سلفی فکر بند گلی میں - سید عبدالعلام زیدی

میری مراد سلف صالحین کی فکر نہیں ہے، کیونکہ سلف صالحین کی فکر ہی تو اصل میں کتاب و سنت کی درست تعبیر و تفہیم ہے اور اس کے سوا ہر راستہ گمراہی ہے ۔ یہاں میری مراد پچھلے دو تین سو سال سے سلفیت کے نام پر پھیلنے والی فکر ہے خصوصاً موجودہ دور میں اس کے جو نتائج نکلے ہیں وہ آج سلفی نوجوان کو ایک بند گلی میں لے آئے ہیں ۔ یہ مضمون محض رونے دھونے کے لئے نہیں لکھا جا رہا نہ ہی یہ ایک تنقیدی مضمون ہے بلکہ یہاں ہم درپیش فکری مسائل اور پھر اس کے حل کی بات کرنے جا رہے ہیں۔

ایک بات تو طے ہے کہ حق فکر سلف صالحین کی ہی ہے اور یہ بات بھی طے ہے کہ ان دو تین سو سالوں میں بھی سلفی اہل علم میں ان حضرات کی ایک تعداد رہی ہے جنہوں نے اصلاح کا بیڑہ اٹھائے رکھا اور بغیر کسی ملامت کی پرواہ کیے حق کی گواہی دیتے رہے ہیں۔ وہی راہ حق کے ٹمٹماتے چراغ ہیں۔ جس طرح ہم احناف پر یہ نقد رکھتے ہیں کہ وہ اپنے اکابرین سے یوں چمٹے ہیں کہ کہ گویا یہی سلف ہیں اور انہی کی پیروی میں نجات ہے اسی طرح ہم سلفی حضرات کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ تقلید کے نام کے رگڑے لگانے کے باوجود ہم اپنی جماعتوں ، اکابرین اور علمائے کبار وغیرہ سے ایسے جڑے ہیں گویا کہ وہ معصوم ہیں اور ان کا کہا ہر بیان سلف صالحین کا مؤقف ہے جس سے اختلاف گمراہی ہے۔

پہلے تو ہم اپنے عنوان کی جانب آتے ہیں۔ سلفی فکر بند گلی میں کیسے؟ سلف جو کبھی امت کے رہنما تھے، جن کے مواقف کے ساتھ امت کھڑی ہوا کرتی تھی اور جو امت کو لیڈ کیا کرتے ہیں، آج وہ بس مسجد اور مدرسے کو ہی مشکل سے گھسیٹ رہے ہیں۔ امت کو ان کا بیانیہ سمجھ ہی نہیں آتا۔ کسی کو سمجھ آتا ہے تو وہ بھی امت کے لیول سے نکل کر جماعتوں اور شیخ کی مریدی کے لیول پر آگرتا ہے۔ کئی فقہی مسائل میں ایسی شدت اپناتے ہیں کہ ساری زندگی بیچارے مسائل کی بغیر علم کے تحقیق اور اس کی تبلیغ میں گزار دیتے ہیں ۔ بعض گھریلو مسائل میں ایسی شدت اختیار کرتے ہیں کہ اولادیں ہی دین سے باغی یا پھر نفسیاتی مریض بن جاتی ہیں۔ بعض تکفیری روش پر چلتے ہیں اور پھر چلتے چلتے نا جانے کہاں کہاں جا پہنچتے ہیں! یہ تحقیر نہیں بلکہ حقیقت ہے جس کا ہمیں سامنا ہے۔

نیتجہ یہ ہے کہ سلفی گروہ ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں۔ جہادیوں کو دیکھو تو وہ ایک دوسرے کو خوارج اور تکفیری کہہ رہے ہیں۔ عرب کے علماء کو پڑھو تو وہ ایک دوسرے کو کاٹنے پر لگے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ امت کی سیادت و رہنمائی ان سے چھین کر اوروں کو دے دی گئی ہے۔ اب ذرا اجمال کو چھوڑ کر ہم کچھ تفصیلی باتیں کرتے ہیں تاکہ ان غلطیوں کی نشاندہی ہو جن میں ہم واقع ہو رہے ہیں ۔

اصل مسئلہ جس پر سلفیت نے سب سے بڑی ٹھوکر کھائی ہے وہ تکفیر میں غلو کا مسئلہ ہے۔ اس میں کوئی ہمت کر کے اتنا بولنے کو تیار نہیں کہ یہ غلو صرف داعش، القاعدہ، یا علمائے کبار کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی اولاد اور ان کے شاگردوں کا مسئلہ ہے جہاں سے اصل میں تکفیر میں غلو کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ جبکہ امام ابن تیمیہ اور خود محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ اس غلو سے بری نظر آتے ہیں۔ اگرچہ امام صاحب کی بعض عبارتیں مجمل ہیں جس کی غلط تعبیر کی جا سکتی ہے، جیسا کہ ان کے شاگرد علماء نے کی ہے۔ اس غلو کی ایک دو مثالیں ذکر کرنے کی جسارت کرتا ہوں شاید کہ ہم سلف کی فکر پر اکابرین کا محاکمہ کرنے کی ہمت پائیں۔

۔۔۔۔ غیر اللہ کی پکار ، غیر اللہ کی حاکمیت کا شرک ہونا جو ان اہل علم نے بیان کیا وہ بالکل درست تھا اور یہی سلف سے منقول منہج ہے، مگر اس بنیاد پر جہالت کے عذر کا کلی انکار جو ان علماء کے ہاں پایا گیا ہے، وہ اس تکفیری سوچ کی بنیاد ہے جس کے برے نتیجے آج خود سلفی بھی اٹھا رہے ہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے واضح پر طور ایسے علماء اور عوام کو مسلمان سمجھنے کا مؤقف ملتا ہے کہ جو شبہات اور جہالت کی وجہ سے شرک کی کسی قسم میں واقع ہوتے ہیں۔ جبکہ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کے شاگرد اہل علم کے نزدیک یہ نرمی گمراہی بلکہ بعض کے نزدیک ارتداد ہے۔ عصر حاضر میں امام ابن عثیمین، امام البانی، جہادی علماء میں شیخ عطیۃ اللہ رحہم اللہ نے اس مؤقف کو رد کیا ہے۔ ان شاء اللہ دلائل کے ساتھ اس پر کسی دوسرے مضمون میں بات کروں گا۔

۔۔۔۔ دوسرا بڑا مسئلہ جو اسی سے نکلتا ہے وہ غیر اسلامی نظاموں کے حکم اور اس میں شمولیت کو ایک حکم دینا ہے۔ یقینا سیکولر فکر پر قائم نظام کے غیر اسلامی ہونے میں کوئی شک نہیں، لیکن اس میں شمولیت بالکل ایک الگ شرعی حکم رکھتا ہے۔ ان دونوں کو ایک حکم دینا خارجیت کے بیج بونا ہے۔ یہ اختلاف تو ہو سکتا ہے کہ کوئی عالم اس شرکت کو کسی وقت میں درست نہ جانے، یا اس سے منع کردے، یا اسے مصلحت کے خلاف قرار دے۔ لیکن شرکت کرنے والوں کو مرتد کافر قرار دینا نری جہالت ہے۔ (اس پر بھی الگ سے بات ہونے والی ہے )

۔۔۔۔ تیسرا بڑا مسئلہ برات اور اعلان بغاوت و نفرت و دشمنی کو ایسا واجب کرنا ہے کہ اس کے نہ تو کوئی اصول سکھائے جائیں اور نہ اس کا کوئی وقت اور حالات بتائے جائیں۔ بس ایمان کی فکر کرنی ہے تو آپ کو شرک کرنے والے ہر بندے سے دشمنی کا اعلان کرنا ہے، نفرت کا اظہار کرنا ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر اسے کافر کہنا ہے وگرنہ آپ خود کافر ہو جائیں گے۔ حالانکہ کتاب وسنت میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہایت حساس مسئلہ ہے، جسے نہایت گہرے علم رکھنے والے اہل علم کی سرپرستی، قدم قدم ان سے پوچھ کر حل ہونا ہے۔ نجد کے علمی ورثے میں اس مسئلے میں سب سے زیادہ شدت اختیار کی گئی۔

۔۔۔۔ چوتھا مسئلہ سلفی فکر میں معاشروں میں اترنے، ان میں کام کرنے، لوگوں سے حسن سلوک، صلہ رحمی، سمیت دین کے ایک بنیادی پہلو یعنی لوگوں سے اچھا اخلاق کا فقدان پایا جاتا ہے۔ مجھے ماننا ہے کہ اچھے اخلاق کو ہم سلفی کبھی رد نہیں کرتے، اسے مانتے ہیں مگر ہمارے اکابرین کی فکر میں اس پر کوئی محنت نہیں پائی جاتی۔ البتہ امام ابن تیمیہ اور ابن قیم اور سلف کے ہاں یہ محنت کا ایک باقاعدہ موضوع تھا جس پر انہوں نے اپنے پیروکاروں کی تربیت فرمائی۔ اور ایک ایسی جماعت تیار فرمائی جس نے امت کو اپنے اخلاق سے جیتا۔

۔۔۔۔ پانچواں مسئلہ توحید کی دعوت دینے کے حوالے سے غلو کا مسئلہ ہے۔ توحید کی دعوت کا یہ مطلب کہ بس توحید کی ہی دعوت دی جائے اور کسی نیکی کا تو ذکر ہی حرام ہے جب تک کہ توحید کو منوا نہ لیا جائے۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ کی دعوت کا تعارف کروانے والے کفار یہ تعارف کرواتے ہیں کہ وہ صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں، مساکین کو کھانا کھلانے کی تلقین کرتے ہیں، ظلم سے منع کرتے ہیں اور بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں۔ یہی باتیں جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے نجاشی کے دربار میں بیان فرمائیں تھیں۔ پھر توحید کی دعوت کا بھی صرف یہی مطلب کہ لوگوں کو شرک سے روکا جائے۔ توحید کی دعوت میں اثبات کا پہلو اللہ کی محبت اور اللہ کی صفات کے بیان کا پہلو جو سلف کے ہاں بہت زیادہ پایا گیا، دو سو سال کے سلفی ورژن میں اس کی شدید کمی ہے۔

ان مسائل سے جو نتائج نکلے ہیں ذرا ن پر بھی غور کرلیں۔ شدت کا انجام ہمیشہ برا ہی نکلا کرتا ہے۔ اس بات کا ذکر احادیث نبویہ میں بھی فرمایا گیا کہ شدت ہلاکت کا باعث ہے۔ ہماری اس سلفی فکر کا کیا نتیجہ ہوا ملاحظہ فرمائیں۔

1۔ بدعملی کا عروج
سلفی حضرات میں جو لوگ معاشرے میں کسی سطح پر مؤثر ہوئے خاص کر کے سیاست کے میدان میں، ان پر اس شدت پسند فکر کا رد عمل یوں ہوا کہ وہ عملی میدان میں اس سے بالکل ہی الگ دکھائی دیے۔ کھلم کھلا شرک کرنے والوں کی تکفیر تو دور کی بات ان کے شرکیہ پروگراموں کا حصہ بننے لگے۔ شرک کا بیان ہی جاتا رہا۔ درباروں سے جلوسوں کی ابتداء ہوئی بلکہ درباریوں کو ہی اپنا قبلہ و قائد مان لیا گیا۔ آج تک نوازشریف کا نام زبانوں اور دلوں پر جاری ہے۔ یہی کچھ مصر میں النور نے کیا کہ سیسی کے قدموں میں جا بیٹھے اور یوں امت کی نگاہ میں ذلیل و خوار ہوئے۔

2۔ متضاد رویے
اب چونکہ فکر تو وہی شدت پر مبنی تھی لہذا اس شدت کے لیے مسجد و مدرسے کو چن لیا گیا، یہاں سے امت کا سوچنے کے بجائے بس جماعت کو ہی امت ماننے والے تیار ہونے لگے۔ منبر و محراب دیگر مسالک کے خلاف آگ لگانے کا ٹھکانہ بنے، اور یوں مساجد میں آنے والی امت میں سے جو اپنی مرید ہوسکا اسے مرید کرلیا اور باقی کو اپنے سے بلکہ دین سے بدظن! سیکولرازم کے پھیلنے کا ایک بڑا سبب ہماری مذہبی شدت پسندی ہے۔

3۔ بے سکون گھر
جس فکر میں نہ اخلاق کی دعوت ہو اور نہ تزکیہ نفس کی مجالس، وہ خاک گھروں اور معاشروں کو سکون دے گی۔ آج ہمارے گھروں کی بےسکونی کی بنیادی وجہ ہماری فکر میں تزکیہ نفس کا شامل نہ ہونا ہے۔

4۔ ارجاء
خود لوگوں کو شرک کرنے والوں کی بے لگام تکفیر سکھانے والوں نے جب دیکھا کہ لوگ اس بنیاد پر صرف عوام اور دیگر مسالک کو کافر نہیں کہتے بلکہ حکمرانوں پر بھی فتوے لگاتے ہیں، تو پھر بھاگ کر ارجاء کی گمراہی میں جا گھسے۔ ارجاء کو بھی باقاعدہ اپنایا ہوتا تو خیر ہوتی۔ وہ بھی بس مطلب کے لیے توڑ موڑ کر اپنا لیا۔ درس یہی رہا کہ جی شرک اکبر کرنے والے کے لیے علی الاطلاق کوئی عذر نہیں، وہ کافر اور مرتد ہے اور جب کسی نے فتوے کا رخ بادشاہ سلامت کی طرف کیا تو چیخنے لگے کہ بادشاہ پر فتویٰ نہیں لگ سکتا۔ گویا چاپلوسی اور مطلب پرستی ہی دین ٹھہرا۔

آخر میں کچھ بات مسئلہ کے حل کی کرتے ہیں:
ایک تو ہمیں اپنے ورثے کو خود سلف صالحین کی فکر پر پیش کر کے اصلاح کروانی چاہیے ۔ دوسرا سطحیت اور اجمال کو چھوڑ کر دین میں گہرائی حاصل کرنی چاہیے۔ کفر اور ایمان کے مسائل سیکھنے چاہییں۔ اس کے لیے راسخ اہل علم کا دامن تھامنے کی ضرورت ہے جو اللہ سے ڈرتے ہوئے دین کی تعلیم دیتے ہیں اور کسی ملامت کرنے والی کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔

آج اہل علم کا معاشروں میں اترنا ہی دین کا سب سے اہم تقاضا ہے وگرنہ یہ انٹرنیٹ کی ثقافت ہماری نسلوں کو بے دین بنارہی ہے اور مزید بربادیاں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں۔ بس ایک بات طے کرلینی ضروری ہے کہ ہماری محنت کا محور ہمارے معاشرے ہونے چاہییں اور یہ محنت صرف اور صرف علم اور تعلیم کے راستے سے ہونی چاہیے۔ بغاوت اور مار دھاڑ اور فتوے بازی ہمیں ایسی تنگ گلی میں لا کھڑا کرتی ہے کہ جہاں سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں۔ اس حوالے سے ان شاء اللہ مزید کچھ باتیں پھر کریں گے۔ اللہ سے ہدایت کی دعا کرتے ہیں۔

(سید عبدالعلام زیدی دارالحدیث محمدیہ ملتان کے فاضل اور ایم فل اسکالر ہیں.)