مدرسے میں ناول پڑھنے کی روداد - رعایت اللہ فاروقی

زندگی میں دو کام ایسے ہیں جو بچپن میں جس پرجوش سرگرمی کے ساتھ شروع کیے، اسی جوش و خروش کے ساتھ آج پچاس برس کی عمر میں بھی کیے جا رہا ہوں۔ ایک کتابیں پڑھنا اور دوسرا فلمیں دیکھنا۔ لطف کی بات دیکھیے کہ ان دونوں "جرائم" پر بچپن میں پٹا بھی بہت ہوں۔ پٹنے کا سبب یہ ہوا کہ کتاب کے معاملے میں صاحب ذوق تھا اور طالب علم میں مدرسے کا تھا، جو اس لحاظ سے ایک تضاد تھا کہ دنیا کی سب سے بدذائقہ کتب درسی کتب ہوتی ہیں اور اگر یہ کتب مدارس کی ہوں تو سمجھیے کریلا نیم چڑھا۔
دنیا کی تمام معقول درسی کتب وہ موضوع سکھانے کے کام آتی ہیں جس پر وہ لکھی گئی ہوں۔ یوں دوران سبق زیر بحث وہ موضوع ہی ہوتا ہے جس سے متعلق کتاب لکھی گئی ہوتی ہے، یعنی کیمسٹری کے پیریڈ میں کیمسٹری پر ہی محنت ہو رہی ہوتی ہے، لیکن ہمارے مدارس کی درسی کتب میں موضوع ثانوی حیثیت اختیار کرجاتا ہے۔ لگ بھگ ہر استاد کی مرکزی محنت یہ راز دریافت کرنے پر ہوتی ہے کہ زیر نظر عبارت میں مصنف درحقیقت کہنا کیا چاہتا ہے؟ اگر ایک کتاب کی عبارت اپنی مراد کے حوالے سے ہی مبہم ہو تو اس میں وہی رغبت رکھ سکتا ہے جو علم سے زیادہ ثواب میں دلچسپی رکھتا ہو۔ اور جب بات گناہ ثواب کی ہو تو اس اعتراف میں مجھے کوئی تامل نہیں کہ یہ آوارہ بڑا ہی گنہگار ہے۔ سو ان درسی کتب کو طبیعت کبھی بھی قبول نہ کرسکی، حتی کہ آج بھی کسی درسی کتاب کا مطالعہ مجھ پر ٹارچر کی غرض سے مسلط کیا جاسکتا ہے۔

میری نظر میں دنیا کی بہترین کتب وہ ہیں جنہیں "غیر نصابی" ہونے کی سعادت حاصل ہے، مگر مدرسے میں غیر نصابی بھی صرف "تبلیغی نصاب" ہی پڑھا جاسکتا تھا۔ اس کے سوا ہر غیر نصابی حرف مسطور وہاں ممنوع تھا۔ مدرسے کے پرنور نصابی ماحول میں صندوق یا لاکر میں "ممنوعہ اشیاء" رکھی نہیں جاسکتی تھیں۔ سو ہر مدرسے میں میرا اپنا ایک خفیہ گوشہ تاریک رہا جہاں میں زیر مطالعہ غیر نصابی کتاب سنبھال کر رکھتا۔ جب بھی فرصت ملی، کتاب اس گوشے سے نکالی اور مدرسے سے دور جاکر کسی چائے خانے یا پارک میں پڑھنی شروع کردی۔ چونکہ میرے بارے میں سب ہی جانتے تھے کہ یہ غیر نصابی کتب کے مطالعے اور سنیما جانے جیسے گناہ بکثرت کرتا ہے، سو ناظم اعلی، ناظم تعلیمات، ناظم دارالاقامہ، ناظم کتب خانہ، ناظم مطبخ اور ان کے وہ جملہ چمچے جو مخبری جیسا گھٹیا کام بھی ثواب سمجھ کر کرتے میری تاک میں رہتے۔ لطف کی بات یہ کہ آٹھ دس برس میں مجھے ممنوعہ کتب کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑنے میں دو چار بار ہی ان نیک روحوں کو "نصرت خداوندی" میسر آسکی۔ آٹھ دس برس کے ان دو چار بار کے سوا ہر سال کے جملہ ایام خدا میرا ہی جانبدار رہا۔ اب چونکہ یہ دو چار بار بھی انہیں کئی کئی مہینوں کی اعصاب شکن محنت سے میسر آئے، سو پٹائی ایسی بدتر ہوئی کہ مولوی کے بید کے آگے تھانیدار کا لتر کیا بیچتا ہے۔

اس زمانے میں میری غیری نصابی کتب زیادہ تر ناولز رہے، جنھیں میں کمرے سے باہر کسی کھانچے میں چھپا کر رکھتا۔ چھٹی کے اوقات میں قمیض کے نیچے اڑس کر رہائشی کمرے، درسگاہ یا کسی پارک لے جاکر پڑھتا۔ اس غیر نصابی مطالعے کے لیے اٹھائی گئی مشقت کا اندازہ اس سے لگا لیجیے کہ جن تین سالوں میں بفرزون میں قائم دارالعلوم رحمانیہ میں زیر تعلیم رہا، معمول یہ رہا کہ مدرسے سے دو ڈھائی کلومیٹر دور واقع سخی حسن قبرستان کے مقابل واقع پارک روز پیدل آتا جاتا۔ اس پارک کے شمال مغربی کونے میں ایک بڑے درخت کے نیچے نصب بینچ پر لگ بھگ تین سال میرا "خرافاتی مطالعہ" جاری رہا۔ اور یہ تردد اس لیے اٹھانا پڑتا کہ مدرسے میں پکڑے جانے کا اندیشہ رہتا۔ اس خوف کے نتیجے میں مطالعے کے دوران ارتکاز ہی نہ بن پاتا کیونکہ دونوں کان اور ایک آنکھ دروازے سے کسی ایسی ہستی کے دخولی امکان پر رہتی جس کے لیے حبیب قاآنی نے "ثقیل" کی اصطلاح اختیار کی تھی ''زاں پیش کہ ناگاہ ثقیلے رسد از در'' مگر ہوتا یہ کہ موقع ملنے پر مختصر دورانیے کے لیے کمرے میں بھی تھوڑے بہت صفحات چاٹ لیے جاتے۔ اگر اس دوران کوئی ثقیل اس طرف نکل آتا تو ناول فوری طور پر کسی بہت ہی صوفی قسم کے روم میٹ کے بستر تلے چھپا دیتا، کیونکہ نیک یعنی صرف درسی کتب کا شغف رکھنے والے طالب علموں کے سامان کی تلاشی نہ ہوتی۔

ایک بار یوں بھی ہوا کہ میرا چھپایا ہوا ناول نیک روم میٹ کے ہاتھ لگ گیا۔ وہ اپنے بستر کے نیچے سے برآمد ہونے والی میری خرافات کو صدمے سے تکتے ہوئے کچھ دیر تک تو اناللہ و انا الیہ راجعون اور استغفار کے ورد کرتا رہا، اور جب اس سے فارغ ہوچکا تو ناظم دارالاقامہ کے پاس جانے کا مصمم عزم ظاہر کیا۔ میں نے "انکسار" سے بھرپور لہجے میں عرض کیا: "تمہارے پاس دو آپشنز ہیں۔ پہلا وہی جو تم کرنے کی دھمکی دے رہے ہو مگر اس کے نتیجے میں خدا تمھاری زندگی میرے ہاتھوں کچھ دن کے لیے ایسی تکلیف دہ کردے گا کہ صلوۃ توبہ ادا کر کر کے تھک جاؤگے. دوسری آپشن یہ ہے کہ ناول میرے حوالے کرو اور اگلے ویک اینڈ تک تمہاری عشاء کی نماز کے بعد والی چائے اور دو باقر خانیوں کا بل میرے ذمہ۔"

وہ نیک سے زیادہ شریف ثابت ہوا، تین دن کی چائے باقر خانی پر رضامند ہوگیا۔ ہم خراباتیان امت کی اصطلاح میں شریف بزدل کو کہا جاتا ہے۔ اللہ ہی جانے کیا راز ہے کہ نیک آدمی اکثر و بیشتر بزدل ضرور ہوتا ہے، مگر یہ پہلو نظرانداز ہونے کے لائق نہیں کہ ان میں سے وہ قلیل ہی ہوتے ہیں جو خدا کی عظمت کے آگے سر جھکا کر نیک ہوئے ہوتے ہیں ورنہ بیشتر کی نیکی میں شاید ان کی خوفزدگی والی طبعی کمزوری کا ہی ہاتھ سمجھ آتا ہے۔ خدا سے ڈر کا نہیں محبت کا رشتہ ہونا چاہیے جس میں بہادری یا بزدلی کا کوئی کردار نہیں۔

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.