عالمگیریت اور اہل مذہب کو درپیش چیلنج - محمد عرفان ندیم

اکسیویں صدی کا انسان کتنا طاقتور اور بااختیار بن چکا ہے، ساری دنیا سمٹ کر اس کی مٹھی میں آ گئی ہے۔ آج کسی بھی انسان کا کردار مقامی نہیں بلکہ عالمگیر بن چکا ہے۔ ابلاغیات کے وسیع تر مواقع نے آپ کے لیے دروازے کھول دیے ہیں۔ خیر اور شر کی قوتیں میدان حیات میں نبرد آزما ہیں۔ دعوت کے لیے میدان تیار ہے افسوس مگر یہ ہے کہ اہل دعوت اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہو رہے۔ شاید انہیں احساس ہی نہیں کہ اس معرکے میں شر نے کتنے قلعے فتح کر لیے اور عنقریب وہ ان کے دہلیز پر دستک دے گا، تب شاید سنبھلنے کا موقع نہ ملے کہ دہلیز پر آیا سائل کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔

ہزاروں سال قبل انسان جنگلوں اور ویرانوں میں بسیرا کرتے تھے، راہ چلتے کسی جگہ پانی کا کنواں نظر آیا تو وہیں پڑاؤ کر لیا، دو چار دن ادھر گزار کر آگے چل دیے، جنگلوں سے شکار کرکے پیٹ کی آگ بجھاتے اور پہاڑوں کے چشموں سے سیراب ہوتے، تب شہروں اور قصبوں کا وجو د نہیں تھا ، خاندان اور قبیلہ پورا شہر ہوا کرتا تھا ، قبیلے کا سردار حاکم باقی سب رعایا متصورتھی ، یہ انسان کا ابتدائی دور تھا۔ تین سے پانچ ہزار سال قبل سمیری تہذیب نے رسم الخط ایجاد کیا، آج سب سے قدیم تحریر جو ہمیں دستیاب ہے، وہ سمیری تہذیب کی لکھی ہوئی جس میں’’جو ‘‘ کا حساب درج ہے، اتنے جو اتنی رقم کے عوض۔ معلوم ہوا معیشت قدیم دور سے انسان کا بنیادی مسئلہ رہا ہے۔

رسم الخط کی ایجاد سے انسانوں نے شعور کی نئی دنیا میں قدم رکھا۔ یونانی، رومی اور بعد ازاں اسلامی تہذیب نے دنیا کو نئے علوم و فنون سے روشناس کر ایا، انسان زمانہ جاہلیت سے نکل کر ایک نئے دور میں داخل ہوا۔ اسلامی تہذیب نے اس دور کو نئی پہچان دی۔ تسخیر کائنات کا مرحلہ شروع ہوا، نیچرل اور سوشل سائنسز کے میدان میں انقلاب برپا ہوا۔ تجرباتی سائنس نے اسی عہد کے گہوارے میں جنم لیا۔ قرون وسطیٰ کے دور میں جب باقی معلوم دنیا ظلم و جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، تب اسلام کے زیرنگیں خطے علم وفن کی روشنیوں سے منور اور تاباں تھے۔ بعد میں یہی روشنی مستعار لے کر یورپ آگے بڑھ گیا اور ہم پیچھے ہٹ گئے، صورتحال معکوس ہو گئی۔ ہم نے اندھیروں کو گلے لگالیا اور یورپ مادی علوم و فنون کی روشنی کا استعارہ بن گیا۔ یورپ جو قرون وسطیٰ میں، اپنی پسماندگی کے سبب کسی فاتح کی ترجیحات میں شامل نہیں تھا، مشرقی یورپ کے بارے میں تو کوئی سوچتا بھی نہیں تھا اور مغربی یورپ کے بارے میں، دنیا بس اتنا جانتی تھی کہ وہاں ایک اجڈ اور وحشی قوم آباد ہے۔ پندرھویں صدی تک دنیا کی معیشت میں یورپ کا حصہ پانچ فیصد بھی نہیں تھا، اور اٹھارویں صدی تک دنیا کی اسی فیصد معیشت ایشیا پر منحصر تھی، اس میں بھی چین اور ہندوستان دنیا کی دو تہائی پیداور کے حامل ملک تھے۔

سولھویں صدی کے آغاز سے یورپ میں نئے چراغ جلنے شروع ہوئے، نشاۃ ثانیہ کی تحریک، اصلاح مذہب ، انقلاب فرانس اور صنعتی انقلاب، کچھ ہی سالوں میں دنیا کیا سے کیا ہوگئی۔ امریکہ اور آسٹریلیا کی دریافت، ہندوستان سے لوٹ مار اور دنیا کے مختلف خطوں میں نوآبادیات کا قیام، ان سارے ملکوں کی دولت لوٹ کر یورپ کے پاس خام مال کے ڈھیر لگ گئے، اس سے صنعتوں کو فروغ حاصل ہوا، ملیں اور فیکٹریاں قائم ہوئیں، بھاپ کا انجمن ایجاد ہوا اور انیسویں صدی میں انسانوں نے ایک نئی دنیا آباد کر دی۔ نیچرل اور سوشل سائنسز کے میدان میں نئی تھیوریز وضع ہوئیں، علوم وفنون کی نئی فیکلیٹیز وجود میں آئیں اور بیسیوں صدی کے آغاز میں انسانوں نے ہواؤں میں اڑنا شروع کردیا۔ بیسویں صدی کا آغاز ایک نئی ترنگ سے ہوا، قومی ریاستیں وجود میں آئیں اور ایٹم بم کی ایجاد نے انسانی تاریخ کو ایک نئے دور میں دھکیل دیا۔

انجن کی ایجاد سے ریل اور کار وجود میں آئی اورفاصلے سمٹ گئے۔ 1830ء میں دنیا کا پہلا تجارتی ریلوے نظام برطانیہ میں شروع ہوا، 1850ء تک یورپ میں پچیس ہزار میل ٹرین کی پٹڑی بچھ چکی تھی، جبکہ باقی دنیا میں یہ صرف پچیس سو میل تھی۔ 1880ء تک یورپ میں دو لاکھ بیس ہزار میل تک ریل کا ٹریک بچھ چکا تھا جبکہ باقی دنیا میں یہ تعداد بائیس ہزار میل تھی۔ چین میں ریل کی پہلی پٹڑی 1876ء میں بچھائی گئی اور یہ بھی گورں نے بچھائی تھی جو صرف پندرہ میل لمبی تھی۔ ایران جو برطانیہ سے رقبے میں سات گنا بڑا تھا، وہاں1888ء میں پہلا ریل کا پہلا ٹریک بچھا جو تہران سے چھ میل دور کسی مذہبی زیارت گاہ کے لیے تھا اور اسے تعمیر کرنے اور چلانے کا ٹھیکہ بیلجئم کی کمپنی کے سپرد تھا۔ 1950ء تک ایران میں صرف پندرہ سو میل تک ریل کا ٹریک بچھا تھا۔ ہندوستان میں ریل کا پہلا ٹریک 1830ء میں بچھایا گیا اور اس کی ذمہ داری بھی گوروں کے سر تھی۔

سولھویں اور سترھویں صدی میں یورپ کا ایک اہم کارنامہ سمندری سفر تھا، اسی سفر کی بدولت امریکہ دریافت ہوا، ہندوستان کے نئے راستے ڈھونڈے گئے، آسٹریلیا کو فتح کیا گیا، اور ان تمام علاقوں سے خام مال کے ڈھیردھڑا دھڑ یورپ منتقل کیے گئے۔ ہندوستان، افریقہ اور دوسرے مفتوح علاقوں میں ریل کا ٹریک بھچانے کا مقصد یہی تھا کہ ان علاقوں سے لوٹا ہوا خام مال برطانیہ پہنچایا جائے۔ ہمارے ہاں سی پیک کے نام پر پاک چائنہ اکنامک کوریڈور کے نام سے جو روڈ بن رہا ہے، اس کے پیچھے بھی یہی سوچ کارفرما ہے کہ چین اس راستے سے اپنی مصنوعات دنیا کی بڑی منڈیوں تک پہنچانا چاہتا ہے۔ ماضی میں یہ کام ملکوں اور علاقوں کو فتح کر کے کیا جاتا تھا لیکن چین یہی کام حکمت عملی سے بغیر جنگ چھیڑے کر رہا ہے۔

بیسویں صدی کا آخری نصف نقطہ عروج تھا، سائنس و ٹیکنالوجی کے انقلاب نے کرہ ارض کو یکسر تبدیل کر دیا، دنیا وہ نہیں رہی جیسی کبھی تھی، دسویں صدی کا کوئی انسان پندرھویں صدی میں زندہ ہوتا تو کچھ زیادہ حیران نہ ہوتا لیکن پندرھویں صدی کا انسان بیسویں صدی میں زندہ ہوتا تو شاید اسے یقین کرنا مشکل ہو جاتا۔ پہلا اور آخری لفظ اگر وہ بولتا تو شاید یہی کہتا ’’یہ جنت ہے یا جہنم‘‘۔ بیسویں صدی کے آخری نصف کا سب سے اہم کارنامہ انٹرنیٹ کی ایجاد تھا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ انٹرنیٹ کی ایجاد سے اتنا بڑا انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ اس ایجاد نے دنیا کو ایک گاؤں میں بدل دیا، ہزاروں سال پہلے لوگ اپنے خاندان اور قبیلے کے حالات سے بھی واقف نہیں ہوتے تھے، ساتھ والے جنگل میں کون بس رہا ہے اور وہاں کے حالات کیسے ہیں، کسی کو کچھ خبر نہیں ہوا کرتی تھی۔ قرون وسطیٰ اور بیسویں صدی کے آغاز تک انسان اپنے ہمسائے کے حالات سے بے خبر تھا، خط کے ذریعے حالات دریافت کرنے میں بھی مہینوں لگ جایا کرتے تھے۔ پھر انٹرنیٹ آیا اور دنیا ایک گاؤں بن گئی۔ آج ہم ایک گاؤں میں رہ رہے ہیں اور آج ہر فرد کا کردار مقامی نہیں عالمی بن چکا ہے۔ کیا اہل دین اور اہل دعوت اس گاؤں میں اپنا دعوتی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ اہم سوال ہے۔

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.