قرآن مجید، صحیفۂ بے مثال - محمد ریاض علیمی

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے اور رہتی دنیا تک کے لیے معجزہ ہے۔ یہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ قرآن کریم اسلامی تعلیمات کا اولین ماخذ ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی مثل کوئی کتاب نہیں۔ اس کی فصاحت، بلاغت ، اندازِ بیان، اسلوب اور نظم و ترتیب میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ یہ کتاب ہر لحاظ سے بے مثل ہے ۔

نزولِ قرآن کے وقت عرب میں بے شمار فصیح اللسان خطیب و شاعر تھے ۔ انہوں نے اپنی زبان دانی پر ناز کرتے ہوئے یہ الزام لگایا کہ یہ آسمانی کتاب نہیں ہے بلکہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی بنالی ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو چیلنج کیاکہ اگر یہ واقعی کسی بشر کی کتاب ہے تو تم بھی ایسی دس سورتیں لے آؤ کیونکہ انسان اگر ایسا کلام بناسکتا ہے تو اس کے مثل بنانا تمہاری طاقت سے باہر نہ ہوگا، تم بھی عربی ہو، فصیح و بلیغ ہو، کوشش کرو ۔ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ یہ کلام انسان کا بنایا ہوا ہے تو اللہ رب العزت کے سوا جو مل سکیں سب کو اپنی مدد کے لیے بلالو۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’کیا یہ کہتے ہیں : یہ قرآن نبی نے خود ہی بنالیا ہے۔ آپ فرمادیجیے :(اگر یہ بات ہے ) تو تم (بھی)ایسی بنائی ہوئی دس سورتیں لے آؤ اور اپنی مدد کے لیے اللہ کے سوا جس کو بلاسکتے ہو بلالو اگر تم سچے ہو‘‘۔ (سورۃ الھود: 13)۔ یہ چیلنج صرف ایک مرتبہ نہیں بلکہ قرآن مجید میں چار مختلف مقامات پر مختلف انداز سے چیلنج کیا گیا۔ ایک مقام پر تو معترضین کو یہاں تک کہا گیا کہ اگر اپنے ساتھ پوری دنیا کے انسانوں اور جنات کو بھی ملالو تو پھر بھی اس قرآن کی مثل نہیں لاسکتے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’فرمادیجیے : اگر تمام انسان اور جنات مل کر اس جیسا قرآن لانا چاہیں تو نہیں لاسکتے اگر چہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں‘‘۔(سورۃ بنی اسرائیل: 88ٌ) ۔ پھر اس چیلنج کو مزید ووسعت دی گئی ۔ نیا چیلنج اس انداز سے کیا گیا کہ پورا قرآن چھوڑو اگر تمہیں اپنی بیان دانی اور فصاحت پر ناز ہے تو پوری دنیا کے لوگوں کو ساتھ ملا کراس جیسی صرف ایک ہی سورت لے آؤ۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور اگر تمہیں اس کتاب کے بارے میں کوئی شک ہو جو ہم نے اپنے خاص بندے پرنازل کی ہے تو تم اس جیسی ایک سورت بنالاو اور اللہ کے علاوہ اپنے سب مددگاروں کو بلالو اگر تم سچے ہو‘‘۔(سورۃ البقرۃ: 23)۔ اسی طرح ایک اور آیت میں اس چیلنج کو دہرا یا گیا: ’’کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس (نبی)نے اسے خود ہی بنالیا ہے ؟ تم فرماؤ:تو تم (بھی)اس جیسی کوئی ایک سورت لے آؤ اور اللہ کے سوا جو تمہیں مل سکیں سب کو بلا لاؤاگر تم سچے ہو‘‘۔ (سورۂ یونس: 38)۔ جب کفار اس چیلنج سے عاجز آگئے تو ان کے سامنے بے مثل قرآن کے اعجاز کا اظہار اس انداز سے کیا گیا کہ اگرتم اس جیسا قرآن نہیںلاسکتے، یا اس جیسی دس سورتیں نہیں لاسکتے ، یا اس جیسی ایک بھی سورت نہیں لاسکتے توصرف ایک بات ہی لے آؤ۔ ارشاد ہوا: ’’ بلکہ وہ کہتے ہیں کہ اس نبی نے یہ قرآن خود ہی بنالیا ہے بلکہ وہ ایمان نہیں لاتے۔

اگر یہ سچے ہیں تو اس جیسی ایک بات تو لے آئیں۔‘‘ (سورۃ الطور: 33۔34) ۔ قرآن مجید میں چار مرتبہ مختلف انداز سے چیلنج کیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ کفار کے اس الزام کا بطلان ظاہر ہوجائے اور مسلمانوں کے عقیدے اور ایمان کو پختگی حاصل ہو کہ یہ قرآن من جانب اللہ ہے اور کلام الٰہی ہے۔کفار کے اعتراض کا باربارشدو مد کے ساتھ بطلان کیا گیا۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے دوسرے انداز سے قرآن کی عظمت کا اظہار فرمایا: ’’بے شک ہم نے اس ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں‘‘۔ (سورۃ الحجر: 9)اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنی ذات کو جمع کے صیغہ کے ساتھ تعبیر فرمایا ہے حالا نکہ اللہ تعالی واحد ہے۔ اس کی تو جیہہ میں امام فخرالدین رازی لکھتے ہیں: ہرچند کہ یہ جمع کا صیغہ ہے لیکن بادشاہوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی عظمت کا اظہار کرنے کے لیے خود کو جمع کے صیغے سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ ان میں سے جب کوئی کام کرتا ہے یا کوئی بات کہتا ہے تو وہ یوں کہتا ہے کہ ہم نے یہ کام کیا یا ہم نے یہ بات کہی۔(تفسیر کبیر)۔ پیر کرم شاہ الازہری لکھتے ہیں:اس آیت میں تین مرتبہ ضمیر متکلم کا بیک وقت تکرار (انا۔ نحن۔ نزلنا) جس تاکید بالائے تاکید پر دلالت کر رہا ہے۔

وہ اہل علم سے مخفی نہیں اور ضمیریں بھی جمع متکلم کی استعمال ہوئیں جو نازل کرنے والے کی عظمت وکبریائی کا اظہار کر رہی ہیں۔ یعنی ہم جو سارے جہانوں کے خالق ومالک ہیں ہم جن کی فرمانروائی کا ڈنکا زمین و فلک، فرش و عرش پر بج رہا ہے ہم نے اس کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔ اس میں کسی قسم کی تحریف یا کمی بیشی کا کوئی امکان نہیں۔ آج چودہ صدیاں گزرچکی ہیں لیکن دشمنان اسلام کی خواہشوں، کوششوں اور سازشوں کے باوجود ایک آیت میں بھی ردو بدل نہیں ہوسکا۔ ایک نقطہ کی کمی بیشی اور زیروزبر کا فرق بھی تو نہیں ہوا۔ آج بھی لاکھوں انسان اسے اپنے سینوں میں محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ اگر خدانخواستہ سارے لکھے ہوئے قرآنی نسخے نایاب ہوجائیں تو پھر بھی یہ جوں کا توں محفوظ رہے گا۔ اگر کوئی جابر سے جابر حکمران اور کوئی بڑے سے بڑا عالم اسے پڑھتے ہوئے زیرکو زبر میں بدل دے تو سات آٹھ سال کا بچہ اسے ٹوک دے گا۔ آج دنیا میں کوئی ایسی کتاب نہیں جس کا مصنف یا جس کے ماننے والے اس کے متعلق یہ دعویٰ کرسکیں۔ مذہبی صحائف جو دنیا کی مختلف قوموں کی عقیدت کا مرکز ہیں۔ ان کے ماننے والوں کا بھی یہ دعوی نہیں کہ ان کے مذہبی صحیفے ہر قسم کے ردوبدل سے پاک ہیں۔

صرف قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہے کہ باطل اس میں کسی جانب سے داخل نہیں ہوسکتا۔ اور ان چودہ صدیوں کے طویل عرصہ میں اسلام کا کوئی بدترین بدخواہ بھی یہ ثابت نہیں کرسکا کہ اس میں کوئی تحریف ہوئی ہو، یورپ کے مستشرقین جنہوں نے اپنے وسیع علم، بے عدیل ذہانت اور طویل عزیز عمریں قرآن کے اس دعوے کو غلط ثابت کرنے کے لیے صرف کیں، وہ بھی آخر کار یہ ماننے پر مجبور ہوگئے کہ یہ کتاب ہر قسم کی تحریف اور تغیر سے پاک ہے۔

میور (MUIR) سے زیادہ دشمن اسلام کون ہوگا۔ اسلام اور بانی اسلام کے خلاف اس کی زہر افشانیاں رسوائے عالم ہیں۔ اسے بھی یہ لکھنا پڑا (THERE IS PROBABLY IN THE WORLD NO OTHER BOOK WHICH HAS REMAINED TWELVE CENTURIES WITH SO PUREATEXT.) یعنی اغلبا دنیا میں قرآن کے علاوہ کوئی ایسی اور کتاب نہیں جس کا متن بارہ صدیوں تک ہر قسم کی تحریف سے یوں پاک رہا ہو۔(ضیاء القرآن)
قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود اپنے اوپر لے رکھی ہے۔ اس لیے اس میں کسی قسم کے ردو بدل یا اس کا کوئی حصہ ضائع ہونے کا اندیشہ باقی نہیں رہتا ۔ نہ اس میں کوئی چیز شامل کی جاسکتی ہے اور نہ اس میں سے کوئی چیز ختم کی جاسکتی ہے۔ قرآن آج بھی ویسا ہی ہے جیسا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا۔ چودہ سو سال سے زیادہ کا وعرصہ گزرنے کے باوجود اس میں ایک حرف کی تبدیلی بھی نہیں ہوئی۔ ایک وصف اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ ’’لاریب فیہ‘‘ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ آیت کے اس حصے میں قران مجید کا ایک وصف بیان کیاگیا کہ یہ ایسی بلند شان اور عظمت و شرف والی کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ شک اس چیز میں ہوتا ہے جس کی حقانیت پر کوئی دلیل نہ ہو

جبکہ قرآن پاک اپنی حقانیت کی ایسی واضح اور مضبوط دلیلیں رکھتا ہے جو ہر صاحب انصاف اورعقلمند انسان کو اس بات کا یقین کرنے پر مجبور کردیتی ہیں کہ یہ کتاب حق ہے اور اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوئی ہے ،تو جیسے کسی اندھے کے انکار سے سورج کا وجود مشکوک نہیں ہوتا ایسے ہی کسی بے عقل مخالف کے شک اور انکار کرنے سے یہ کتاب مشکوک نہیں ہوسکتی۔ (صراط الجنان) دنیا کی ہر کتاب میں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی جگہ سے کوئی خطاء اور کوئی غلطی اور کوئی تعارض اور تضاد واقع ہوجاتا ہے صرف اللہ کی کتاب قرآن مجید ایسی کتاب ہے جس میں کسی وجہ سے کہیں کوئی اختلاف اور تضاد نہیں ہے۔قرآن مجید جا بجا غورو تدبر کرنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قرآن مجید کی پیروی کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اس کتاب کی پیروی کے ذریعے کچھ لوگوں کو بلندی عطافرماتا ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے پر بعض لوگوں کو گراتاہے۔ (مسلم :817)۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ مسلمان جب تک قرآنی تعلیمات و ہدایات پر عمل پیرا رہے وہ دنیا میں غالب اور سربلندرہے۔ انہوں نے دنیا کے بہت بڑے حصے پر حکومت کی اور دنیا کو اعلیٰ تہذیب و تمدن اور بہترین نظام زندگی دیا۔ قرآن کریم آج بھی زندہ معجزہ ہے۔ مسلمان آج بھی اس کی تعلیمات پر عمل کرکے اپنا کھویا ہوا مقام اور وقار دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں۔