ہر سال لاکھوں پاکستانی کیوں مرتے ہیں؟ عثمان عابد

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ویکسین کی دستیابی کے باوجود ہر سال لاکھوں پاکستانی ہیپاٹائٹس، نمونیا، تشنج، خناق اور انفلونزا جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوکر کیوں مر رہے ہیں؟ پوری دُنیا سے پولیو کا خاتمہ ہونے کے باوجود پاکستان میں آج بھی پولیو کے دسیوں کیسز کیوں موجود ہیں؟ مؤثر ویکسین کی موجودگی کے باوجود آج بھی کروڑوں پاکستانی اِن مہلک انفیکشنز کے نشانے پر کیوں ہیں؟ آخر کیوں بالغ افراد کی بڑی تعداد نامکمل ویکسینیشن کا شکار کیوں ہے؟

یہاں ایک اور سوال بھی اُٹھتا ہے کہ کیا صحت کے شعبے میں ایسے تربیت یافتہ اور پروفیشنل افراد موجود ہیں جن میں اِس چیلنج کا سامنا کرنے کی صلاحیت ہو؟ خوش قسمتی سے اِس کا جواب ’’ہاں‘‘ میں ہے۔ ہمارے پاس فارماسسٹس کی صورت میں ایسے تربیت یافتہ اور پروفیشنلز کی پوری فوج موجود ہے جو بطور ’’ویکسین ایڈمنسٹریٹر‘‘ کروڑوں پاکستانیوں کی زندگیاں بچا سکتی ہے۔ اِس سے نہ صرف امیونائزیشن کا عمل بہتر ہوگا بلکہ اس کی شرح میں تیزی سے اضافہ بھی ممکن ہوسکے گا۔ رجسٹرڈ فارماسسٹ کی مناسب ٹریننگ کرکے اسے امیونائزیشن پروگرام کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اِس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں کیونکہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں پچھلے چوبیس سالوں سے فارماسسٹ امیونائزیشن پروگرام کا حصہ ہے۔ فارماسسٹ وہ واحد ہیلتھ کیئر پروفیشنل ہے جو ویکسین کی تیاری سے لے کر اس کی ڈسٹری بیوشن تک کے تمام مراحل میں موجود ہوتا ہے۔ امریکہ میں ہسپتال اور فارمیسیز سمیت تمام ہیلتھ کیئر سیٹنگز میں فارماسسٹ نہ صرف امیونائزیشن کے عمل کو بہتر بنا رہا ہے بلکہ اِس عمل کو تیز کرکے اِس کی شرح میں اضافہ بھی کررہا ہے۔

اَب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کا قانون فارماسسٹ کو اِس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ بطور ویکسین ایڈمنسٹریٹر کام کرسکے؟ تو جی ہاں، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ایکٹ 2012ء فارماسسٹ کو بطور ویکسین ایڈمنسٹریٹر کام کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ امریکہ جیسے ملک میں ویکسین ایڈمنسٹریٹر کرنا فارمیسی پریکٹس کا حصہ ہے۔ امریکن کالج آف فزیشن اور امریکن سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن جیسے ادارے فارماسسٹ کی بطور ویکسین ایجوکیٹر اور ایڈمنسٹریٹر مکمل طور پر سپورٹ کرتے ہیں۔

اَب یہاں اِس پروگرام کے مخالفین اعتراض کریں گے کہ اِس پروگرام کی آڑ میں دراصل فارماسسٹ پریسکرپشن کی اتھارٹی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اُن کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ویکسین کی ایڈمنسٹریشن پریسکرپشن آرڈر یا سٹینڈنگ آرڈر دونوں طریقوں سے کی جاسکتی ہے۔ اِس لیے فزیشن حضرات کو پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ بیماریوں سے بچائو اور کنٹرول کرنے والے بین الاقوامی اِدارے کی امیونائزیشن کمیٹی ترقی پذیر ممالک میں امیونائزیشن کی شرح کو بڑھانے کے لیے سٹینڈنگ آرڈر تجویز کرتی ہے۔ کمیٹی کی یہ تجویز فارماسسٹس کا حوصلہ بڑھاتی ہے کیونکہ دوسرے ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کے مقابلے میں فارماسسٹ زیادہ بہتر طریقے سے ویکسین ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام کرسکتا ہے۔ ہسپتالوں، کلینکس، فارمیسیز اور دیگر ہیلتھ کیئر آرگنائزیشنز میں فارماسسٹ جیسا کثیرالجہت کردار ادا کرنے والا پروفیشنل ہی کام کرسکتا ہے۔ سنٹر فار میڈی کیئر سروسز کے مطابق امیونائزیشن کے عمل میں اَب فیزیشنز کے آرڈرز کی ضرورت نہیں رہی۔ سٹینڈنگ آرڈر پروگرام کے تحت ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ فارماسسٹ کو بطور ویکسین ایڈمنسٹریٹر کام کرنے کی مکمل اَتھارٹی دیتا ہے۔

امریکا میں فارماسسٹ کا بطور ویکسین ایڈمنسٹریٹر سفر:
پچھلی دو دہائیوں سے امریکہ میں فارماسسٹ بطور ویکسین ایڈمنسٹریٹر کام کر رہا ہے۔ یہ 1993ء کی بات ہے جب امریکن ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹری ڈونا شالالہ نے امریکن فارماسسٹ ایسوسی ایشن سے درخواست کی کہ وہ امیونائزیشن کی شرح میں اضافہ کے لیے فارماسسٹ کے کردار کو واضح کرے۔ امریکن فارماسسٹ ایسوسی ایشن نے بڑی مستعدی سے اس پر کام کیا اور مناسب ٹریننگ کے بعد فارماسسٹس بطور ویکسین ایجوکیٹر اور ایڈمنسٹریٹر کام کرنے لگے اور چند ہی مہینوں میں امیونائزیشن کی شرح میں اضافہ کرکے اپنی قابلیت کو منوا لیا۔ فارماسسٹس کی ٹریننگ کے لیے پہلا امیونائزیشن ٹریننگ پروگرام 1994ء (واشنگٹن) میں منعقد ہوا۔ ٹریننگ کے ساتھ ساتھ فارماسسٹس کو فزیشنز کی جانب سے مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا کیونکہ ٹریننگ کے بعد فارماسسٹ آزادانہ طور پر بطور ویکسین ایڈمنسٹریٹر کام کرنے لگے تھے۔ فارماسسٹس کی قابلیت اور صلاحیت دیکھتے ہوئے آخرکار امریکن فزیشنز نے بھی ہتھیار ڈال دئیے اور امریکن کالج آف فزیشنز نے فارماسسٹ کی بطور ویکسین ایڈمنسٹریٹر حمایت کا اعلان کردیا۔ اس اعلان کے بعد فارماسسٹس کو امریکن نیشنل ویکسین ایڈوائزری کمیٹی میں بطور پالیسی ساز شامل کرلیا گیا۔ امریکن کالج آف فزیشنز کی حمایت کے باوجود بھی مریض کی بحالی صحت میں فارماسسٹ کا آزادنہ کردار بہت سے فزیشن کو نہ بھایا اور وہ فارماسسٹس کے ساتھ مخالفانہ رویہ اپنانے لگے۔ آخرکار 2013ء میں امریکن سینٹ میں بل منظور ہوا اور فارماسسٹ آزادانہ طور پر بطور امیونائزیشن پریکٹیشنر کام کرنے لگے۔

ویکسین ایجوکیٹر:
کمیونٹی فارماسسٹ مریضوں کی بحالی صحت کے لیے ایک قابل قدر پروفیشنل ہے۔ بطور ویکسین ایجوکیٹر، فارماسسٹ مریض کو ویکسین کی اہمیت و ضرورت بارے آگاہ کرتا ہے۔ ویکسین کے بارے میں مناسب آگاہی، سکریننگ ٹیسٹ اور تجاویز کی بدولت پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں امیونائزیشن کی شرح بڑھ سکتی ہے۔ پوری دُنیا میں فارماسسٹ مریضوں کی سکریننگ اور بطور ویکسین ایجوکیٹر کامیابی سے کردار ادا کررہا ہے۔ مریضوں کی بحالی صحت کی مینجمنٹ اور میڈیکیشن ریکارڈ کی بدولت فارماسسٹ اِس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ فارمیسی ڈیٹا کو استعمال کرکے اُن مریضوں کی شناخت کرسکے جنہیں ویکسین کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ذیابیطس / سانس کی بیماری میں مبتلا مریض اور پیسنٹھ سال سے زائد وہ مریض جن کا مدافعاتی نظام کمزور ہوچکا تھا انہیں نیومو کوکل ویکسینیشن کروانے کا مشورہ دیا گیا۔

امیونائزر:
امریکن فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے مطابق 2013ء میں فارماسسٹس نے 86% کمیونٹی سیٹنگز پر ویکسین ایڈمنسٹریٹر کی۔ ہر گزرتے دِن کے ساتھ فارمیسیز پر ویکسین لگوانے والے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا گیا۔ بطور امیونائزر، فارماسسٹ مریض کی سابقہ ہسٹری کو مدنظر رکھتے ہوئے ویکسین ایڈمنسٹر کرتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہ فارماسسٹ غیرمؤثر رہے جو خود ویکسین ایڈمنسٹر کرنے کی بجائے محض فزیشن کو یاددہانی کرواتے تھے۔ کمیونٹی فارمیسی پر امیونائزیشن سروسز سستی، آسان اور عوام کی دسترس میں ہوتی ہیں، جہاں وہ بڑی آسانی کے ساتھ ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ ویکسینیشن کے عمل میں سب سے بڑی رُکاوٹ سنٹر تک آسان رسائی ہے۔ بطور امیونائزر اور ویکسین ایڈمنسٹریٹر فارماسسٹ مریض کو کہیں اور بھیجنے کی بجائے خود ویکسین لگا سکے گا، جس سے امیونائزیشن کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔

پبلک ایجوکیشن:
مقامی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے فارماسسٹ سکریننگ کیمپ لگا کر اور عوامی سیمینارز منعقد کروا کر عوام کو امیونائزیشن سے متعلق آگاہ کرتا ہے۔ نیوز لیٹرز، پوسٹرز، بروشرز اور سیمینارز کے ذریعے فارمیسی سٹاف اور فامیسی وزٹ کرنے والے مریضوں کو انفیکشن سے بچائو سے متعلق آگاہ کرنا بھی فارماسسٹ کی ذمہ داری ہے۔ فارمیسی یا لوکل سنٹر پر ویکسین ایڈمنسٹریشن سے قیمت پر بھی اثر پڑے گا اور کسٹمر پر مالی بوجھ بھی کم ہوگا۔ 2012ء میں جب امریکہ کے بالغ افراد کو فارمیسی پر ویکسین ایڈمنسٹریشن کی سہولت دی گئی تو امیونائزیشن کی شرح حیرت انگیز طور پر دو سالوں میں ہی 20% بڑھ گئی۔ کمیونٹی فارماسسٹ صحت سے متعلق بہت سے مسائل پر توجہ دے سکتا ہے۔ مریضوں نے بھی حکومت کے اس کام کو سراہا۔ اُن کا کا کہنا تھا کہ فارمیسیز پر ہی ویکسینیشن کی سہولت سے اُن کا بہت سا قیمتی وقت اور رقم بچ گئی کیونکہ ہم کمیونٹی فارماسسٹ سے وقت لیے بغیر کسی بھی وقت مل سکتے ہیں۔ آپ کو نہ ہی انتظار کرنا پڑتا ہے اور نہ ہی آپ سے اِس کی مد میں فیس لی جاتی ہے۔ اِس سہولت کے میسر ہونے سے مریضوں کی بہت بڑی تعداد کو فائدہ حاصل ہوا۔

ویکسین مینجمنٹ:
اپنی مہارت اور ٹریننگ کی بدولت فارماسسٹ ویکسین کی تیاری سے لے کر اُس کی ایڈمنسٹریشن تک کے پورے عمل کو بڑی آسانی سے مینج کرلیتا ہے۔ فارماسسٹ بین الاقوامی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے ویکسین کی مناسب سٹوریج، کوالٹی اور مؤثر استعمال کو یقینی بناتا ہے۔ کولڈ چین کے عمل کو برقرار رکھنے سمیت ویکسینیشن سے متعلق تمام پہلوئوں کو جانچنے کے لیے فارماسسٹ کی نگرانی بےحد ضروری ہے۔

توجہ طلب اُمور:
وقت کے ساتھ ساتھ فارمیسی پروفیشن بہت زیادہ ترقی کررہا ہے۔ وہ فارمیسیز جو محض پراڈکٹ تقسیم کرنے کا ذریعہ تھیں۔ اَب وہاں مریضوں کی بحالی صحت پر بھی کام ہورہا ہے۔ پاکستان میں جلد ہی فارماسسٹس کے لیے ایک سالہ انٹرن شپ کا آغاز ہورہا ہے، جس سے فارماسسٹس کی عملی طور پر ٹریننگ ہوگی۔ اَب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں بھی فارمیسی کیئر امیونائزیشن پروگرام کا جلد از جلد آغاز کیا جائے۔ اِس پروگرام کے تحت فارماسسٹس کو نیشنل امیونائزیشن پروگرام کے جھنڈے تلے بطور ویکسین ایڈمنسٹریٹر ٹریننگ دی جائے گی۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں کروڑوں افراد ویکسینیشن کے لیے منتظر ہیں۔ حکومت وقت کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ بین الاقوامی گائیڈ لائن کے مطابق رجسٹرڈ فارماسسٹس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ویکسینیشن ٹریننگ پروگرام منعقد کروائے اور وفاق، صوبے، ڈویژن، ڈسٹرکٹ اور تحصیل کی سطح پر فارماسسٹس کو تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ کمیونٹی فارمیسیز پر فارماسسٹ کی موجودگی کو یقینی بنائے۔ اِس سے پاکستان میں نہ صرف امیونائزیشن کی شرح میں اضافہ ہوگا بلکہ فارماسسٹ کی صورت میں ہزاروں ہیلتھ کیئر پروفیشنلز عوام کی خدمت کے لیے دستیاب ہوں گے۔ میری وزیراعظم، فیڈرل و صوبائی ہیلتھ منسٹر سمیت صحت کے شعبے سے منسلک تمام سٹیک ہولڈرز سے درخواست ہے کہ اِس منصوبے کو فوری عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ صحت کے شعبے میں حقیقی تبدیلی لائی جاسکے۔