی روشن کرنوں سے منور ہوں اور معاشرہ اخلاقی عروج کی طرف گامزن ہو۔ موجودہ اخلاقی زوال کو عروج میں بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم کئی محاذوں پر کام کریں۔ گھر کے ماحول، تعلیمی اداروں اور معاشرے میں اخلاقی قدروں کو نافذ کریں تا کہ انسانوں کی اخلاقی تربیت ہو اور پھر با اخلاق اور با کردار انسان مل جل کر ایک اخلاقی طور پر توانا اورخوبصورت معاشرہ تشکیل دے سکیں۔